ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَصْحَابَ النَّارِ: جہنم کے داروغے اور خازن (نگہبان)۔
- فِتْنَۃً: آزمائش اور امتحان۔
- لِیَسْتَیْقِنَ: تاکہ یقین حاصل کریں۔
- یَرْتَابَ: شک کریں۔
- مَرَضٌ: نفاق اور شک۔
- جُنُودَ رَبِّکَ: تیرے رب کے لشکر (فرشتے اور دیگر مخلوقات)۔
- ذِکْرٰی: نصیحت اور عبرت۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اہلِ ایمان کو تسلی اور کفار کو ڈرانے کے لیے ارشاد فرمایا کہ جہنم کے داروغے اور نگہبان ہم نے فرشتوں کو بنایا ہے، نہ کہ انسانوں کو۔ یہ فرشتے نہایت سخت گیر، طاقتور اور رحمت سے خالی ہیں، جو اللہ کے حکم کی تعمیل میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ ان کی تعداد انیس بتائی گئی ہے، اور یہ تعداد اپنے آپ میں کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی، بلکہ اللہ نے اسے کافروں کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے تاکہ وہ اس پر طعنہ زنی کریں اور کہیں کہ "یہ انیس کی تعداد کیا معنی رکھتی ہے؟" اس طرح ان کا کفر اور بڑھے گا۔
یہ تعداد دراصل اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) کے لیے باعثِ یقین ہے، کیونکہ ان کی اپنی کتابوں میں بھی اس تعداد کا ذکر موجود تھا، چنانچہ جب انہوں نے قرآن میں وہی تعداد دیکھی تو انہیں یقین ہو گیا کہ یہ وحی اللہ کی طرف سے ہے۔ نیز اس سے اہلِ ایمان کا ایمان اور بڑھتا ہے، کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ اہلِ کتاب اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں، اور ان کے دلوں میں کوئی شک باقی نہیں رہتا۔
اس کے برعکس، جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کا مرض ہے اور جو کافر ہیں، وہ حیران ہو کر کہتے ہیں کہ "اللہ اس عجیب تعداد سے کیا ارادہ رکھتا ہے؟" وہ اسے محض ایک بے معنی بات سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ ان کی اپنی آزمائش ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس طرح یہ تعداد مومنین کے لیے ہدایت اور کافروں کے لیے گمراہی کا سبب بنی، اسی طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ یہ اللہ کی مشیت اور حکمت کا معاملہ ہے، کوئی اس پر اعتراض نہیں کر سکتا۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تیرے رب کے لشکروں کی تعداد کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ فرشتے، جنات اور دیگر مخلوقات کی کثرت کا اندازہ لگانا انسان کے بس میں نہیں، چنانچہ انیس کی تعداد کو کم سمجھنا یا اس پر اعتراض کرنا محض جہالت ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ جہنم اور اس کا ذکر انسانوں کے لیے نصیحت اور عبرت ہے، تاکہ وہ اللہ کے عذاب سے ڈریں اور اپنے اعمال سنوار لیں۔ یہ کوئی کھیل یا مذاق نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہے جس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی ہر بات حکمت پر مبنی ہے، چاہے ہم اس کی حکمت کو سمجھیں یا نہ سمجھیں۔ اہلِ ایمان کو چاہیے کہ وہ اللہ کے احکام پر بلا چون و چرا ایمان لائیں اور اپنے ایمان کو روزانہ بڑھانے کی کوشش کریں۔ نیز یہ آیت ہمیں ڈراتی ہے کہ جہنم کے نگہبان فرشتے ہیں جو رحم نہیں کرتے، اس لیے ہمیں اپنے اعمال کی اصلاح کرنی چاہیے اور اللہ کی رحمت کے طلب گار رہنا چاہیے۔ قرآن کی ہر آیت انسان کے لیے نصیحت ہے، کاش ہم اسے غور سے پڑھیں اور اس پر عمل کریں۔
📜 آیت 29-33 — مدثر
ترجمہ — مدثر 31
سورہ مدثر آیت 31 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے دوزخ کے داروغہ فرشتے بنائے ہیں۔ اور…سورہ آیت 31/56 — مدثر المدثر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مدثر سنیں, مدثر ترجمہ, مدثر mp3, مدثر pdf. آیت 29–33. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








