ترجمہ — Tafsir
لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ ۙ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ
معانی الفاظ:
- مَوَاطِنَ: میدانوں اور مقاماتِ جنگ، جہاں لڑائیاں ہوئیں۔
- حُنَيْن: مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی کا نام۔
- أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ: تمہاری کثرت (تعداد) نے تمہیں خوش اور مغرور کر دیا۔
- فَلَمْ تُغْنِ: پس وہ (کثرت) کچھ کام نہ آئی۔
- ضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ: زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی۔
- وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ: تم پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندوں پر اپنے عظیم احسانات کا ذکر فرما رہے ہیں کہ اے ایمان والو! اللہ نے تمہیں بہت سے مقامات پر فتح و نصرت عطا فرمائی، جیسے غزوۂ بدر، غزوۂ بنی قریظہ، غزوۂ بنی نضیر اور فتح مکہ وغیرہ۔ ان تمام مواقع پر تمہاری تعداد کم تھی، سازوسامان بھی معمولی تھا، لیکن جب تم نے اللہ پر توکل کیا اور اس کے رسول کی اطاعت کی، تو اللہ نے تمہیں فتح عطا فرمائی۔
پھر اللہ تعالیٰ غزوۂ حنین کا واقعہ بیان فرماتا ہے، جو مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی ہے۔ اس دن مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار سے زیادہ تھی، جس پر انہیں بہت ناز تھا اور انہوں نے کہا کہ آج ہم کسی کی پرواہ نہیں کرتے، ہماری کثرت کی وجہ سے ہم کبھی نہیں ہاریں گے۔ لیکن یہی اعجاب اور غرور ان کے زوال کا سبب بنا۔ اللہ نے انہیں سبق سکھانے کے لیے یہ منظر دکھایا کہ ان کی بڑی تعداد ان کے کسی کام نہ آئی، دشمن نے ان پر حملہ کیا تو وہ میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی اور انہیں کوئی پناہ کی جگہ نہ ملی۔
یہ واقعہ مسلمانوں کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے کہ فتح و نصرت کا دارومدار تعداد اور سازوسامان پر نہیں، بلکہ اللہ کی مدد اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہے۔ جب بندہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور اس کی راہ میں اخلاص کے ساتھ جدوجہد کرتا ہے، تو اللہ اسے وہ راستے دکھاتا ہے جو اس کے خیال میں بھی نہیں ہوتے۔ لیکن جب انسان اپنی طاقت اور وسائل پر مغرور ہو جاتا ہے، تو اللہ اسے یاد دلاتا ہے کہ اصل طاقت صرف اللہ کی ہے۔
یہاں سے ہمیں یہ دعوتی پیغام ملتا ہے کہ ہمیں کبھی اپنی مادی ترقی، اپنی تعداد، اپنے وسائل پر نازاں نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اسی کی مدد مانگنی چاہیے، اور اپنے اعمال کو اخلاص کے ساتھ صرف اللہ کی رضا کے لیے کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو پسند فرماتا ہے جو توکل کرتے ہیں، اور جو لوگ اپنی طاقت پر بھروسہ کرتے ہیں، انہیں کبھی کبھار ایسے حالات سے گزرنا پڑتا ہے تاکہ وہ سبق سیکھیں۔ یہ واقعہ ہمارے لیے اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ اللہ کی مدد صبر، تقویٰ اور اطاعتِ رسول کے ساتھ آتی ہے، اور جو شخص ان صفات کو اپناتا ہے، اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
📜 آیت 23-27 — توبہ
ترجمہ — توبہ 25
سورہ توبہ آیت 25 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : خدا نے بہت سے موقعوں پر تم کو مدد دی…سورہ آیت 25/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 23–27. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں







