غافر · 4/85
ترجمہ تلفظ — سورہ غافر
مَا يُجَادِلُ فِي آيَاتِ اللَّهِ إِلَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَا يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ ۝٤
Maa yujaadilu feee Aayaatil laahi illal lazeena kafaroo falaa yaghrurka taqallubuhum fil bilaad
📖 اردو ترجمہ
خدا کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں۔ تو ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • یُجَادِلُ: جھگڑا کرتا ہے، بحث و تکرار کرتا ہے۔
  • آیَاتِ اللہِ: اللہ کی نشانیاں، اس کی وحدانیت اور اس کے رسولوں کی صداقت پر دلالت کرنے والی دلائل۔
  • تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ: ان کا ملکوں میں آنا جانا، تجارت اور کاروبار کے لیے پھرنا، اور دنیاوی نعمتوں میں مشغول رہنا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں ایک اہم حقیقت بیان فرماتے ہیں کہ اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑا اور انہیں باطل قرار دینے کی کوشش صرف وہی لوگ کرتے ہیں جنہوں نے کفر اختیار کر لیا ہے۔ ان کے دلوں میں فطرت کی پاکیزگی نہیں رہی، اس لیے وہ حق کو دیکھ کر بھی اسے ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے، کبھی کہتے ہیں کہ یہ کاہنوں کا قول ہے، کبھی اسے اگلے لوگوں کی کہانیاں قرار دیتے ہیں، اور کبھی یہ الزام لگاتے ہیں کہ اسے کسی انسان نے سکھایا ہے۔ یہ سب باتیں ان کے کفر اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہیں۔

یاد رکھیں کہ قرآن کے بارے میں جھگڑا دو طرح کا ہوتا ہے: ایک وہ جو حق کو دبانے اور باطل کو پھیلانے کے لیے ہوتا ہے، یہ کافروں کا طریقہ ہے۔ دوسرا وہ جھگڑا جو حق کو سمجھنے، اس کی حقیقت کو جاننے اور اس کے پیچھے چلنے کے لیے ہوتا ہے، یہ مومنین کا شیوہ ہے اور یہ عبادت کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اے محمد! ان کافروں کا ملکوں میں چلنا پھرنا، تجارت میں کامیابی، اور دنیاوی خوشحالی آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے۔ یہ ان کی سزا کا انتظار نہیں ہے، بلکہ یہ ان کے لیے ڈھیل ہے اور استدراج ہے۔ اللہ انہیں مہلت دیتا ہے تاکہ وہ مزید گناہوں میں مبتلا ہوں، اور پھر انہیں آخرت میں سخت عذاب دیا جائے گا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ حق کے راستے پر چلنے والوں کو کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، چاہے باطل کے علمبردار دنیا میں کتنی ہی ترقی اور خوشحالی کیوں نہ پا لیں۔ یہ دنیا کی چمک دمک فانی ہے، اور آخرت کی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کے ساتھ محبت کریں، اس پر غور کریں، اور اس کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیاں سنواریں۔ جو لوگ قرآن کو جھٹلاتے ہیں، ان کی حالت پر افسوس کریں، لیکن ان کی دنیاوی ترقی دیکھ کر اپنے ایمان میں کمزوری نہ آنے دیں۔ اللہ اپنے مخلص بندوں کے ساتھ ہے، اور وہی ان کی مدد کرتا ہے۔



📜 آیت 2-6 — سورہ غافر

2تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
اس کتاب کا اتارا جانا خدائے غالب ودانا کی طرف سے ہے
3غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ
جو گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے اور سخت عذاب دینے والا اور صاحب کرم ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کی طرف پھر کر جانا ہے
4مَا يُجَادِلُ فِي آيَاتِ اللَّهِ إِلَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَا يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ
خدا کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں۔ تو ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے
5كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَالْأَحْزَابُ مِن بَعْدِهِمْ ۖ وَهَمَّتْ كُلُّ أُمَّةٍ بِرَسُولِهِمْ لِيَأْخُذُوهُ ۖ وَجَادَلُوا بِالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوا بِهِ الْحَقَّ فَأَخَذْتُهُمْ ۖ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ
ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد اور اُمتوں نے بھی (پیغمبروں کی) تکذیب کی۔ اور ہر اُمت نے اپنے پیغمبر کے بارے میں یہی قصد کیا کہ اس کو پکڑ لیں اور بیہودہ (شہبات سے) جھگڑتے رہے کہ اس سے حق کو زائل کردیں تو میں نے ان کو پکڑ لیا (سو دیکھ لو) میرا عذاب کیسا ہوا
6وَكَذَٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّهُمْ أَصْحَابُ النَّارِ
اور اسی طرح کافروں کے بارے میں بھی تمہارے پروردگار کی بات پوری ہوچکی ہے کہ وہ اہل دوزخ ہیں
غافرقرآن فہرست
85آیت
مکیRevelation
4آیت

ترجمہ — غافر 4

سورہ غافر آیت 4 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : خدا کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر…

سورہ آیت 4/85 — سورہ غافر غافر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ غافر سنیں, سورہ غافر ترجمہ, سورہ غافر mp3, سورہ غافر pdf. آیت 2–6. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Monday, September 7, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں