Wa Huwal lazee ja`ala lakumun nujooma litahtadoo bihaa fee zulumaatil barri walbahr; qad fassalnal Aayaati liqawminy ya`lamoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں میں ان سے رستے معلوم کرو۔ عقل والوں کے لئے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اوست خدايى كه ستارگان را پديد آورد تا به آنها در تاريكيهاى خشكى و دريا، راه خويش را بيابيد. آيات را براى آنان كه مىدانند به تفصيل بيان كردهايم.
اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں میں ان سے رستے معلوم کرو۔ عقل والوں کے لئے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے ستاروں کو پیدا کیا تاکہ تم ان کے ذریعے خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں راستہ تلاش کرو۔ ہم نے اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لیے تفصیل سے بیان کر دی ہیں جو علم رکھتے ہیں۔
معانی الفاظ:
النُّجُومَ: ستارے، جو آسمان میں روشن اجسام ہیں۔
لِتَهْتَدُوا: تاکہ تم راستہ پاؤ۔
ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ: خشکی اور سمندر کے اندھیرے، یعنی رات کی تاریکیاں۔
فَصَّلْنَا: ہم نے واضح اور مفصل بیان کیا۔
الْآيَاتِ: نشانیاں اور دلائل۔
يَعْلَمُونَ: علم رکھنے والے، جو غور و فکر کرتے ہیں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنی عظیم قدرت اور رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے ستاروں کو تمہارے لیے پیدا کیا، تاکہ جب تم خشکی کے وسیع صحراؤں یا سمندر کی گہرائیوں میں سفر کرو اور رات کی تاریکی تمہیں گھیر لے، تو تم ان ستاروں کی مدد سے اپنی منزل کی سمت معلوم کر سکو۔ یہ ستارے نہ صرف آسمان کی زینت ہیں بلکہ مسافروں کے لیے رہنما بھی ہیں، جو اللہ کی حکمت اور رحمت کا عملی ثبوت ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اپنی نشانیوں کو تفصیل سے بیان کر دیا ہے، یعنی ہم نے دلائل اور براہین کو واضح کر دیا ہے، تاکہ لوگ انہیں سمجھیں اور ان سے سبق حاصل کریں۔ لیکن ان نشانیوں سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو علم رکھتے ہیں، یعنی جو عقل سے کام لیتے ہیں، غور و فکر کرتے ہیں، اور اللہ کی قدرت کو پہچانتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں اللہ کی عظیم نعمتوں پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ جب ہم رات کو آسمان کی طرف دیکھتے ہیں اور ان بیشمار ستاروں کو چمکتے دیکھتے ہیں، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سب کچھ اللہ کی قدرت سے پیدا ہوا ہے، اور یہ سب کچھ ہمارے فائدے کے لیے ہے۔ یہ ستارے ہمیں صرف راستہ ہی نہیں دکھاتے بلکہ اللہ کی وحدانیت اور اس کی بے پایاں رحمت کی بھی یاد دلاتے ہیں۔ اللہ نے اپنی نشانیاں اس لیے بیان کی ہیں تاکہ ہم علم حاصل کریں، غور کریں، اور اپنے خالق کو پہچانیں۔ جو لوگ علم رکھتے ہیں، وہ ان نشانیوں سے سبق حاصل کرتے ہیں اور اللہ کے قریب ہوتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی ان نعمتوں پر شکر کریں اور اس کی عبادت میں مشغول رہیں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
بے شک خدا ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر (ان سے درخت وغیرہ) اگاتا ہے وہی جاندار کو بے جان سے نکالتا ہے اور وہی بےجان کا جاندار سے نکالنے والا ہے۔ یہی تو خدا ہے۔ پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو
وہی (رات کے اندھیرے سے) صبح کی روشنی پھاڑ نکالتا ہے اور اسی نے رات کو (موجب) آرام (ٹھہرایا) اور سورج اور چاند کو (ذرائع) شمار بنایا ہے۔ یہ خدا کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں جو غالب (اور) علم والا ہے
اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں میں ان سے رستے معلوم کرو۔ عقل والوں کے لئے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں
اور وہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ پھر (تمہارے لئے) ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپرد ہونے کی سمجھنے والوں کے لئے ہم نے (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں
اور وہی تو ہے جو آسمان سے مینھ برساتا ہے۔ پھر ہم ہی (جو مینھ برساتے ہیں) اس سے ہر طرح کی روئیدگی اگاتے ہیں۔ پھر اس میں سے سبز سبز کونپلیں نکالتے ہیں۔ اور ان کونپلوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے میں سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں۔ اور نہیں بھی ملتے۔ یہ چیزیں جب پھلتی ہیں تو ان کے پھلوں پر اور (جب پکتی ہیں تو) ان کے پکنے پر نظر کرو۔ ان میں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔