فصلت · 34/54
ترجمہ تلفظ — فصلت
وَلَا تَسۡتَوِي ٱلۡحَسَنَةُ وَلَا ٱلسَّيِّئَةُۚ ٱدۡفَعۡ بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ فَإِذَا ٱلَّذِي بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهُۥ عَدَٰوَةٌ كَأَنَّهُۥ وَلِيٌّ حَمِيمٌ  ۝٣٤
Wa laa tastawil hasanatu wa las saiyi`ah; idfa` billatee hiya ahsanu fa`izal lazee bainaka wa bainahoo `adaawatun ka`annahoo waliyun hameem
📖 اردو ترجمہ
اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی۔ تو (سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو (ایسا کرنے سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • حَسَنَة: نیکی، بھلائی، پسندیدہ کام۔
  • سَیِّئَة: برائی، گناہ، ناپسندیدہ کام۔
  • ادْفَعْ: دفع کرو، ٹالو، مقابلہ کرو۔
  • بِالَّتِی هِیَ أَحْسَنُ: اس طریقے سے جو سب سے بہتر ہو۔
  • عَدَاوَةٌ: دشمنی، عداوت۔
  • وَلِیٌّ: دوست، مددگار، قریب۔
  • حَمِیمٌ: گرم جوش دوست، خیر خواہ، شفیق رشتہ دار۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں ایک عظیم اخلاقی اصول بیان فرما رہے ہیں۔ نیکی اور بدی کبھی برابر نہیں ہو سکتیں۔ نیکی وہ چیز ہے جو اللہ کو راضی کرتی ہے اور بندے کو بلندی عطا کرتی ہے، جبکہ بدی اللہ کی ناراضگی اور انسان کی پستی کا سبب بنتی ہے۔ یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتی ہیں؟ ہرگز نہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ جب کوئی شخص تمہارے ساتھ برائی کرے، تمہیں تکلیف پہنچائے یا تم سے دشمنی رکھے، تو تم اس کا جواب بدی سے نہ دو، بلکہ اس احسن طریقے سے دفع کرو جو سب سے بہتر ہو۔ یعنی اس کی برائی کے بدلے نیکی کرو، اس کی سختی کے بدلے نرمی، اس کی جہالت کے بدلے حلم اور اس کی زیادتی کے بدلے درگزر اور معافی۔

اس حکم کا نتیجہ اللہ تعالیٰ خود بیان فرما رہے ہیں کہ جب تم ایسا کرو گے تو تمہارا سخت دشمن جو تم سے عداوت رکھتا تھا، وہ ایسا ہو جائے گا جیسے تمہارا گرم جوش دوست اور شفیق رشتہ دار ہو۔ یہ ایک حیرت انگیز تبدیلی ہے جو حسنِ اخلاق سے پیدا ہوتی ہے۔

یہ وہ مقام ہے جو صبر کرنے والوں کو حاصل ہوتا ہے، جو اپنے نفس کو اس چیز پر مجبور کرتے ہیں جو اللہ کو پسند ہے، چاہے وہ نفس کی خواہش کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ یہ وہ عظیم فضیلت ہے جو صرف انہیں نصیب ہوتی ہے جن کا حصہ اللہ کی رحمت اور سعادت سے بڑا ہوتا ہے۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں اسلام کا وہ حسین ترین چہرہ دکھاتی ہے جو امن، محبت اور رواداری پر مبنی ہے۔ ہمارا دین ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم معاف کرنے والے بنیں، درگزر کرنے والے بنیں، اور برائی کا جواب بھلائی سے دیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے، خاندانوں کو بچاتا ہے، اور معاشرے میں محبت کا ماحول پیدا کرتا ہے۔ جب آپ کسی سے بدلہ لینے کا دل چاہے تو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہتر راستہ دکھایا ہے۔ معاف کرنے والا کبھی ذلیل نہیں ہوتا، بلکہ اللہ اسے عزت دیتا ہے۔ آج ہی سے اپنے گھر، اپنے معاشرے اور اپنی زندگی میں اس خوبصورت اخلاق کو اپنائیں، اور دیکھیں کہ کس طرح دشمنی محبت میں بدل جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 32-36 — فصلت

32نُزُلًا مِّنۡ غَفُورٍ رَّحِيمٍ 
(یہ) بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہے
33وَمَنۡ أَحۡسَنُ قَوۡلًا مِّمَّن دَعَآ إِلَى ٱللَّهِ وَعَمِلَ صَٰلِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ 
اور اس شخص سے بات کا اچھا کون ہوسکتا ہے جو خدا کی طرف بلائے اور عمل نیک کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں
34وَلَا تَسۡتَوِي ٱلۡحَسَنَةُ وَلَا ٱلسَّيِّئَةُۚ ٱدۡفَعۡ بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ فَإِذَا ٱلَّذِي بَيۡنَكَ وَبَيۡنَهُۥ عَدَٰوَةٌ كَأَنَّهُۥ وَلِيٌّ حَمِيمٌ 
اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی۔ تو (سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو (ایسا کرنے سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے
35وَمَا يُلَقَّىٰهَآ إِلَّا ٱلَّذِينَ صَبَرُواْ وَمَا يُلَقَّىٰهَآ إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ 
اور یہ بات ان ہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو برداشت کرنے والے ہیں۔ اور ان ہی کو نصیب ہوتی ہے جو بڑے صاحب نصیب ہیں
36وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ ٱلشَّيۡطَٰنِ نَزۡغٌ فَٱسۡتَعِذۡ بِٱللَّهِۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ 
اور اگر تمہیں شیطان کی جانب سے کوئی وسوسہ پیدا ہو تو خدا کی پناہ مانگ لیا کرو۔ بےشک وہ سنتا جانتا ہے
فصلتقرآن فہرست
54آیت
مکیRevelation
34آیت

ترجمہ — فصلت 34

سورہ آیت 34/54 — فصلت فصلت (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فصلت سنیں, فصلت ترجمہ, فصلت mp3, فصلت pdf. آیت 32–36. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں