لقمان · 32/34
ترجمہ تلفظ — لقمان
وَإِذَا غَشِيَهُم مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُورٍ ۝٣٢
Wa izaa ghashiyahum mawjun kazzulali da`a-wul laaha mukhliseena lahud deena fa lammaa najjaahum ilal barri faminhum muqtasid; wa maa yajhadu bi Aayaatinaa illaa kullu khattaarin kafoor
📖 اردو ترجمہ
اور جب اُن پر (دریا کی) لہریں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو خدا کو پکارنے (اور) خالص اس کی عبادت کرنے لگتے ہیں پھر جب وہ اُن کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو بعض ہی انصاف پر قائم رہتے ہیں۔ اور ہماری نشانیوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن اور ناشکرے ہیں

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • غَشِيَهُم: انہیں ڈھانپ لیا، گھیر لیا
  • كَالظُّلَلِ: بادلوں کی طرح (جو پہاڑوں کی مانند بلند ہوں)
  • مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ: صرف اللہ کو پکارتے ہوئے، کسی شریک کے بغیر
  • مُقْتَصِدٌ: میانہ رو، جو اپنے عہد پر قائم رہے
  • خَتَّارٌ: بہت زیادہ دھوکہ دینے والا، عہد شکن
  • كَفُورٌ: ناشکری کرنے والا، احسان فراموش

تفسیر:

جب یہ مشرک لوگ سمندر میں سفر کرتے ہیں اور ان پر موجیں پہاڑوں اور بادلوں کی طرح بلند ہو کر ٹوٹتی ہیں، اور ہر طرف سے پانی ہی پانی نظر آتا ہے، تو ان کی ساری فکریں ختم ہو جاتی ہیں، ان کے سارے معبود ان کے ذہنوں سے محو ہو جاتے ہیں، اور وہ خالص دل سے صرف اللہ کو پکارتے ہیں۔ اس وقت وہ کسی بت کو، کسی بزرگ کو، کسی نبی کو نہیں پکارتے، بلکہ صرف اللہ کی ذات کو یاد کرتے ہیں، کیونکہ ان کی فطرت جانتی ہے کہ اس مصیبت سے نجات دینے والا صرف وہی ہے۔

پھر جب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انہیں اس خطرناک سمندر سے نکال کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے، تو ان میں سے کچھ لوگ میانہ روی اختیار کرتے ہیں، یعنی وہ اپنے اس عہد پر قائم رہتے ہیں جو انہوں نے سمندر میں اللہ سے کیا تھا، اور کچھ لوگ اپنے عہد کو توڑ دیتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہماری نشانیوں اور ہماری قدرت کے دلائل کا انکار صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو انتہائی دھوکہ باز، عہد شکن اور احسان فراموش ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر تو ہمیں بچا لے گا تو ہم تیرے شکر گزار بندے بنیں گے، لیکن جب اللہ انہیں بچا لیتا ہے تو وہ اپنے عہد کو بھول جاتے ہیں اور کفر و ناشکری پر اتر آتے ہیں۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک بہت بڑا سبق سکھاتی ہے۔ کیا آپ نے غور کیا کہ جب انسان مصیبت میں ہوتا ہے تو وہ فطری طور پر صرف اللہ کو پکارتا ہے؟ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کا دل فطرتاً اللہ کی طرف مائل ہے۔ لیکن افسوس! جب مصیبت ٹل جاتی ہے تو ہم اللہ کو بھول جاتے ہیں۔

کیا ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو بیمار ہوتے ہیں تو اللہ سے دعائیں مانگتے ہیں، لیکن جب شفا مل جاتی ہے تو نماز بھول جاتے ہیں؟ کتنے لوگ ہیں جو امتحان میں ہوتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، لیکن کامیابی ملتے ہی اللہ سے منہ موڑ لیتے ہیں؟

اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں ہر حال میں اللہ کا شکر گزار بندہ بننا چاہیے، چاہے مصیبت میں ہوں یا خوشحالی میں۔ جو شخص اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، اللہ اسے مزید نعمتیں دیتا ہے، اور جو ناشکری کرتا ہے، وہ اللہ کے عذاب کا مستحق بنتا ہے۔

آئیے ہم عہد کریں کہ ہم اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو نبھائیں گے، ہر حال میں اس کا شکر ادا کریں گے، اور اس کی نشانیوں پر غور کریں گے تاکہ ہم ان لوگوں میں سے نہ ہوں جو عہد شکن اور احسان فراموش ہیں۔ اللہ ہمیں شکر گزار بندے بننے کی توفیق دے۔ آمین۔



📜 آیت 30-34 — لقمان

30ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ الْبَاطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ
یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں وہ لغو ہیں اور یہ کہ خدا ہی عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے
31أَلَمْ تَرَ أَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللَّهِ لِيُرِيَكُم مِّنْ آيَاتِهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی کی مہربانی سے کشتیاں دریا میں چلتی ہیں۔ تاکہ وہ تم کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائے۔ بیشک اس میں ہر صبر کرنے والے (اور) شکر کرنے والے کے لئے نشانیاں ہیں
32وَإِذَا غَشِيَهُم مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُم مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُورٍ
اور جب اُن پر (دریا کی) لہریں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو خدا کو پکارنے (اور) خالص اس کی عبادت کرنے لگتے ہیں پھر جب وہ اُن کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو بعض ہی انصاف پر قائم رہتے ہیں۔ اور ہماری نشانیوں سے وہی انکار کرتے ہیں جو عہد شکن اور ناشکرے ہیں
33يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا ۚ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ
لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو اور اُس دن کا خوف کرو کہ نہ تو باپ اپنے بیٹے کے کچھ کام آئے۔ اور نہ بیٹا باپ کے کچھ کام آسکے۔ بیشک خدا کا وعدہ سچا ہے پس دنیا کی زندگی تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے۔ اور نہ فریب دینے والا (شیطان) تمہیں خدا کے بارے میں کسی طرح کا فریب دے
34إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
خدا ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینھہ برساتا ہے۔ اور وہی (حاملہ کے) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (کہ نر ہے یا مادہ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا۔ اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اُسے موت آئے گی بیشک خدا ہی جاننے والا (اور) خبردار ہے
لقمانقرآن فہرست
34آیت
مکیRevelation
32آیت

ترجمہ — لقمان 32

سورہ لقمان آیت 32 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب اُن پر (دریا کی) لہریں سائبانوں کی طرح…

سورہ آیت 32/34 — لقمان لقمان (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: لقمان سنیں, لقمان ترجمہ, لقمان mp3, لقمان pdf. آیت 30–34. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں