Wa hhuwal lazeee ansha akum min nasinw waahidatin famustaqarrunw wa mustawda`; qad fassalnal Aayaati liqaw miny-yafqahoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور وہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ پھر (تمہارے لئے) ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپرد ہونے کی سمجھنے والوں کے لئے ہم نے (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و اوست خداوندى كه شما را از يك تن بيافريد. سپس شما را قرارگاهى است و وديعتجايى است. آيات را براى آنان كه مىفهمند، به تفصيل بيان كردهايم.
اور وہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ پھر (تمہارے لئے) ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپرد ہونے کی سمجھنے والوں کے لئے ہم نے (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَنشَأَكُم: تمہیں پیدا کیا، وجود میں لایا۔
نَفْسٍ وَاحِدَةٍ: ایک ہی جان، یعنی حضرت آدم علیہ السلام۔
مُسْتَقَرّ: وہ جگہ جہاں انسان ٹھہرتا ہے، یعنی ماؤں کے رحم۔
مُسْتَوْدَع: وہ جگہ جہاں انسان امانت کے طور پر رکھا جاتا ہے، یعنی باپوں کی پشت (صُلب)۔
فَصَّلْنَا: ہم نے واضح اور مفصل بیان کر دیا۔
يَفْقَهُونَ: سمجھتے ہیں، عقل سے کام لیتے ہیں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہی ہے جس نے تم سب کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا، یعنی تمہارے اولین باپ حضرت آدم علیہ السلام سے۔ آدم علیہ السلام کو مٹی سے بنایا، پھر ان کی نسل سے تمہارے وجود کو نکھارا۔ اس کے بعد تمہارے لیے دو منزلیں مقرر کیں: ایک مستقر یعنی ماؤں کے رحم، جہاں تم ٹھہرتے ہو اور نشوونما پاتے ہو، اور دوسرا مستودع یعنی باپوں کی پشتیں، جہاں تم امانت کے طور پر محفوظ رہتے ہو۔ یہ انتظام اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ نے تمہاری تخلیق کا ہر مرحلہ اپنی حکمت سے ترتیب دیا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اپنی نشانیوں اور دلائل کو خوب واضح اور مفصل بیان کر دیا ہے، لیکن یہ تفصیل صرف ان لوگوں کے لیے نفع بخش ہے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں، غور و فکر کرتے ہیں، اور ان دلائل سے سبق حاصل کرتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی عظمت اور قدرت پر غور کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔ جب ہم اپنی تخلیق کے مراحل پر نظر ڈالتے ہیں — ایک قطرے سے لے کر مکمل انسان بننے تک — تو ہمیں یقین ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ بغیر کسی حکمت کے نہیں ہو سکتا۔ یہ ہمیں اپنے خالق کی محبت اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اے انسان! ذرا سوچو، تمہارا وجود خود ایک معجزہ ہے، اور یہ معجزہ تمہیں اس ذات کی طرف لے جانا چاہیے جس نے تمہیں پیدا کیا، پالا، اور تمہاری ہر ضرورت کا سامان کیا۔ اللہ نے اپنی آیات اس لیے تفصیل سے بیان کی ہیں تاکہ تم سمجھو اور اپنے رب کی عبادت میں سر جھکاؤ۔ کیا یہ نعمتیں تمہیں اس کی اطاعت اور شکر کی طرف نہیں بلاتیں؟ یقیناً اللہ تمہیں اپنی رحمت اور مغفرت کی طرف بلا رہا ہے، بس تم سمجھنے والے بن جاؤ۔
وہی (رات کے اندھیرے سے) صبح کی روشنی پھاڑ نکالتا ہے اور اسی نے رات کو (موجب) آرام (ٹھہرایا) اور سورج اور چاند کو (ذرائع) شمار بنایا ہے۔ یہ خدا کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں جو غالب (اور) علم والا ہے
اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں میں ان سے رستے معلوم کرو۔ عقل والوں کے لئے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں
اور وہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ پھر (تمہارے لئے) ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپرد ہونے کی سمجھنے والوں کے لئے ہم نے (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں
اور وہی تو ہے جو آسمان سے مینھ برساتا ہے۔ پھر ہم ہی (جو مینھ برساتے ہیں) اس سے ہر طرح کی روئیدگی اگاتے ہیں۔ پھر اس میں سے سبز سبز کونپلیں نکالتے ہیں۔ اور ان کونپلوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے میں سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں۔ اور نہیں بھی ملتے۔ یہ چیزیں جب پھلتی ہیں تو ان کے پھلوں پر اور (جب پکتی ہیں تو) ان کے پکنے پر نظر کرو۔ ان میں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں
اور ان لوگوں نے جنوں کو خدا کا شریک ٹھہرایا۔ حالانکہ ان کو اسی نے پیدا کیا اور بےسمجھے (جھوٹ بہتان) اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا کھڑی کیں وہ ان باتوں سے جو اس کی نسبت بیان کرتے ہیں پاک ہے اور (اس کی شان ان سے) بلند ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔