جب قارون نے اپنی دولت اور مالداری پر غرور کیا، اور اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو ٹھکرایا، اور اپنی قوم کے سامنے زور و شوکت اور عیش و عشرت کا اظہار کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنا عذاب نازل فرمایا۔ چنانچہ اس کی سزا یہ ہوئی کہ اللہ نے اسے اور اس کے پورے گھر کو زمین میں دھنسا دیا۔ وہ اپنی دولت، اپنے محل، اپنے خزانے اور اپنے ساتھیوں سمیت زمین میں اس طرح غرق ہو گیا کہ اس کا کوئی نشان باقی نہ رہا۔
اس وقت اس کے پاس نہ کوئی جماعت تھی جو اللہ کے عذاب سے اسے بچا سکتی، نہ کوئی مددگار جو اس کی حمایت کرتا، اور نہ ہی وہ خود اپنے آپ کو اس عذاب سے بچا سکا۔ وہ ان لوگوں میں سے نہ تھا جو غالب آ سکیں یا عذاب الٰہی سے نکل بھاگنے کی طاقت رکھتے ہوں۔
یہ واقعہ ہر اس شخص کے لیے عبرت کا نشان ہے جو مال و دولت، جاہ و منصب، یا طاقت پر بھروسہ کرتا ہے اور اللہ کی نافرمانی پر اتر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی گرفت بہت سخت ہے، اور جب وہ کسی کو پکڑتا ہے تو کوئی اسے چھڑا نہیں سکتا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ دنیا کی دولت اور ظاہری شان و شوکت کبھی بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے، مغرور نہ ہو، اور یاد رکھے کہ اصل عزت اور طاقت تو اللہ کے پاس ہے۔ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اور اس کی اطاعت کرتا ہے، وہی حقیقی کامیاب ہے، چاہے اس کے پاس دنیا کا مال کم ہو۔ اور جو شخص اللہ کی نافرمانی پر اتر آئے، اس کا انجام قارون جیسا ہی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، وہ توبہ کرنے والوں کو معاف کر دیتا ہے، لیکن سرکشی اور غرور کرنے والوں کے لیے اس کا عذاب بہت سخت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہمیشہ اللہ کے سامنے عاجزی اور انکساری اختیار کریں، اور اپنے مال و دولت کو اپنے لیے فخر کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ اسے اللہ کی رضا کے لیے خرچ کریں۔
تو (ایک روز) قارون (بڑی) آرائش (اور ٹھاٹھ) سے اپنی قوم کے سامنے نکلا۔ جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے کہ جیسا (مال ومتاع) قارون کو ملا ہے کاش ایسا ہی ہمیں بھی ملے۔ وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے
اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تم پر افسوس۔ مومنوں اور نیکوکاروں کے لئے (جو) ثواب خدا (کے ہاں تیار ہے وہ) کہیں بہتر ہے اور وہ صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملے گا
اور وہ لوگ جو کل اُس کے رتبے کی تمنا کرتے تھے صبح کو کہنے لگے ہائے شامت! خدا ہی تو اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ اگر خدا ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا۔ ہائے خرابی! کافر نجات نہیں پا سکتے
وہ (جو) آخرت کا گھر (ہے) ہم نے اُسے اُن لوگوں کے لئے (تیار) کر رکھا ہے جو ملک میں ظلم اور فساد کا ارادہ نہیں رکھتے اور انجام (نیک) تو پرہیزگاروں ہی کا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔