اعراف · 150/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰ إِلَىٰ قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِي مِن بَعْدِي ۖ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ ۖ وَأَلْقَى الْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ ۚ قَالَ ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَكَادُوا يَقْتُلُونَنِي فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْأَعْدَاءَ وَلَا تَجْعَلْنِي مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ۝١٥٠
Wa lammaa raja`a Moosaaa ilaa qawmihee ghadbaana asifan qaala bi`samaa khalaftumoonee mim ba`dee a-`ajiltum amra Rabbikum wa alqal alwaaha wa akhaza biraasi akheehi yajurruhoo ilaih; qaalab na umma innal qawmas tad`afoonee wa kadoo yaqtu loonanee; falaa tushmit biyal a`daaa`a wa laa taj`alnee ma`al qawmiz zaalimeen
📖 اردو ترجمہ
اور جب موسیٰ اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔ تو کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم (یعنی میرا اپنے پاس آنا) جلد چاہا (یہ کہا) اور (شدت غضب سے تورات کی) تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی جان لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں۔ تو ایسا کام نہ کیجیے کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایئے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • غَضْبَانَ أَسِفًا: شدید غصے اور رنج و غم کی حالت میں۔
  • بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِي: تم نے میرے بعد بہت بری جانشینی کی۔
  • أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ: کیا تم نے اپنے رب کے حکم (میرے انتظار) میں جلدی کی؟
  • أَلْقَى الْأَلْوَاحَ: انہوں نے تورات کی تختیاں (غصے میں) پھینک دیں۔
  • اسْتَضْعَفُونِي: مجھے کمزور سمجھا۔
  • فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْأَعْدَاءَ: مجھ پر دشمنوں کو ہنسنے کا موقع نہ دو۔

تفسیر:

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے رب کی مناجات سے واپس لوٹے تو وہ اپنی قوم پر سخت غضبناک اور رنجیدہ تھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خبر دے دی تھی کہ تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈالا گیا ہے اور سامری نے انہیں گمراہ کر کے گوسالہ پوجنے پر لگا دیا ہے۔ یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا: "تم نے میرے بعد بہت بری جانشینی کی! کیا تم نے اپنے رب کے حکم میں جلدی کی؟" یعنی کیا تم صبر نہیں کر سکتے تھے جب تک کہ میں تمہارے پاس تورات لے کر واپس نہ آتا؟ یہ کیسی جلد بازی تھی کہ تم نے میرے انتظار کے بجائے گوسالہ پوجنا شروع کر دیا؟

غصے کی شدت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تورات کی تختیاں زمین پر پھینک دیں، کیونکہ انہیں اپنی قوم کے شرک پر بہت رنج تھا۔ پھر آپ نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کا سر اور داڑھی پکڑ کر انہیں اپنی طرف کھینچا، اس لیے کہ انہوں نے قوم کو گوسالہ پوجنے سے کیوں نہیں روکا۔

حضرت ہارون علیہ السلام نے نہایت عاجزی اور محبت سے جواب دیا: "اے میری ماں کے بیٹے! (یہ کہہ کر آپ کا دل نرم کرنا چاہا) یہ لوگ مجھے بالکل کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ مجھے قتل کر ڈالیں۔ پس آپ مجھ پر ایسا سلوک نہ کریں جس سے دشمن خوش ہوں، اور مجھے ان ظالم لوگوں کے ساتھ شمار نہ کریں جنہوں نے اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کی۔"

دعوتی پہلو:

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ غصے میں بھی انسان کو اپنے بھائیوں اور عزیزوں کے ساتھ نرمی اور حکمت سے پیش آنا چاہیے۔ حضرت ہارون علیہ السلام کا جواب ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے کہ جب کوئی ہم سے ناراض ہو تو ہم نرمی اور محبت سے اپنی معذرت پیش کریں، اور دلوں کو آپس میں ملائیں۔ نیز یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کے دین کی حفاظت کے لیے غصہ جائز ہے، لیکن اس کے ساتھ صبر اور حکمت بھی ضروری ہے۔ آج ہمیں چاہیے کہ اپنے معاشرے میں محبت، صبر اور حکمت کو فروغ دیں، اور کسی بھی معاملے میں جلد بازی سے بچیں، کیونکہ جلد بازی شیطان کے کام ہیں۔ اللہ ہمیں صبر اور حکمت والا عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔



📜 آیت 148-152 — اعراف

148وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوسَىٰ مِن بَعْدِهِ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهُ خُوَارٌ ۚ أَلَمْ يَرَوْا أَنَّهُ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا ۘ اتَّخَذُوهُ وَكَانُوا ظَالِمِينَ
اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے۔ اس کو انہوں نے (معبود) بنالیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا
149وَلَمَّا سُقِطَ فِي أَيْدِيهِمْ وَرَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوا قَالُوا لَئِن لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے
150وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰ إِلَىٰ قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِي مِن بَعْدِي ۖ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ ۖ وَأَلْقَى الْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ ۚ قَالَ ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَكَادُوا يَقْتُلُونَنِي فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْأَعْدَاءَ وَلَا تَجْعَلْنِي مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
اور جب موسیٰ اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔ تو کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم (یعنی میرا اپنے پاس آنا) جلد چاہا (یہ کہا) اور (شدت غضب سے تورات کی) تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی جان لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں۔ تو ایسا کام نہ کیجیے کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایئے
151قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِأَخِي وَأَدْخِلْنَا فِي رَحْمَتِكَ ۖ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
تب انہوں نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
152إِنَّ الَّذِينَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِينَ
(خدا نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم افتراء پردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
150آیت

ترجمہ — اعراف 150

سورہ اعراف آیت 150 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب موسیٰ اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس…

سورہ آیت 150/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 148–152. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں