فتح · 15/29
ترجمہ تلفظ — فتح
سَيَقُولُ الْمُخَلَّفُونَ إِذَا انطَلَقْتُمْ إِلَىٰ مَغَانِمَ لِتَأْخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعْكُمْ ۖ يُرِيدُونَ أَن يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللَّهِ ۚ قُل لَّن تَتَّبِعُونَا كَذَٰلِكُمْ قَالَ اللَّهُ مِن قَبْلُ ۖ فَسَيَقُولُونَ بَلْ تَحْسُدُونَنَا ۚ بَلْ كَانُوا لَا يَفْقَهُونَ إِلَّا قَلِيلًا ۝١٥
Sa yaqoolul mukhalla foona izan talaqtum ilaa maghaanima litaakhuzoohaa zaroonaa nattabi`kum yureedoona any yubaddiloo Kalaamallaah; qul lan tattabi`oonaa kazaalikum qaalal laahu min qablu fasa yaqooloona bal tahsudoonanna; bal kaanoo laa yafqahoona illaa qaleela
📖 اردو ترجمہ
جب تم لوگ غنیمتیں لینے چلو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ کہیں گے ہمیں بھی اجازت دیجیئے کہ آپ کے ساتھ چلیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے قول کو بدل دیں۔ کہہ دو کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اسی طرح خدا نے پہلے سے فرما دیا ہے۔ پھر کہیں گے (نہیں) تم تو ہم سے حسد کرتے ہو۔ بات یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں مگر بہت کم
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الْمُخَلَّفُونَ: وہ لوگ جو حدیبیہ کے سفر میں پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے، یعنی منافقین اور وہ کمزور ایمان والے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جانے سے انکار کیا تھا۔
  • مَغَانِمَ: غنیمتیں، مالِ غنیمت۔
  • ذَرُونَا: ہمیں چھوڑ دو، ہمیں اجازت دو۔
  • یُبَدِّلُوا: تبدیل کرنا، بدلنا۔
  • کَلَامَ اللہِ: اللہ کا وعدہ اور حکم۔
  • لَن تَتَّبِعُونَا: تم ہمارے ساتھ ہرگز نہیں چلو گے۔
  • یَفْقَهُونَ: سمجھنا، عقل سے کام لینا۔

تفسیر:

اے نبی کریم ﷺ! جب آپ اور آپ کے صحابہ کرام حدیبیہ کے صلح کے بعد خیبر کی طرف روانہ ہوں گے تاکہ وہ غنیمتیں حاصل کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ کیا ہے، تو وہ لوگ جو حدیبیہ کے سفر سے پیچھے رہ گئے تھے، وہ آپ سے کہیں گے: "ہمیں بھی اپنے ساتھ لے چلو، ہم بھی تمہارے ساتھ چلیں گے تاکہ ہم بھی ان غنیمتوں میں حصہ پائیں۔"

لیکن اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی یہ فیصلہ صادر فرما دیا تھا کہ خیبر کی غنیمتیں صرف انہی لوگوں کے لیے ہیں جنہوں نے حدیبیہ میں آپ ﷺ کے ساتھ بیعتِ رضوان میں شرکت کی تھی۔ یہ منافقین اللہ کے اس فیصلے کو بدلنا چاہتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کا وعدہ جو صرف اہلِ حدیبیہ کے ساتھ خاص تھا، اس میں وہ بھی شریک ہو جائیں۔

اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ان سے فرما دیں: "تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی یہ فرما دیا ہے کہ خیبر کی غنیمتیں صرف اہلِ حدیبیہ کے لیے ہیں۔"

اس پر یہ منافقین آپ سے کہیں گے: "یہ تمہاری حسد ہے، تم ہمیں اس لیے اپنے ساتھ نہیں لے جانا چاہتے تاکہ ہم بھی غنیمت میں حصہ نہ پائیں۔" لیکن حقیقت یہ نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ دین کی سمجھ ہی نہیں رکھتے، انہیں اللہ کے احکام اور اس کے وعدوں کی حقیقت کا علم نہیں، سوائے بہت تھوڑے سے علم کے جو انہیں دنیاوی مفادات تک محدود ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی رہنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ کے احکام کو اپنی عقل سے بدلنا چاہتے ہیں، وہ درحقیقت اپنے ایمان کی کمزوری ظاہر کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کے وعدوں پر یقین رکھیں اور اس کے فیصلوں کو خوشی سے قبول کریں۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی مقرر کیا ہے، وہی بہتر ہے، چاہے ہماری سمجھ میں نہ آئے۔ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دے، نہ کہ اپنی خواہشات کو اللہ کے حکم پر مقدم کرے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان کی حلاوت اور اللہ کی محبت کا ثبوت ملتا ہے۔ اللہ ہمیں اپنے احکام کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 13-17 — فتح

13وَمَن لَّمْ يُؤْمِن بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَإِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَعِيرًا
اور جو شخص خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان نہ لائے تو ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے
14وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا
اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کی ہے۔ وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے سزا دے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
15سَيَقُولُ الْمُخَلَّفُونَ إِذَا انطَلَقْتُمْ إِلَىٰ مَغَانِمَ لِتَأْخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعْكُمْ ۖ يُرِيدُونَ أَن يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللَّهِ ۚ قُل لَّن تَتَّبِعُونَا كَذَٰلِكُمْ قَالَ اللَّهُ مِن قَبْلُ ۖ فَسَيَقُولُونَ بَلْ تَحْسُدُونَنَا ۚ بَلْ كَانُوا لَا يَفْقَهُونَ إِلَّا قَلِيلًا
جب تم لوگ غنیمتیں لینے چلو گے تو جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ کہیں گے ہمیں بھی اجازت دیجیئے کہ آپ کے ساتھ چلیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے قول کو بدل دیں۔ کہہ دو کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اسی طرح خدا نے پہلے سے فرما دیا ہے۔ پھر کہیں گے (نہیں) تم تو ہم سے حسد کرتے ہو۔ بات یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں مگر بہت کم
16قُل لِّلْمُخَلَّفِينَ مِنَ الْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَىٰ قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ ۖ فَإِن تُطِيعُوا يُؤْتِكُمُ اللَّهُ أَجْرًا حَسَنًا ۖ وَإِن تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُم مِّن قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا
جو گنوار پیچھے رہ گئے تھے ان سے کہہ دو کہ تم ایک سخت جنگجو قوم کے (ساتھ لڑائی کے) لئے بلائے جاؤ گے ان سے تم (یا تو) جنگ کرتے رہو گے یا وہ اسلام لے آئیں گے۔ اگر تم حکم مانو گے تو خدا تم کو اچھا بدلہ دے گا۔ اور اگر منہ پھیر لو گے جیسے پہلی دفعہ پھیرا تھا تو وہ تم کو بری تکلیف کی سزا دے گا
17لَّيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ وَمَن يَتَوَلَّ يُعَذِّبْهُ عَذَابًا أَلِيمًا
نہ تو اندھے پر گناہ ہے (کہ سفر جنگ سے پیچھے رہ جائے) اور نہ لنگڑے پر گناہ ہے اور نہ بیمار پر گناہ ہے۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کے فرمان پر چلے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اور جو روگردانی کرے گا اسے برے دکھ کی سزا دے گا
فتحقرآن فہرست
29آیت
مدنیRevelation
15آیت

ترجمہ — فتح 15

سورہ فتح آیت 15 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب تم لوگ غنیمتیں لینے چلو گے تو جو لوگ…

سورہ آیت 15/29 — فتح الفتح (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فتح سنیں, فتح ترجمہ, فتح mp3, فتح pdf. آیت 13–17. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں