ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- بَرَاءَةٌ: براءت، دست بردار ہونا، قطع تعلق۔
- مِنَ اللہِ وَرَسُولِہِ: اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے۔
- عَاہَدتُّم: جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا۔
- مُشْرِکِین: مشرکین، وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ اعلانِ براءت ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان مشرکین کے بارے میں صادر ہوا جن سے مسلمانوں نے معاہدے کیے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان عہدوں سے بری اور بیزار ہیں جو مسلمانوں نے مشرکین سے کیے تھے۔ یہ ایک قطعی اور حتمی اعلان ہے کہ مشرکین کے ساتھ کیے گئے معاہدے ختم کر دیے گئے ہیں، کیونکہ انہوں نے بار بار عہد شکنی کی اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہے۔
یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اسلام میں عہد و پیمان کی بڑی اہمیت ہے، لیکن جب دوسری طرف سے عہد شکنی کی جائے اور مسلسل دشمنی کا مظاہرہ کیا جائے تو پھر ان عہدوں سے براءت کا اعلان کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ یہ اعلان دراصل مسلمانوں کے لیے ایک رحمت تھا کہ انہیں واضح طور پر بتا دیا گیا کہ مشرکین کے ساتھ اب کوئی تعلق نہیں رکھنا ہے، تاکہ مسلمان اپنی صفوں کو مضبوط کریں اور اپنے دین کی حفاظت کریں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی بھلائی چاہتا ہے اور جب کوئی معاہدہ نقصان دہ ہو جائے تو اس سے دست بردار ہونا عین حکمت ہے۔ یہ آیت مسلمانوں کو باہمی اتحاد اور مضبوطی کی تلقین کرتی ہے کہ وہ اپنے دشمنوں سے بے نیاز ہو کر صرف اللہ پر بھروسہ کریں۔ آج بھی مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاملات میں اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو مقدم رکھیں، اور جہاں اسلام کے مفادات کا تقاضا ہو وہاں بے باکی سے فیصلے کریں۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور مومنین کے ساتھ ہے، اور جو لوگ اللہ کے دین کے دشمن ہیں، ان سے قطع تعلق ہی بہتر ہے۔
📜 آیت 1-3 — توبہ
ترجمہ — توبہ 1
سورہ آیت 1/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 1–3. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں







