Qul lilmukhallafeena minal A`raabi satud`awna ilaa qawmin ulee baasin shadeedin tuqaati loonahum aw yuslimoona fa in tutee`oo yu`tikumul laahu ajran hasananw wa in tatawallaw kamaa tawallaitum min qablu yu`azzibkum `azaaban aleemaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جو گنوار پیچھے رہ گئے تھے ان سے کہہ دو کہ تم ایک سخت جنگجو قوم کے (ساتھ لڑائی کے) لئے بلائے جاؤ گے ان سے تم (یا تو) جنگ کرتے رہو گے یا وہ اسلام لے آئیں گے۔ اگر تم حکم مانو گے تو خدا تم کو اچھا بدلہ دے گا۔ اور اگر منہ پھیر لو گے جیسے پہلی دفعہ پھیرا تھا تو وہ تم کو بری تکلیف کی سزا دے گا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
به اعراب باديهنشين كه از جنگ تخلف ورزيدهاند، بگو: به زودى براى جنگ با مردمى سخت نيرومند فراخوانده مىشويد كه با آنها بجنگيد يا مسلمان شوند. اگر اطاعت كنيد خدايتان پاداشى نيكو خواهد داد و اگر، همچنان كه پيش از اين سر برتافتهايد، سر برتابيد شما را به عذابى دردآور عذاب مىكند.
جو گنوار پیچھے رہ گئے تھے ان سے کہہ دو کہ تم ایک سخت جنگجو قوم کے (ساتھ لڑائی کے) لئے بلائے جاؤ گے ان سے تم (یا تو) جنگ کرتے رہو گے یا وہ اسلام لے آئیں گے۔ اگر تم حکم مانو گے تو خدا تم کو اچھا بدلہ دے گا۔ اور اگر منہ پھیر لو گے جیسے پہلی دفعہ پھیرا تھا تو وہ تم کو بری تکلیف کی سزا دے گا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مُخَلَّفِین: پیچھے چھوڑ دیے گئے لوگ، یعنی وہ بدو جو سفرِ حدیبیہ سے پیچھے رہ گئے تھے۔
اَعْرَاب: صحرائی بدو، دیہاتی عرب۔
اُولِی بَاْسٍ شَدِیْد: سخت طاقت والے، جنگی قوت میں بہت مضبوط۔
یُسْلِمُوْنَ: اسلام لے آئیں، اطاعت قبول کر لیں۔
تَتَوَلَّوْا: منہ موڑو، اعراض کرو۔
تفسیر:
اے نبیﷺ! آپ اُن بدوؤں سے کہہ دیجیے جو حدیبیہ کے موقع پر آپ کے ساتھ جانے سے پیچھے رہ گئے تھے، کہ عنقریب تمہیں ایک ایسی قوم کی طرف بلایا جائے گا جو جنگی قوت میں نہایت سخت اور طاقتور ہے۔ تم ان سے قتال کرو گے یا وہ خود اسلام قبول کر لیں گے، یعنی تمہارے سامنے دو ہی راستے ہیں: یا تو وہ مسلمان ہو جائیں گے، ورنہ تمہیں ان سے لڑنا ہی پڑے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد ارتداد اختیار کیا تھا، اس لیے ان سے جزیہ قبول نہیں کیا جائے گا، بلکہ انہیں اسلام یا تلوار میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اگر تم اس حکم کی تعمیل کرو گے اور ان سے جہاد کرو گے تو اللہ تمہیں بہترین اجر عطا فرمائے گا، جو دنیا میں غنیمت اور آخرت میں جنت ہے۔ لیکن اگر تم نے اطاعت سے منہ موڑا، جیسا کہ تم نے پہلے حدیبیہ کے موقع پر منہ موڑا تھا، تو اللہ تمہیں دردناک عذاب میں مبتلا کرے گا، جو جہنم کی آگ ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں مسلمانوں کے لیے عظیم سبق ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد اور اس کی اطاعت کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ جو لوگ اپنی جان و مال سے اللہ کے دین کی خدمت کرتے ہیں، اللہ انہیں دنیا میں عزت اور آخرت میں جنت عطا فرماتا ہے۔ پیچھے رہ جانے والوں کے لیے یہ تنبیہ ہے کہ اللہ کے حکم سے روگردانی کرنا سخت عذاب کا سبب بنتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دین کے لیے ہمیشہ تیار رہیں اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کریں، کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اس کا اجر بہت عظیم ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اسلام کی دعوت ہمیشہ جاری رہتی ہے، اور جو لوگ حق کو قبول کر لیں وہ سلامتی پاتے ہیں، ورنہ انہیں اپنے انجام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اللہ ہمیں اپنی اطاعت اور اس کے دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
جب تم لوگ غنیمتیں لینے چلو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ کہیں گے ہمیں بھی اجازت دیجیئے کہ آپ کے ساتھ چلیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے قول کو بدل دیں۔ کہہ دو کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اسی طرح خدا نے پہلے سے فرما دیا ہے۔ پھر کہیں گے (نہیں) تم تو ہم سے حسد کرتے ہو۔ بات یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں مگر بہت کم
جو گنوار پیچھے رہ گئے تھے ان سے کہہ دو کہ تم ایک سخت جنگجو قوم کے (ساتھ لڑائی کے) لئے بلائے جاؤ گے ان سے تم (یا تو) جنگ کرتے رہو گے یا وہ اسلام لے آئیں گے۔ اگر تم حکم مانو گے تو خدا تم کو اچھا بدلہ دے گا۔ اور اگر منہ پھیر لو گے جیسے پہلی دفعہ پھیرا تھا تو وہ تم کو بری تکلیف کی سزا دے گا
نہ تو اندھے پر گناہ ہے (کہ سفر جنگ سے پیچھے رہ جائے) اور نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ بیمار پر گناہ ہے۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کے فرمان پر چلے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اور جو روگردانی کرے گا اسے برے دکھ کی سزا دے گا
(اے پیغمبر) جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو خدا ان سے خوش ہوا۔ اور جو (صدق وخلوص) ان کے دلوں میں تھا وہ اس نے معلوم کرلیا۔ تو ان پر تسلی نازل فرمائی اور انہیں جلد فتح عنایت کی
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔