Alam tara ilal lazeena nuhoo `anin najwaa summa ya`oodoona limaa nuhoo `anhu wa yatanaajawna bil ismi wal`udwaani wa ma`siyatir rasooli wa izaa jaaa`ooka haiyawka bimaa lam yuhai yika bihil laahu wa yaqooloona fee anfusihim law laa yu`azzibunal laahu bimaa naqool; hasbuhum jahannnamu yaslawnahaa fabi`sal maseer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ پھر جس (کام) سے منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگے اور یہ تو گناہ اور ظلم اور رسول (خدا) کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں۔ اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو جس (کلمے) سے خدا نے تم کو دعا نہیں دی اس سے تمہیں دعا دیتے ہیں۔ اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں تو) جو کچھ ہم کہتے ہیں خدا ہمیں اس کی سزا کیوں نہیں دیتا؟ (اے پیغمبر) ان کو دوزخ (ہی کی سزا) کافی ہے۔ یہ اسی میں داخل ہوں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آيا آنها را كه از نجوا منع شده بودند نديدى كه كارى را كه از آن منع شده بودند از سر گرفتند و باز هم براى گناه و دشمنى و نافرمانى از پيامبر با هم نجوا مىكنند؟ و چون نزد تو مىآيند، به گونهاى تو را سلام مىگويند كه خدا تو را بدان گونه سلام نگفته است، و در دل مىگويند: چرا خدا ما را بدانچه مىگوييم عذاب نمىكند؟ جهنم برايشان كافى است. بدان داخل مىشوند، و اين بد سرانجامى است.
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ پھر جس (کام) سے منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگے اور یہ تو گناہ اور ظلم اور رسول (خدا) کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں۔ اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو جس (کلمے) سے خدا نے تم کو دعا نہیں دی اس سے تمہیں دعا دیتے ہیں۔ اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں تو) جو کچھ ہم کہتے ہیں خدا ہمیں اس کی سزا کیوں نہیں دیتا؟ (اے پیغمبر) ان کو دوزخ (ہی کی سزا) کافی ہے۔ یہ اسی میں داخل ہوں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
النجوی: چپکے سے سرگوشی کرنا، خفیہ باتیں کرنا۔
الإثم: گناہ، برا کام۔
العدوان: زیادتی، ظلم، حد سے تجاوز۔
معصیت الرسول: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی۔
حیّوک: آپ کو سلام کیا، تحیت پیش کی۔
السام: موت، ہلاکت۔
حسبهم: ان کے لیے کافی ہے۔
یصلونها: وہ اس میں داخل ہوں گے اور اس کی تپش کو بھگتیں گے۔
تفسیر:
اے نبی! کیا آپ نے ان لوگوں (یہود) کے حال پر غور نہیں کیا جنہیں سرگوشی کرنے سے منع کیا گیا تھا؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں چپکے سے باتیں کرنے سے روکا تھا کیونکہ اس سے مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے تھے اور انہیں تکلیف پہنچتی تھی۔ لیکن یہ لوگ اپنی پرانی عادت سے باز نہ آئے، وہ پھر سے اسی منع شدہ کام کی طرف لوٹ گئے۔ اب وہ سرگوشیاں کرتے ہیں جن میں گناہ، زیادتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی شامل ہوتی ہے۔ وہ مسلمانوں کے بارے میں بری باتیں کرتے، انہیں نقصان پہنچانے کی تدبیریں کرتے اور آپ کی مخالفت میں ایک دوسرے سے مشورے کرتے ہیں۔
اور جب یہ لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو وہ سلام نہیں کرتے جو اللہ نے آپ کے لیے مقرر کیا ہے، بلکہ اپنی زبان میں کہتے ہیں: "السام علیک" یعنی تم پر موت آئے! وہ لفظ "السلام" کو "السام" سے بدل دیتے ہیں تاکہ آپ کو ایذا دیں۔ پھر جب وہ آپ کے پاس سے نکلتے ہیں تو اپنے دلوں میں کہتے ہیں: "اگر یہ واقعی نبی ہوتا تو اللہ ہمیں اس بات کی سزا کیوں نہیں دیتا جو ہم اس سے کہتے ہیں؟" وہ اپنے اس قول سے آپ کی نبوت کا مذاق اڑاتے ہیں اور اللہ کے عذاب کو بعید سمجھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان کے اس رویے کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے: ان کے لیے جہنم کافی ہے! وہ اسی میں داخل ہوں گے اور اس کی آگ کا مزہ چکھیں گے۔ وہ کیسا برا ٹھکانا ہے! یہ ان کی سرکشی اور گستاخی کی سزا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کریں اور ان کی تعظیم کریں، کیونکہ ان کی تعظیم دراصل اللہ کی تعظیم ہے۔ دوسرے، ہمیں چاہیے کہ ہم کسی کی برائی چھپ کر نہ کریں، نہ کسی کو نقصان پہنچانے کی تدبیر کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر عمل کا حساب لے گا۔ تیسرے، ہمیں اپنی زبان کی حفاظت کرنی چاہیے، کیونکہ یہی وہ عضو ہے جو انسان کو جہنم میں لے جا سکتا ہے۔ آئیے ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور ان برائیوں سے بچیں جن کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے، تاکہ ہم اللہ کی رحمت اور اس کی جنت کے مستحق بن سکیں۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ صبر کرنے والا ہے، لیکن اس کی پکڑ بہت سخت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلیں اور ان کی اطاعت کریں، کیونکہ ان کی اطاعت ہی نجات کا ذریعہ ہے۔
کیا تم کو معلوم نہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے خدا کو سب معلوم ہے۔ (کسی جگہ) تین (شخصوں) کا (مجمع اور) کانوں میں صلاح ومشورہ نہیں ہوتا مگر وہ ان میں چوتھا ہوتا ہے اور نہ کہیں پانچ کا مگر وہ ان میں چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم یا زیادہ مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ کہیں ہوں۔ پھر جو جو کام یہ کرتے رہے ہیں قیامت کے دن وہ (ایک ایک) ان کو بتائے گا۔ بےشک خدا ہر چیز سے واقف ہے
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ پھر جس (کام) سے منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگے اور یہ تو گناہ اور ظلم اور رسول (خدا) کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں۔ اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو جس (کلمے) سے خدا نے تم کو دعا نہیں دی اس سے تمہیں دعا دیتے ہیں۔ اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں تو) جو کچھ ہم کہتے ہیں خدا ہمیں اس کی سزا کیوں نہیں دیتا؟ (اے پیغمبر) ان کو دوزخ (ہی کی سزا) کافی ہے۔ یہ اسی میں داخل ہوں گے۔ اور وہ بری جگہ ہے
مومنو! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکوکاری اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا۔ اور خدا سے جس کے سامنے جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہنا
کافروں کی) سرگوشیاں تو شیطان (کی حرکات) سے ہیں (جو) اس لئے (کی جاتی ہیں) کہ مومن (ان سے) غمناک ہوں مگر خدا کے حکم کے سوا ان سے انہیں کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ تو مومنو کو چاہیئے کہ خدا ہی پر بھروسہ رکھیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔