ترجمہ — Tafsir
آیت نمبر 6 کا تفسیر:
معانی الفاظ:
- أَسْكِنُوهُنَّ: انہیں (مطلقہ عورتوں کو) رہائش دو
- مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ: جہاں تم خود رہتے ہو
- مِنْ وُجْدِكُمْ: اپنی وسعت اور طاقت کے مطابق
- لَا تُضَارُّوهُنَّ: انہیں ضرر نہ پہنچاؤ
- لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ: تاکہ ان پر تنگی کرو
- أُولَاتِ حَمْلٍ: حاملہ عورتیں
- يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ: اپنا حمل (بچہ) جن لیں
- أَرْضَعْنَ: دودھ پلائیں
- أُجُورَهُنَّ: ان کی اجرت (مزدوری)
- وَأْتَمِرُوا: آپس میں مشورہ کرو
- بِمَعْرُوفٍ: اچھے طریقے سے
- تَعَاسَرْتُمْ: آپس میں کشیدگی اور سختی کرو
- فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرَىٰ: تو اس کے لیے کوئی اور عورت دودھ پلائے گی
تفسیر:
اے شوہرو! جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دے دو اور وہ عدت میں ہوں، تو انہیں اسی جگہ رہائش دو جہاں تم خود رہتے ہو، اپنی حیثیت اور وسعت کے مطابق۔ یہ حکم اس لیے ہے کہ مطلقہ عورت کو طلاق کے بعد بے سہارا اور بے گھر نہ چھوڑا جائے۔ اللہ تعالیٰ تم پر اتنا ہی بار ڈالتا ہے جتنی تمہاری گنجائش ہو۔
خبردار! انہیں ضرر نہ پہنچاؤ، نہ ان پر تنگی کرو تاکہ وہ تنگ آکر خود گھر چھوڑ کر چلی جائیں۔ یہ انتہائی ظلم کی بات ہے کہ عورت کو طلاق دے کر اسے ستایا جائے اور اس کی زندگی اجیرن بنا دی جائے۔ یاد رکھو، اللہ تعالیٰ مظلوم کی دعا کو قبول کرتا ہے۔
اگر وہ مطلقہ عورتیں حاملہ ہوں، تو ان پر اس وقت تک خرچ کرو جب تک وہ اپنا بچہ جن نہ لیں۔ یہ خرچ ان کے کھانے، پینے، لباس اور دیگر ضروریات پر مشتمل ہے۔ یہ حکم اس لیے ہے کہ حاملہ عورت کو حمل کے دوران کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔
پھر اگر وہ (مطلقہ عورتیں) تمہارے بچوں کو دودھ پلائیں، تو انہیں ان کی اجرت دو۔ یہ اجرت طے شدہ اور مناسب ہونی چاہیے۔ اس معاملے میں آپس میں اچھے طریقے سے مشورہ کرو اور باہمی رضامندی سے فیصلہ کرو۔ اسلام یہ نہیں چاہتا کہ بچے کی پرورش کے معاملے میں جھگڑا ہو۔
اگر تم آپس میں کشیدگی اور سختی کرو (یعنی شوہر اجرت دینے سے انکار کرے اور بیوی دودھ پلانے سے انکار کرے)، تو پھر کوئی اور عورت بچے کو دودھ پلا دے گی۔ یہ اس لیے کہ بچے کی پرورش اور اس کی خوراک کسی بھی صورت میں رکنا نہیں چاہیے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اسلام کا وہ حسین نظام نظر آتا ہے جو طلاق جیسی نازک صورت حال میں بھی عورت کے حقوق کی مکمل حفاظت کرتا ہے۔ اسلام نے مطلقہ عورت کو بے سہارا نہیں چھوڑا، بلکہ اس کے لیے رہائش، خرچ اور اگر وہ بچے کو دودھ پلاتی ہے تو اس کی اجرت کا بھی مکمل انتظام کیا۔ یہ اسلام کا وہ حسن ہے جو عورت کو عزت دیتا ہے اور اس کے جذبات کا احترام کرتا ہے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ خاندانی معاملات میں نرمی، محبت اور باہمی مشورہ کتنا اہم ہے۔ اگر ہم اللہ کے احکام پر عمل کریں تو ہمارے گھر سکون سے بھر جائیں اور معاشرہ محبت کا گہوارہ بن جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مشکل میں آسانی کا راستہ نکالا ہے، بس ضرورت ہے اس کی اطاعت اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی۔
📜 آیت 4-8 — سورہ طلاق
ترجمہ — طلاق 6
سورہ طلاق آیت 6 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : عورتوں کو (ایام عدت میں) اپنے مقدور کے مطابق وہیں…سورہ آیت 6/12 — سورہ طلاق الطلاق (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ طلاق سنیں, سورہ طلاق ترجمہ, سورہ طلاق mp3, سورہ طلاق pdf. آیت 4–8. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Monday, September 7, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








