ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- اشْتَرَىٰ: خریدا، یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنین سے ان کی جانیں اور مال خرید لیے۔
- یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللّٰهِ: وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں۔
- فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ: پس وہ (دشمنوں کو) قتل کرتے ہیں اور (خود بھی) قتل کیے جاتے ہیں۔
- وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا: یہ اللہ کے ذمے ایک سچا وعدہ ہے۔
- فَاسْتَبْشِرُوا: پس خوشخبری پاؤ، خوش ہو جاؤ۔
- الْفَوْزُ الْعَظِیمُ: بڑی کامیابی، عظیم کامیابی۔
تفسیر:
پیارے مومنین! یہ آیتِ کریمہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا عظیم شرف اور اعزاز ہے جو صرف اہلِ ایمان کو حاصل ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے مومنین سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں، اور اس کی قیمت میں انہیں جنت عطا فرمائی ہے۔ غور کریں کہ اللہ تعالیٰ کی شانِ کرم ہے کہ وہ خود تو ہر چیز کا مالک ہے، لیکن پھر بھی وہ مومنین سے یہ معاملہ فرماتا ہے تاکہ انہیں جنت کا مستحق بنائے اور ان کے درجات بلند کرے۔
یہ خریداری دراصل جہاد فی سبیل اللہ کی صورت میں ہے۔ مومن اللہ کی راہ میں اس لیے لڑتے ہیں کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو اور اس کا دین پوری دنیا میں غالب آئے۔ وہ دشمنوں کو قتل کرتے ہیں اور خود بھی قتل کیے جاتے ہیں، یعنی شہادت کا شرف حاصل کرتے ہیں۔ یہ کوئی معمولی وعدہ نہیں، بلکہ یہ اللہ کا ذمہ ہے جو اس نے تورات، انجیل اور قرآن تینوں آسمانی کتابوں میں بیان فرمایا ہے۔ تورات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت کو، انجیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی امت کو، اور قرآن میں امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ جہاد کرنے والوں کے لیے جنت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدے کو پورا کرنے والا کوئی نہیں۔ جب اللہ نے وعدہ کیا ہے تو وہ یقیناً پورا ہو کر رہے گا۔ اس لیے اے مومنین! اس سودے پر خوشی مناؤ، کیونکہ تم نے اللہ سے جو معاملہ کیا ہے وہ تمہارے لیے بہت بڑی خوش بختی ہے۔ تم نے اپنی جان اور مال دے کر جنت خریدی ہے، اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ دنیا کی کوئی دولت، کوئی شہرت، کوئی عہدہ اس کامیابی کے برابر نہیں ہو سکتا۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا سوچیں، اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو جان اور مال دیا ہے، وہ دراصل اسی کا ہے۔ لیکن وہ ہم سے یہ فرماتا ہے کہ میں تم سے تمہاری یہ چیزیں خریدتا ہوں اور تمہیں جنت دیتا ہوں۔ یہ کتنی بڑی رحمت اور فضل ہے! کیا کوئی تاجر اپنے گاہک کو اتنی بڑی قیمت دے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ لیکن اللہ رحیم و کریم ہے، وہ اپنے بندوں پر فضل فرماتا ہے۔
آج ہم اپنی جانیں اور مال اللہ کی راہ میں کیوں نہیں لگاتے؟ جہاد صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں، بلکہ اپنے نفس سے جہاد، اپنے مال سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، اپنے علم اور وقت کو دین کی خدمت میں لگانا، یہ سب اس عظیم سودے کا حصہ ہیں۔ اللہ نے ہمیں یہ موقع دیا ہے کہ ہم اپنی زندگیاں اس کی راہ میں لگا کر جنت کے تاجر بن جائیں۔ کیا یہ سب سے بڑا نفع نہیں؟ کیا یہ سب سے بڑی کامیابی نہیں؟
آئیے ہم سب اس عظیم سودے میں شامل ہوں، اپنی زندگیوں کو اللہ کی راہ میں وقف کریں، اور اس خوشخبری پر یقین رکھیں کہ اللہ اپنے وعدے کو پورا کرنے والا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا میں عزت اور آخرت میں جنت کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ ہمیں اس سودے کی برکت سے نوازے۔ آمین۔
📜 آیت 109-113 — توبہ
ترجمہ — توبہ 111
سورہ توبہ آیت 111 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے…سورہ آیت 111/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 109–113. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں







