امن کے کس مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کر دینا کفر میں اضافہ کرتا ہے اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں۔ ایک سال تو اس کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام۔ تاکہ ادب کے مہینوں کو جو خدا نے مقرر کئے ہیں گنتی پوری کر لیں۔ اور جو خدا نے منع کیا ہے اس کو جائز کر لیں۔ ان کے برے اعمال ان کے بھلے دکھائی دیتے ہیں۔ اور خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
به تأخيرافكندن ماههاى حرام، افزونى در كفر است و موجب گمراهى كافران. آنان يك سال آن ماه را حلال مىشمردند و يك سال حرام، تا با آن شمار كه خدا حرام كرده است توافق يابند. پس آنچه را كه خدا حرام كرده حلال مىشمارند. كردار ناپسندشان در نظرشان آراسته گرديده و خدا كافران را هدايت نمىكند.
امن کے کس مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کر دینا کفر میں اضافہ کرتا ہے اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں۔ ایک سال تو اس کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام۔ تاکہ ادب کے مہینوں کو جو خدا نے مقرر کئے ہیں گنتی پوری کر لیں۔ اور جو خدا نے منع کیا ہے اس کو جائز کر لیں۔ ان کے برے اعمال ان کے بھلے دکھائی دیتے ہیں۔ اور خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
نَسیء: کسی حرمت والے مہینے کی حرمت کو مؤخر کر کے اس کی جگہ کسی حلال مہینے کو محرم قرار دینا۔
یُضَلُّ: گمراہ کرتا ہے۔
لِیُواطِئُوا: تاکہ موافقت کریں، یعنی تعداد کو پورا کریں۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کے اس قبیح عمل کا پردہ چاک کیا ہے جو عرب کے لوگ اپنے کفر کی وجہ سے کرتے تھے۔ وہ چار مہینوں (ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم، رجب) کی حرمت کو مانتے تو تھے، لیکن جب انہیں جنگ و جدال کی ضرورت پیش آتی تو وہ ان محرم مہینوں میں سے کسی ایک کی حرمت کو مؤخر کر دیتے اور اس کی جگہ کسی حلال مہینے کو محرم قرار دے لیتے۔ اس طرح وہ اپنے مفادات کے لیے اللہ کے حکم کو بدل دیتے تھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نَسیء (یعنی حرمت کو مؤخر کرنا) کفر میں اضافہ ہے، کیونکہ یہ اللہ کے حکم کو تبدیل کرنے کی جسارت ہے۔ شیطان نے ان کے اس عمل کو ان کی نگاہوں میں خوبصورت بنا دیا تھا، اور وہ اسے اپنا حق سمجھتے تھے۔ وہ ایک سال اس مہینے کو حلال کر لیتے اور دوسرے سال اسے حرام رکھتے، تاکہ اللہ کے حرام کردہ مہینوں کی تعداد (چار) کو ظاہری طور پر پورا رکھیں، لیکن اصل میں وہ اللہ کے حرام کردہ مہینوں کو حلال کر کے اس کی نافرمانی کرتے تھے۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کے احکام کو اپنی خواہشات اور مفادات کے تابع کرنا کفر کی نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حلال و حرام کا نظام مقرر فرما دیا ہے، اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی یا ردوبدل کی اجازت نہیں۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں، اللہ انہیں ہدایت نہیں دیتا، کیونکہ انہوں نے خود اپنے لیے گمراہی کا راستہ چنا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اللہ کے احکام کو بغیر کسی تبدیلی کے قبول کرنا چاہیے۔ اپنی عقل، خواہشات، یا معاشرتی رواج کو شریعت پر فوقیت دینا دراصل وہی روش ہے جو جاہلیت میں تھی۔ آج بھی کچھ لوگ اللہ کے واضح احکام کو نظرانداز کر کے اپنے بنائے ہوئے قوانین اور رواج کو اہمیت دیتے ہیں، حالانکہ کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اپنے آپ کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے سامنے مکمل طور پر سرتسلیم خم کر دیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچی ہدایت عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل نہ کرے جو اپنے اعمال کو خوبصورت سمجھ کر گمراہی پر قائم رہتے ہیں۔ آمین۔
جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں (خوب) گرم کیا جائے گا۔ پھر اس سے ان (بخیلوں) کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا) کہ یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو
خدا کے نزدیک مہینے گنتی میں (بارہ ہیں یعنی) اس روز (سے) کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ کتاب خدا میں (برس کے) بارہ مہینے (لکھے ہوئے) ہیں۔ ان میں سے چار مہینے ادب کے ہیں۔ یہی دین (کا) سیدھا راستہ ہے۔ تو ان (مہینوں) میں (قتال ناحق سے) اپنے آپ پر ظلم نہ کرنا۔ اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے
امن کے کس مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کر دینا کفر میں اضافہ کرتا ہے اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں۔ ایک سال تو اس کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام۔ تاکہ ادب کے مہینوں کو جو خدا نے مقرر کئے ہیں گنتی پوری کر لیں۔ اور جو خدا نے منع کیا ہے اس کو جائز کر لیں۔ ان کے برے اعمال ان کے بھلے دکھائی دیتے ہیں۔ اور خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
مومنو! تمہیں کیا ہوا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلو تو تم (کاہلی کے سبب سے) زمین پر گرے جاتے ہو (یعنی گھروں سے نکلنا نہیں چاہتے) کیا تم آخرت (کی نعمتوں) کو چھوڑ کر دینا کی زندگی پر خوش ہو بیٹھے ہو۔ دنیا کی زندگی کے فائدے تو آخرت کے مقابل بہت ہی کم ہیں
اور اگر تم نہ نکلو گے تو خدا تم کو بڑی تکلیف کا عذاب دے گا۔ اور تمہاری جگہ اور لوگ پیدا کر دے گا (جو خدا کے پورے فرمانبردار ہوں گے) اور تم اس کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکو گے اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔