انعام · 153/165
ترجمہ تلفظ — انعام
وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ۝١٥٣
Wa annna haazaa Siraatee mustaqeeman fattabi`oohu wa laa tattabi`us subula fatafarraqa bikum `an sabeelih; zaalikum wassaakum bihee la`allakum tattaqoon
📖 اردو ترجمہ
اور یہ کہ میرا سیدھا رستہ یہی ہے تو تم اسی پر چلنا اور اور رستوں پر نہ چلنا کہ (ان پر چل کر) خدا کے رستے سے الگ ہو جاؤ گے ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم پرہیزگار بنو
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • صِرَاطِي: میرا راستہ، میرا دین۔
  • مُسْتَقِيمًا: سیدھا، جو کسی بھی طرف جھکا ہوا نہ ہو۔
  • السُّبُلَ: جمع ہے "سبیل" کی، یعنی مختلف راستے، گمراہ کن راہیں۔
  • فَتَفَرَّقَ بِكُمْ: تاکہ وہ تمہیں منتشر کر دیں، تمہیں الگ الگ کر دیں۔
  • سَبِيلِهِ: اللہ کا راستہ، اللہ کا دین۔
  • وَصَّاكُم بِهِ: اس کا تمہیں حکم دیا، اس کی وصیت کی۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے پناہ رحمت اور شفقت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ دینِ اسلام، جو میں نے تمہیں عطا کیا ہے، یہی میرا سیدھا راستہ ہے۔ یہ راستہ نہ دائیں طرف جھکتا ہے نہ بائیں، نہ اس میں کوئی کجی ہے، نہ کوئی پیچیدگی۔ یہ بالکل سیدھا راستہ ہے جو انسان کو دنیا کی بھلائی اور آخرت کی کامیابی تک پہنچاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اسی راستے پر چلو، اسے مضبوطی سے تھام لو، اور اس کے علاوہ دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو۔ یہ دوسرے راستے کیا ہیں؟ یہ وہ گمراہ کن راہیں ہیں جو شیطان اور نفسِ امّارہ انسان کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ یہ راستے بظاہر آسان اور دلکش لگتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ انسان کو اللہ کے راستے سے دور لے جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ان گمراہ کن راستوں کی پیروی کا انجام بھی بتا دیا کہ یہ تمہیں منتشر کر دیں گے، تمہیں آپس میں بٹا دیں گے، اور تمہیں اللہ کے سیدھے راستے سے دور کر دیں گے۔ جب انسان اللہ کے راستے سے ہٹتا ہے تو وہ تفرقہ، اختلاف اور انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج امت مسلمہ میں اتنا تفرقہ ہے کیونکہ ہم نے اللہ کے سیدھے راستے کو چھوڑ کر دوسری راہیں اختیار کر لی ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ حکم، یعنی سیدھے راستے پر چلنے اور دوسری راہوں سے بچنے کا حکم، وہی وصیت ہے جو اللہ نے تمہیں کی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ تم پرہیزگار بنو، اللہ کے عذاب سے بچو، اور اس کی نافرمانی سے محفوظ رہو۔ جب انسان سیدھے راستے پر چلتا ہے تو اس کا دل اللہ کی محبت سے بھر جاتا ہے، اس کے اعمال درست ہو جاتے ہیں، اور وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوتا ہے۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا سوچیں، اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے ایک واضح راستہ مقرر کر دیا ہے۔ وہ راستہ جو ہمیں جنت کی طرف لے جاتا ہے، جو ہمیں سکون اور اطمینان عطا کرتا ہے۔ کیا ہم اس راستے کو چھوڑ کر ان راہوں پر چلنا پسند کریں گے جو ہمیں تباہی کی طرف لے جائیں؟ ہرگز نہیں! اللہ کا راستہ قرآن اور سنت ہے۔ آئیے ہم اس راستے کو مضبوطی سے تھامیں، اس پر چلیں، اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بھی اس راستے کی دعوت دیں۔ یہی ہماری کامیابی ہے، یہی ہماری نجات ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 151-155 — انعام

151۞ قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۖ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُم مِّنْ إِمْلَاقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کر دی ہیں (ان کی نسبت اس نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے) کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ (سے بدسلوکی نہ کرنا بلکہ) سلوک کرتے رہنا اور ناداری (کے اندیشے) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا کیونکہ تم کو اور ان کو ہم ہی رزق دیتے ہیں اور بےحیائی کے کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا اور کسی جان (والے) کو جس کے قتل کو خدا نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی جس کا شریعت حکم دے) ان باتوں کا وہ تمہیں ارشاد فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو
152وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ ۖ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ۖ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۖ وَبِعَهْدِ اللَّهِ أَوْفُوا ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے اور ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق اور جب (کسی کی نسبت) کوئی بات کہو تو انصاف سے کہو گو وہ (تمہارا) رشتہ دار ہی ہو اور خدا کے عہد کو پورا کرو ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم نصحیت کرو
153وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
اور یہ کہ میرا سیدھا رستہ یہی ہے تو تم اسی پر چلنا اور اور رستوں پر نہ چلنا کہ (ان پر چل کر) خدا کے رستے سے الگ ہو جاؤ گے ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم پرہیزگار بنو
154ثُمَّ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ تَمَامًا عَلَى الَّذِي أَحْسَنَ وَتَفْصِيلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لَّعَلَّهُم بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ
(ہاں) پھر (سن لو کہ) ہم نے موسیؑ کو کتاب عنایت کی تھی تاکہ ان لوگوں پر جو نیکوکار ہیں نعمت پوری کر دیں اور (اس میں) ہر چیز کا بیان (ہے) اور ہدایت (ہے) اور رحمت ہے تاکہ (ان کی امت کے) لوگ اپنے پروردگار کے رُوبرو حاضر ہونے کا یقین کریں
155وَهَٰذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
اور (اے کفر کرنے والوں) یہ کتاب بھی ہمیں نے اتاری ہے برکت والی تو اس کی پیروی کرو اور (خدا سے) ڈرو تاکہ تم پر مہربانی کی جائے
انعامقرآن فہرست
165آیت
مکیRevelation
153آیت

ترجمہ — انعام 153

سورہ انعام آیت 153 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور یہ کہ میرا سیدھا رستہ یہی ہے تو تم…

سورہ آیت 153/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 151–155. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں