یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (موجب) خلجان رہے گی (اور ان کو متردد رکھے گی) مگر یہ کہ ان کے دل پاش پاش ہو جائیں اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آن بنا كه برآوردهاند همواره مايه تشويش در دلشان خواهد بود تا آن هنگام كه دلشان پاره پاره گردد. و خداوند دانا و حكيم است.
یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (موجب) خلجان رہے گی (اور ان کو متردد رکھے گی) مگر یہ کہ ان کے دل پاش پاش ہو جائیں اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بنیان: عمارت، مسجد۔
ریبہ: شک، نفاق، دھوکہ۔
تقطّع قلوبهم: ان کے دل پھٹ جائیں، یعنی موت یا قتل کے ذریعے ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں منافقین کے اس نقصان دہ فعل کا انجام بیان فرما رہے ہیں جنہوں نے مسجدِ ضرار بنائی تھی تاکہ مسلمانوں میں تفرقہ ڈالیں اور رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو نقصان پہنچائیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ ان کا بنایا ہوا یہ بنیان (مسجد) ان کے دلوں میں شک اور نفاق کا باعث بنی رہے گی، اور یہ شک و نفاق ان کے دلوں سے نہیں نکلے گا یہاں تک کہ ان کے دل پھٹ جائیں، یعنی جب تک وہ مر نہ جائیں یا قتل نہ ہو جائیں، یا پھر سچی توبہ کر کے اپنے رب کی طرف رجوع نہ کر لیں۔
یہ عمارت اگرچہ بعد میں گرا دی گئی، لیکن اس کا اثر ان کے دلوں پر قیامت تک باقی رہے گا۔ وہ جب بھی اسے یاد کریں گے، ان کے نفاق میں اضافہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے حال سے خوب واقف ہے، وہ جانتا ہے کہ انہوں نے یہ مسجد کس نیت سے بنائی تھی، اور وہ حکیم ہے، یعنی اپنے ہر فیصلے میں حکمت رکھتا ہے، چاہے وہ ان کے بنائے ہوئے مسجد کو گروانے کا حکم ہو یا ان کے انجام کا فیصلہ۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ نیکی کا ظاہری ڈھانچہ بھی اگر نیت خراب ہو تو اللہ کے نزدیک قابلِ قبول نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے اعمال کو ہمیشہ خالص اللہ کی رضا کے لیے کریں، کیونکہ اللہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ سچی توبہ وہ ہے جو دل کی گہرائیوں سے نکلے، اور یہی وہ چیز ہے جو انسان کو نفاق اور شک سے پاک کر دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسجدِ نبوی جیسی پاک جگہیں عطا کی ہیں، ہمیں ان کی حفاظت کرنی چاہیے اور اپنے دلوں کو اتحاد اور محبت سے بھرنا چاہیے، نہ کہ تفرقہ اور نفاق سے۔ یاد رکھیں، اللہ علیم ہے اور حکیم ہے، وہ ہر نیت کا بدلہ دینے والا ہے۔
تم اس (مسجد) میں کبھی (جاکر) کھڑے بھی نہ ہونا۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس میں جایا (اور نماز پڑھایا) کرو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو کہ پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اور خدا پاک رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے
بھلا جس شخص نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضامندی پر رکھی وہ اچھا ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد گر جانے والی کھائی کے کنارے پر رکھی کہ وہ اس کو دوزخ کی آگ میں لے گری اور خدا ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا
یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (موجب) خلجان رہے گی (اور ان کو متردد رکھے گی) مگر یہ کہ ان کے دل پاش پاش ہو جائیں اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے
خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لیے ہیں (اور اس کے) عوض ان کے لیے بہشت (تیار کی) ہے۔ یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے بھی جاتے ہیں بھی ہیں۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے۔ جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور خدا سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو۔ اور یہی بڑی کامیابی ہے
توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیک کاموں کا امر کرنے والے، بری باتوں سے منع کرنے والے، خدا کی حدوں کی حفاظت کرنے والے، (یہی مومن لوگ ہیں) اور اے پیغمبر مومنوں کو (بہشت کی) خوش خبری سنادو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔