Yaaa ayyuhal lazeena aamanoo izaa tanaajaytum falaa tatanaajaw bil ismi wal `udwaani wa ma`siyatir rasooli wa tanaajaw bil birri wattaqwaa wattaqul laahal lazeee ilaihi tuhsharoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
مومنو! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکوکاری اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا۔ اور خدا سے جس کے سامنے جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہنا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اى كسانى كه ايمان آوردهايد، اگر با يكديگر نجوا مىكنيد، در باب گناه و دشمنى و نافرمانى از پيامبر نجوا مكنيد، بلكه در باب نيكى و پرهيزگارى نجوا كنيد. از آن خدايى كه همگان نزد او گرد مىآييد بترسيد.
مومنو! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکوکاری اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا۔ اور خدا سے جس کے سامنے جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہنا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
تَنَاجَيْتُمْ: ایک دوسرے سے سرگوشی یا خفیہ بات چیت کرو۔
بِالْإِثْمِ: گناہ اور برے کام پر مبنی بات۔
الْعُدْوَانِ: کسی پر ظلم، زیادتی یا ناحق حملہ۔
مَعْصِيَتِ الرَّسُولِ: رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی اور ان کے حکم کی خلاف ورزی۔
بِالْبِرِّ: نیکی، بھلائی اور خیر پر مبنی بات۔
التَّقْوَىٰ: پرہیزگاری، اللہ کا ڈر اور اس کی نافرمانی سے بچنا۔
تُحْشَرُونَ: جمع کیے جاؤ گے (قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے)۔
تفسیر:
اے ایمان والو! جب تم آپس میں سرگوشی کرو یا خفیہ مشورے کرو، تو اس کا مقصد کبھی گناہ، ظلم، یا رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی نہ ہو۔ یعنی تمہاری خفیہ باتیں ایسی نہ ہوں جن میں کسی کو نقصان پہنچانے کی سازش ہو، یا اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کا منصوبہ بنایا جا رہا ہو، یا نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو نظرانداز کرنے کی ترکیب سوچی جا رہی ہو۔ یہ سب کام منافقین اور یہود کا طریقہ تھا، جنہوں نے نبی ﷺ سے ملاقات کے دوران آپ کو تکلیف دینے اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے خفیہ باتیں کیں۔
اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ جب تم سرگوشی کرو تو وہ نیکی، بھلائی، پرہیزگاری اور تقویٰ پر مبنی ہو۔ یعنی آپس میں خیر کے مشورے کرو، کسی کی مدد کے لیے منصوبہ بناؤ، کسی مسلمان کی پریشانی دور کرنے کی تدبیر سوچو، یا کسی نیک کام کی راہ دکھاؤ۔ ایسی سرگوشی جو اللہ کی رضا کے لیے ہو، وہ تمہارے لیے باعثِ اجر و ثواب ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ تمہیں ڈراتے ہوئے فرماتے ہیں: "اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم جمع کیے جاؤ گے۔" یعنی یاد رکھو! تمہاری ہر بات، ہر سرگوشی، ہر خفیہ مشورہ اللہ کے علم میں ہے۔ قیامت کے دن تم سب کو اس کے سامنے حاضر ہونا ہے، اور تمہارے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ اس دن تمہاری خفیہ باتیں بھی ظاہر ہو جائیں گی، اور تمہیں اپنے اعمال کا پھل ملے گا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت مسلمانوں کو سکھاتی ہے کہ ہمارا ہر عمل، ہر بات، حتیٰ کہ سرگوشی بھی اللہ کی نگرانی میں ہے۔ ایک مومن کی زندگی شفاف ہونی چاہیے، اور اس کی خفیہ مجالس بھی خیر اور بھلائی کے لیے ہونی چاہئیں۔ اگر ہماری باتیں نیکی اور تقویٰ پر مبنی ہوں گی، تو ہماری زندگیاں بھی پرامن اور بابرکت ہوں گی، اور اللہ کی رحمت ہم پر نازل ہوگی۔ یاد رکھیں، جو لوگ برے مشوروں اور سازشوں میں وقت گزارتے ہیں، وہ آخرت میں پشیمان ہوں گے، جبکہ نیکی اور پرہیزگاری والے لوگ اللہ کی رحمت کے مستحق ہوں گے۔ آئیے ہم اپنی مجالس کو سنواریں، اپنی سرگوشیوں کو خیر کا ذریعہ بنائیں، اور اللہ کے ڈر کو اپنے دلوں میں زندہ رکھیں، کیونکہ اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔
کیا تم کو معلوم نہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے خدا کو سب معلوم ہے۔ (کسی جگہ) تین (شخصوں) کا (مجمع اور) کانوں میں صلاح ومشورہ نہیں ہوتا مگر وہ ان میں چوتھا ہوتا ہے اور نہ کہیں پانچ کا مگر وہ ان میں چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم یا زیادہ مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ کہیں ہوں۔ پھر جو جو کام یہ کرتے رہے ہیں قیامت کے دن وہ (ایک ایک) ان کو بتائے گا۔ بےشک خدا ہر چیز سے واقف ہے
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ پھر جس (کام) سے منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگے اور یہ تو گناہ اور ظلم اور رسول (خدا) کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں۔ اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو جس (کلمے) سے خدا نے تم کو دعا نہیں دی اس سے تمہیں دعا دیتے ہیں۔ اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں تو) جو کچھ ہم کہتے ہیں خدا ہمیں اس کی سزا کیوں نہیں دیتا؟ (اے پیغمبر) ان کو دوزخ (ہی کی سزا) کافی ہے۔ یہ اسی میں داخل ہوں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے
مومنو! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکوکاری اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا۔ اور خدا سے جس کے سامنے جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہنا
کافروں کی) سرگوشیاں تو شیطان (کی حرکات) سے ہیں (جو) اس لئے (کی جاتی ہیں) کہ مومن (ان سے) غمناک ہوں مگر خدا کے حکم کے سوا ان سے انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ تو مومنو کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسہ رکھیں
مومنو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کھل کر بیٹھو تو کھل بیٹھا کرو۔ خدا تم کو کشادگی بخشے گا۔ اور جب کہا جائے کہ اُٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہوا کرو۔ جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے خدا ان کے درجے بلند کرے گا۔ اور خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔