Wa ka ayyim min qaryatin hiya ashaddu quwwatam min qaryatikal lateee akhrajatka ahlaknaahum falaa naasira lahum
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور بہت سی بستیاں تمہاری بستی سے جس (کے باشندوں نے تمہیں وہاں) سے نکال دیا زور وقوت میں کہیں بڑھ کر تھیں ہم نے ان کا ستیاناس کردیا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چه قريههايى كه مردمش از مردم قريه تو، كه از آن بيرونت كردند، بسى نيرومندتر بودند كه هلاكشان كرديم و هيچ يارىكنندهاى نداشتند.
اور بہت سی بستیاں تمہاری بستی سے جس (کے باشندوں نے تمہیں وہاں) سے نکال دیا زور وقوت میں کہیں بڑھ کر تھیں ہم نے ان کا ستیاناس کردیا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
وَکَاَیِّن مِّن قَرْیَةٍ: بہت سی بستیوں میں سے کتنے ہی (لوگ)
اَشَدُّ قُوَّةً: زیادہ طاقت ور، زیادہ مضبوط
قَرْیَتِکَ الَّتِی اَخْرَجَتْکَ: آپ کی بستی (مکہ) جس کے لوگوں نے آپ کو نکالا
اَهْلَکْنَاهُمْ: ہم نے انہیں ہلاک کر دیا
فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ: پس ان کا کوئی مددگار نہ تھا
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے حبیبِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی اور اہلِ مکہ کو ڈراوتا ہے۔ فرماتا ہے: اے نبی! آپ کی بستی مکہ کے ظالموں نے آپ کو نکال دیا، لیکن کیا انہوں نے سمجھ لیا کہ وہ بہت طاقتور ہیں؟ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ اس سے پہلے بہت سی بستیاں اور قومیں تھیں جو مکہ والوں سے کہیں زیادہ طاقتور تھیں — ان کے پاس زیادہ مال، زیادہ اولاد، زیادہ فوجیں اور مضبوط قلعے تھے۔ لیکن جب انہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور سرکشی کی، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کر دیا۔ نہ ان کی قوتِ بازو کام آئی، نہ ان کے خزانے، نہ ان کے بیٹے — کوئی مددگار نہ تھا جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔
یہ آیت مسلمانوں کے لیے بھی بہت بڑی تسلی ہے۔ جب کفارِ مکہ نے مسلمانوں کو ستایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وطن چھوڑنے پر مجبور کیا، تو اللہ نے فرمایا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی بہت سی قومیں اپنے انبیاء کو ستا چکی ہیں، لیکن انجام ان کا ہلاکت اور بربادی تھا۔ پس اے مسلمانو! تم صبر کرو، کیونکہ اللہ کی مدد ضرور آئے گی۔ اور اے ظالمو! تم اپنی طاقت پر مغرور نہ ہو، کیونکہ اللہ کی گرفت بہت سخت ہے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اصل طاقت اللہ کی ہے، انسانوں کی طاقت عارضی ہے۔ جو لوگ اللہ کے دین کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ آخرکار ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں، اللہ انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ یہی وہ ایمان ہے جو مسلمانوں کو ہر دور میں صبر اور استقامت عطا کرتا ہے۔ آج بھی اگر ہم اس حقیقت کو سمجھ لیں کہ اللہ کی مدد صبر اور تقویٰ کے ساتھ ہے، تو ہم کسی ظالم طاقت سے نہیں ڈریں گے۔
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کو خدا بہشتوں میں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں داخل فرمائے گا۔ اور جو کافر ہیں وہ فائدے اٹھاتے ہیں اور (اس طرح) کھاتے ہیں جیسے حیوان کھاتے ہیں۔ اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے
اور بہت سی بستیاں تمہاری بستی سے جس (کے باشندوں نے تمہیں وہاں) سے نکال دیا زور وقوت میں کہیں بڑھ کر تھیں ہم نے ان کا ستیاناس کردیا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوا
بھلا جو شخص اپنے پروردگار (کی مہربانی) سے کھلے رستے پر (چل رہا) ہو وہ ان کی طرح (ہوسکتا) ہے جن کے اعمال بد انہیں اچھے کرکے دکھائی جائیں اور جو اپنی خواہشوں کی پیروی کریں
جنت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بو نہیں کرے گا۔ اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلے گا۔ اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے (سراسر) لذت ہے۔ اور شہد مصفا کی نہریں ہیں (جو حلاوت ہی حلاوت ہے) اور (وہاں) ان کے لئے ہر قسم کے میوے ہیں اور ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے۔ (کیا یہ پرہیزگار) ان کی طرح (ہوسکتے) ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور جن کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا تو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔