خدا کے نزدیک مہینے گنتی میں (بارہ ہیں یعنی) اس روز (سے) کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ کتاب خدا میں (برس کے) بارہ مہینے (لکھے ہوئے) ہیں۔ ان میں سے چار مہینے ادب کے ہیں۔ یہی دین (کا) سیدھا راستہ ہے۔ تو ان (مہینوں) میں (قتال ناحق سے) اپنے آپ پر ظلم نہ کرنا۔ اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
شمار ماهها در نزد خدا، در كتاب خدا از آن روز كه آسمانها و زمين را بيافريده، دوازده است. چهار ماه، ماههاى حرامند. اين است شيوه درست. در آن ماهها بر خويشتن ستم مكنيد. و همچنان كه مشركان همگى به جنگ شما برخاستند، همگى به جنگ ايشان برخيزيد. و بدانيد كه خدا با پرهيزگاران است.
خدا کے نزدیک مہینے گنتی میں (بارہ ہیں یعنی) اس روز (سے) کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ کتاب خدا میں (برس کے) بارہ مہینے (لکھے ہوئے) ہیں۔ ان میں سے چار مہینے ادب کے ہیں۔ یہی دین (کا) سیدھا راستہ ہے۔ تو ان (مہینوں) میں (قتال ناحق سے) اپنے آپ پر ظلم نہ کرنا۔ اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
عِدَّة: تعداد، گنتی
الشُّهُور: مہینے (شہر کی جمع)
حُرُم: حرمت والے، جن میں قتال حرام ہے
الدِّينُ الْقَيِّمُ: سیدھا اور درست دین
كَافَّةً: سب مل کر، اجتماع کے ساتھ
الْمُتَّقِينَ: پرہیزگار، اللہ سے ڈرنے والے
تفسیر آیت:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ہمیں ایک انتہائی اہم حقیقت سے آگاہ فرما رہے ہیں کہ مہینوں کی تعداد اللہ کے حکم اور اس کی تقدیر میں بارہ ہی ہے، نہ کم نہ زیادہ۔ یہ تعداد اللہ کے نوشتے میں اس دن سے مقرر ہے جب اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ یہ نظام کائنات کے آغاز سے ہی قائم ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں۔ ان بارہ مہینوں میں سے چار مہینے خاص حرمت والے ہیں، یعنی ذو القعدہ، ذو الحجہ، محرم اور رجب۔ ان مہینوں میں اللہ تعالیٰ نے قتال کو حرام قرار دیا تھا تاکہ لوگ امن و امان کے ساتھ حج اور عمرہ کر سکیں۔
یہی سیدھا اور درست دین ہے، اور یہی وہ نظام ہے جو اللہ نے ابتدا سے قائم کیا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ہمیں نصیحت فرماتا ہے کہ ان حرمت والے مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو، یعنی ان کی حرمت کی خلاف ورزی نہ کرو، کیونکہ ان مہینوں میں گناہ کرنا اور بھی زیادہ سنگین ہے۔ یہ نہیں کہ دوسرے مہینوں میں ظلم جائز ہے، بلکہ ان مہینوں کی عظمت کی وجہ سے گناہ کی سزا بھی زیادہ سخت ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ مشرکین سے اس طرح اجتماعی طور پر جہاد کرو جس طرح وہ تم سے اجتماعی طور پر لڑتے ہیں۔ یعنی جب مشرکین تمہارے خلاف متحد ہو کر لڑیں تو تم بھی ان کے مقابلے میں متحد ہو کر جہاد کرو۔ اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنے والوں کے ساتھ ہے، ان کی مدد کرتا ہے اور انہیں کامیابی عطا فرماتا ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نظام انتہائی منظم اور حکمت والا ہے۔ جو شخص اس نظام کو سمجھ کر چلتا ہے، وہ کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا۔ حرمت والے مہینے ہمارے لیے رحمت ہیں، کیونکہ ان میں نیکیوں کا اجر بڑھا دیا جاتا ہے اور برائیوں سے بچنے کی خاص تلقین کی گئی ہے۔ یہ موقع ہے کہ ہم ان مہینوں میں اپنے اعمال کو سنواریں، توبہ کریں اور اللہ کے قریب ہوں۔ نیز یہ آیت ہمیں اتحاد و اجتماعیت کا درس دیتی ہے کہ جس طرح مشرکین اپنے باطل مقاصد کے لیے متحد ہوتے ہیں، ہمیں حق اور نیکی کے لیے اس سے بھی زیادہ متحد ہونا چاہیے۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کے ساتھ ہے، اور جس کے ساتھ اللہ ہو، اسے کبھی کوئی مغلوب نہیں کر سکتا۔
مومنو! (اہل کتاب کے) بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور (ان کو) راہ خدا سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خدا کے رستے میں خرچ نہیں کرتے۔ ان کو اس دن عذاب الیم کی خبر سنادو
جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں (خوب) گرم کیا جائے گا۔ پھر اس سے ان (بخیلوں) کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا) کہ یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو
خدا کے نزدیک مہینے گنتی میں (بارہ ہیں یعنی) اس روز (سے) کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ کتاب خدا میں (برس کے) بارہ مہینے (لکھے ہوئے) ہیں۔ ان میں سے چار مہینے ادب کے ہیں۔ یہی دین (کا) سیدھا راستہ ہے۔ تو ان (مہینوں) میں (قتال ناحق سے) اپنے آپ پر ظلم نہ کرنا۔ اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے
امن کے کس مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کر دینا کفر میں اضافہ کرتا ہے اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں۔ ایک سال تو اس کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام۔ تاکہ ادب کے مہینوں کو جو خدا نے مقرر کئے ہیں گنتی پوری کر لیں۔ اور جو خدا نے منع کیا ہے اس کو جائز کر لیں۔ ان کے برے اعمال ان کے بھلے دکھائی دیتے ہیں۔ اور خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
مومنو! تمہیں کیا ہوا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلو تو تم (کاہلی کے سبب سے) زمین پر گرے جاتے ہو (یعنی گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے) کیا تم آخرت (کی نعمتوں) کو چھوڑ کر دینا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔ دنیا کی زندگی کے فائدے تو آخرت کے مقابل بہت ہی کم ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔