بھلا جو شخص اپنے پروردگار (کی مہربانی) سے کھلے رستے پر (چل رہا) ہو وہ ان کی طرح (ہوسکتا) ہے جن کے اعمال بد انہیں اچھے کرکے دکھائی جائیں اور جو اپنی خواہشوں کی پیروی کریں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آيا كسى كه از جانب پرردگارش دليل روشنى دارد، همانند كسانى است كه كردار بدشان در نظرشان آراسته شده و از پى هواهاى خود مىروند؟
بھلا جو شخص اپنے پروردگار (کی مہربانی) سے کھلے رستے پر (چل رہا) ہو وہ ان کی طرح (ہوسکتا) ہے جن کے اعمال بد انہیں اچھے کرکے دکھائی جائیں اور جو اپنی خواہشوں کی پیروی کریں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بَیِّنَة: واضح دلیل، روشن برہان، یقینی دلیل۔
زُیِّنَ: خوشنما بنا دیا گیا، خوبصورت دکھایا گیا۔
سُوءُ عَمَلِهِ: اس کے عمل کی برائی، قبیح کام۔
اَهْوَاءَهُم: اپنی خواہشات، نفسانی خواہشیں۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان واضح فرق بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا جو شخص اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل اور واضح برہان پر ہو، یعنی اسے اپنے رب کی وحدانیت، رسالت اور آخرت پر یقین کامل ہو اور وہ بصیرت کے ساتھ اپنے دین پر قائم ہو، وہ اس شخص کے برابر ہو سکتا ہے جس کے لیے اس کے برے اعمال کو خوشنما بنا دیا گیا ہو؟ یعنی شیطان نے اس کے قبیح کاموں کو اس کی نظر میں خوبصورت بنا دیا ہو، اور وہ لوگ اپنی خواہشاتِ نفسانی کی پیروی کرتے ہوئے بتوں کی عبادت، گناہوں کے ارتکاب اور رسولوں کی تکذیب پر اڑے ہوئے ہوں۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے استفہام انکاری کے انداز میں یہ حقیقت واضح کی ہے کہ ان دونوں میں کوئی برابری نہیں ہو سکتی۔ جس طرح اندھا اور بینا برابر نہیں ہو سکتے، اسی طرح وہ شخص جو حق پر ہو اور وہ شخص جو باطل پر ہو، دونوں کبھی یکساں نہیں ہو سکتے۔ مومن اپنے رب کی طرف سے آنے والی روشن دلیل پر چلتا ہے، اس کا راستہ یقین اور بصیرت کا راستہ ہے، جبکہ کافر اپنی خواہشات کا غلام ہے، شیطان نے اس کے لیے برائی کو مزین کر دیا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایمان کی دولت سب سے بڑی نعمت ہے۔ جو شخص اپنے رب کی طرف سے ملنے والی ہدایت پر چلتا ہے، اس کی زندگی مقصد اور سکون سے بھرپور ہوتی ہے۔ وہ ہر قدم پر اللہ کی رضا کا طالب ہوتا ہے اور اس کا دل نورِ ایمان سے منور ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنی خواہشات کا پیروکار بن جاتا ہے، وہ شیطان کے بہکاوے میں آکر برائی کو بھی بھلائی سمجھنے لگتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دین کو سمجھ کر اس پر عمل کریں، کیونکہ تقلید اور اندھی پیروی کے بجائے بصیرت والا ایمان ہی حقیقی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق اور باطل کو باطل دیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کو خدا بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل فرمائے گا۔ اور جو کافر ہیں وہ فائدے اٹھاتے ہیں اور (اس طرح) کھاتے ہیں جیسے حیوان کھاتے ہیں۔ اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے
اور بہت سی بستیاں تمہاری بستی سے جس (کے باشندوں نے تمہیں وہاں) سے نکال دیا زور وقوت میں کہیں بڑھ کر تھیں ہم نے ان کا ستیاناس کردیا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوا
بھلا جو شخص اپنے پروردگار (کی مہربانی) سے کھلے رستے پر (چل رہا) ہو وہ ان کی طرح (ہوسکتا) ہے جن کے اعمال بد انہیں اچھے کرکے دکھائی جائیں اور جو اپنی خواہشوں کی پیروی کریں
جنت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بو نہیں کرے گا۔ اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلے گا۔ اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہے۔ اور شہد مصفا کی نہریں ہیں (جو حلاوت ہی حلاوت ہے) اور (وہاں) ان کے لئے ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے۔ (کیا یہ پرہیزگار) ان کی طرح (ہوسکتے) ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جن کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا
اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو تمہاری طرف کان لگائے یہاں تک کہ (سب کچھ سنتے ہیں لیکن) جب تمہارے پاس سے نکل کر چلے جاتے ہیں تو جن لوگوں کو علم (دین) دیا گیا ہے ان سے کہتے ہیں کہ (بھلا) انہوں نے ابھی کیا کہا تھا؟ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کے پیچھے چل رہے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔