ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- عشیرتكم: تمہارے قریبی رشتہ دار، کنبہ اور خاندان۔
- اقترفتموها: جو تم نے کمائی اور جمع کی ہوں۔
- كسادها: بکنے کا ڈر، نقصان کا اندیشہ۔
- ترضونها: جنہیں تم پسند کرتے ہو اور جن میں رہنا تمہیں اچھا لگتا ہے۔
- فتربصوا: تو انتظار کرو۔
- الفاسقین: حکم عدولی کرنے والے، اللہ کی اطاعت سے نکل جانے والے۔
تفسیر:
اے نبی! آپ ان لوگوں سے فرما دیجیے جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ان کے اعمال اس کے خلاف ہیں: اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارے خاندان اور کنبے والے، اور وہ مال جو تم نے محنت کر کے کمائے ہیں، اور وہ تجارت جس کے مندی کا تمہیں ڈر ہے، اور وہ خوبصورت گھر جن میں تم رہنا پسند کرتے ہو — اگر یہ سب کچھ تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اللہ کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہے، تو پھر اس عذاب کا انتظار کرو جو اللہ اپنے فیصلے سے تم پر نازل کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جو اس کی اطاعت سے نکل جائیں۔
یہ آیت ایک واضح معیار پیش کرتی ہے کہ ایمان کی حقیقت کیا ہے۔ ایمان صرف زبان کا دعویٰ نہیں، بلکہ دل کی گہرائیوں میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت کو ہر چیز پر مقدم رکھنا ہے۔ جب کوئی شخص اپنے مال، اولاد، گھر اور کاروبار کو اللہ کی رضا اور جہاد سے زیادہ عزیز رکھتا ہے، تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کا ایمان کمزور ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان چیزوں کا ذکر کیا جو انسان کے دل کو دنیا کی طرف مائل کرتی ہیں — خاندان، مال، تجارت اور گھر۔ یہ سب چیزیں اپنی جگہ اچھی ہیں، لیکن جب یہ اللہ کی محبت پر غالب آ جائیں تو یہ انسان کے لیے نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں محبت کے اس قدرتی جذبے کا ذکر نہیں کیا جو ماں باپ اور اولاد کے ساتھ فطری طور پر ہوتا ہے، بلکہ اس اختیاری محبت کا ذکر ہے جو انسان اپنی مرضی سے کسی چیز کو اللہ پر ترجیح دیتا ہے۔
اس آیت کا سبق یہ ہے کہ ہمیں اپنے دلوں کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہماری محبت میں اللہ اور اس کا رسول کس مقام پر ہیں۔ کیا ہم اپنے کاروبار، گھر اور خاندان کی خاطر دین کے معاملات میں کوتاہی کرتے ہیں؟ کیا ہم جہاد اور دین کی خدمت سے اس لیے پیچھے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے مال یا خاندان کا ڈر ہے؟ یہ آیت ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ ایسا رویہ اللہ کے عذاب کا سبب بن سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ رحیم اور کریم ہے، وہ اپنے بندوں کو موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے دلوں کو درست کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی محبتوں کو ترتیب دیں — اللہ اور اس کے رسول کی محبت کو سب سے پہلے رکھیں، پھر دنیا کی چیزیں۔ جو شخص ایسا کرے گا، اللہ اسے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی عطا فرمائے گا۔ یاد رکھیں، اللہ کی محبت کو مقدم رکھنے میں ہی اصل فلاح ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں جنت کی طرف لے جاتا ہے۔
📜 آیت 22-26 — توبہ
ترجمہ — توبہ 24
سورہ توبہ آیت 24 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی…سورہ آیت 24/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 22–26. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں







