طلاق · 7/12
ترجمہ تلفظ — طلاق
لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍ مِّن سَعَتِهِ ۖ وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ ۚ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا ۚ سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا ۝٧
Liyuntiq zoo sa`atim min sa`atihee wa man qudira `alaihi riquhoo falyunfiq mimmaaa aataahul laah; laa yukalliful laahu nafsan illaa maaa aataahaa; sa yaj`alul laahu ba`da`usriny yusraa
📖 اردو ترجمہ
صاحب وسعت کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیئے۔ اور جس کے رزق میں تنگی ہو وہ جتنا خدا نے اس کو دیا ہے اس کے موافق خرچ کرے۔ خدا کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کے مطابق جو اس کو دیا ہے۔ اور خدا عنقریب تنگی کے بعد کشائش بخشے گا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ذُو سَعَةٍ: جو مالدار اور وسعت والا ہو۔
  • مِن سَعَتِهِ: اپنی وسعت اور گنجائش کے مطابق۔
  • قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهُ: جس پر رزق تنگ کیا گیا ہو، یعنی جو غریب اور تنگ دست ہو۔
  • آتَاهَا: جو اسے دیا ہے۔
  • عُسْرٍ: تنگی، سختی۔
  • یُسْرًا: آسانی، کشادگی۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں طلاق یافتہ عورتوں اور دودھ پلانے والی ماؤں کے نان و نفقہ کے بارے میں ایک منصفانہ اور رحمت بھرا حکم دے رہا ہے۔ حکم یہ ہے کہ جو شوہر مالی طور پر خوشحال اور وسعت والا ہے، وہ اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے، یعنی اپنی حیثیت کے لحاظ سے اچھا اور مناسب خرچ دے۔ اور جو شخص غریب ہے اور اس کا رزق تنگ ہے، تو وہ اتنا ہی خرچ کرے جتنا اللہ نے اسے دیا ہے، اس پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔

یہ اللہ کا عدل و رحمت ہے کہ وہ کسی نفس کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی طاقت اور استطاعت کے مطابق۔ غریب کو امیر کی طرح خرچ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا، بلکہ ہر شخص پر اس کی حیثیت کے مطابق ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ یہ شریعت کا حسن ہے کہ وہ لوگوں پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتی۔

پھر اللہ تعالیٰ ایک بشارت دیتا ہے کہ تنگی کے بعد آسانی ضرور آئے گی۔ یہ مومن کے لیے امید کا پیغام ہے کہ اگر آج حالات مشکل ہیں، رزق تنگ ہے، پریشانیاں ہیں، تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان حالات کو بدل دے گا اور تنگی کے بعد کشادگی عطا فرمائے گا۔ یہ وعدہ اللہ کا سچا وعدہ ہے، جو کبھی ٹوٹتا نہیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ اسلام ایک منصفانہ اور عملی دین ہے، جو ہر شخص پر اس کی استطاعت کے مطابق ذمہ داری ڈالتا ہے۔ یہ دین نہ تو امیر پر ظلم کرتا ہے اور نہ غریب پر بوجھ ڈالتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ہمیں اپنے گھر والوں، بیویوں اور بچوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے، خاص طور پر طلاق کے بعد بھی عورت کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ تیسرا یہ کہ مایوسی کبھی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ کا فضل و کرم بہت وسیع ہے۔ جو شخص اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے، اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ تنگی کے بعد آسانی، سختی کے بعد نرمی، اور رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے معاملات میں اللہ کی اطاعت کریں، اس کے احکام پر عمل کریں، اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اور ان کی پریشانیوں کو دور کرنے والا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 5-9 — طلاق

5ذَٰلِكَ أَمْرُ اللَّهِ أَنزَلَهُ إِلَيْكُمْ ۚ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُعْظِمْ لَهُ أَجْرًا
یہ خدا کے حکم ہیں جو خدا نے تم پر نازل کئے ہیں۔ اور جو خدا سے ڈرے گا وہ اس سے اس کے گناہ دور کر دے گا اور اسے اجر عظیم بخشے گا
6أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ ۚ وَإِن كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ ۖ وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُم بِمَعْرُوفٍ ۖ وَإِن تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرَىٰ
عورتوں کو (ایام عدت میں) اپنے مقدور کے مطابق وہیں رکھو جہاں خود رہتے ہو اور ان کو تنگ کرنے کے لئے تکلیف نہ دو اور اگر حمل سے ہوں تو بچّہ جننے تک ان کا خرچ دیتے رہو۔ پھر اگر وہ بچّے کو تمہارے کہنے سے دودھ پلائیں تو ان کو ان کی اجرت دو۔ اور (بچّے کے بارے میں) پسندیدہ طریق سے مواقفت رکھو۔ اور اگر باہم ضد (اور نااتفاقی) کرو گے تو (بچّے کو) اس کے (باپ کے) کہنے سے کوئی اور عورت دودھ پلائے گی
7لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍ مِّن سَعَتِهِ ۖ وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ ۚ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا ۚ سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا
صاحب وسعت کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیئے۔ اور جس کے رزق میں تنگی ہو وہ جتنا خدا نے اس کو دیا ہے اس کے موافق خرچ کرے۔ خدا کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کے مطابق جو اس کو دیا ہے۔ اور خدا عنقریب تنگی کے بعد کشائش بخشے گا
8وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهِ فَحَاسَبْنَاهَا حِسَابًا شَدِيدًا وَعَذَّبْنَاهَا عَذَابًا نُّكْرًا
اور بہت سی بستیوں (کے رہنے والوں) نے اپنے پروردگار اور اس کے پیغمبروں کے احکام سے سرکشی کی تو ہم نے ان کو سخت حساب میں پکڑ لیا اور ان پر (ایسا) عذاب نازل کیا جو نہ دیکھا تھا نہ سنا
9فَذَاقَتْ وَبَالَ أَمْرِهَا وَكَانَ عَاقِبَةُ أَمْرِهَا خُسْرًا
سو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ لیا اور ان کا انجام نقصان ہی تو تھا
طلاققرآن فہرست
12آیت
مدنیRevelation
7آیت

ترجمہ — طلاق 7

سورہ طلاق آیت 7 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : صاحب وسعت کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیئے۔…

سورہ آیت 7/12 — طلاق الطلاق (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طلاق سنیں, طلاق ترجمہ, طلاق mp3, طلاق pdf. آیت 5–9. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں