ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- رَبِّ: اے میرے پروردگار
- اغْفِرْ: بخش دے
- وَأَدْخِلْنَا: اور ہمیں داخل فرما
- رَحْمَتِكَ: اپنی رحمت میں
- أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ: سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم فرمانے والا
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ ان کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام نے کوئی کوتاہی نہیں کی، بلکہ انہوں نے بنی اسرائیل کو سمجھانے کی بھرپور کوشش کی تھی، اور وہ اللہ کے حکم کے مطابق ہی عمل کر رہے تھے، تو انہوں نے اپنے رب کے حضور انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ دعا کی۔
انہوں نے عرض کیا: "اے میرے پروردگار! میری مغفرت فرما" - یعنی اس غصے اور سختی کی معافی جو میں نے اپنے بھائی کے ساتھ کی، "اور میرے بھائی ہارون کی بھی مغفرت فرما" اگر ان سے کوئی تقصیر سرزد ہوئی ہو، "اور ہم دونوں کو اپنی وسیع رحمت میں داخل فرما" جو ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔
یہ دعا دراصل حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عظیم اخلاق اور بلند کردار کا مظہر ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے لیے مغفرت طلب کی بلکہ اپنے بھائی کے لیے بھی دعا کی، اور ساتھ ہی یہ اقرار کیا کہ "آپ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم فرمانے والے ہیں" - یعنی اے اللہ! تیری رحمت کا کوئی مقابلہ نہیں، تیری رحمت ہی سب سے بڑی اور سب سے کامل ہے۔
اس دعا سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں:
پہلا سبق: جب دو مسلمانوں کے درمیان کوئی غلط فہمی یا ناراضگی ہو جائے تو انہیں چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے دعائے مغفرت کریں۔ یہ دلوں کو صاف کرنے اور محبت بڑھانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
دوسرا سبق: ہمیں اپنے غصے پر قابو رکھنا چاہیے اور جب غلطی ہو جائے تو فوراً معافی مانگنی چاہیے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی کے ساتھ سختی کی تو فوراً اللہ سے معافی طلب کی۔
تیسرا سبق: اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، اور ہمیں ہمیشہ اسی رحمت کے طلب گار رہنا چاہیے۔ جب ہم اللہ سے دعا کریں تو اس کی رحمت کا ذکر کریں اور اس پر بھروسہ رکھیں کہ وہ سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔
چوتھا سبق: یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے بھائیوں، رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے بھی دعا کرنی چاہیے، نہ صرف اپنے لیے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی کو اپنی دعا میں شامل کیا۔
یہ دعا ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ جب ہم سے کوئی غلطی ہو جائے تو ہمیں فوراً اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، ناامید نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اللہ کی رحمت ہر گناہ سے بڑی ہے۔ وہ اپنے بندوں کو معاف کرنے والا اور ان پر رحم فرمانے والا ہے۔
آئیے ہم بھی اس دعا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور اپنے رب سے مغفرت طلب کریں، اپنے بھائیوں کے لیے دعا کریں، اور اللہ کی وسیع رحمت کے طلب گار رہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے اور وہ اپنے توبہ کرنے والے بندوں کو معاف فرما دیتا ہے۔
📜 آیت 149-153 — اعراف
ترجمہ — اعراف 151
سورہ اعراف آیت 151 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تب انہوں نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار مجھے…سورہ آیت 151/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 149–153. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








