توبہ · 35/129
ترجمہ تلفظ — توبہ
يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ ۖ هَٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ ۝٣٥
Yawma yuhmaa `alaihaa fee naari jahannama fatukwaa bihaa jibaahuhum haazaa maa kanaztum li anfusikum fazooqoo maa kuntum taknizoon
📖 اردو ترجمہ
جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں (خوب) گرم کیا جائے گا۔ پھر اس سے ان (بخیلوں) کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا) کہ یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو
📜

ترجمہ — Tafsir

یومِ قیامت کا وہ ہولناک منظر یاد کرو جب سونے اور چاندی کے وہ ڈھیر جو تم نے جمع کر رکھے تھے، جہنم کی آگ میں تپائے جائیں گے۔ جب وہ مال اپنی انتہائی حد تک گرم ہو جائیں گے، تو انہیں ان لوگوں کی پیشانیوں، پہلوؤں اور کمر پر رکھ کر داغا جائے گا۔ یہ وہی مال ہے جسے تم نے دنیا میں جمع کیا اور اس میں اللہ کے حقوق ادا نہیں کیے، زکوٰۃ نہیں دی، غریبوں اور محتاجوں کا حق روکے رکھا۔ اس وقت انہیں ملامت کرتے ہوئے کہا جائے گا: "یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، اب اس کا عذاب چکھو، جسے تم نے دنیا میں جمع کر کے رکھا تھا۔"

اس آیت میں ان لوگوں کے لیے سخت وعید ہے جو مال جمع کرتے ہیں اور اس میں اللہ کے حقوق ادا نہیں کرتے۔ یاد رکھیں، مال خود برا نہیں ہے، بلکہ برائی اس میں ہے کہ انسان مال کو اپنا سب کچھ سمجھ لے اور اللہ کے حکم کو بھول جائے۔ جو شخص اپنے مال سے زکوٰۃ ادا کرتا ہے، صدقہ و خیرات کرتا ہے، وہ دراصل اپنے مال کو پاک کرتا ہے اور اپنے لیے آخرت کا ذخیرہ بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مال کو رزق کے طور پر عطا کیا ہے تاکہ ہم اس سے اپنی ضروریات پوری کریں اور دوسروں کی مدد کریں، نہ کہ اسے جمع کر کے عبادت کا درجہ دے دیں۔

یہ آیت ہمیں غور کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے اموال کو کیسے استعمال کرتے ہیں۔ کیا ہم اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں؟ کیا ہم غریبوں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھتے ہیں؟ کیا ہم اپنے مال کو پاک رکھتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر مسلمان کو اپنے آپ سے کرنے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے مال کو اس طرح خرچ کریں جو اسے پسند ہو، اور اس عذاب سے بچیں جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 33-37 — توبہ

33هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ
وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس (دین) کو (دنیا کے) تمام دینوں پر غالب کرے۔ اگرچہ کافر ناخوش ہی ہوں
34۞ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ كَثِيرًا مِّنَ الْأَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۗ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
مومنو! (اہل کتاب کے) بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور (ان کو) راہ خدا سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خدا کے رستے میں خرچ نہیں کرتے۔ ان کو اس دن عذاب الیم کی خبر سنادو
35يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ ۖ هَٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ
جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں (خوب) گرم کیا جائے گا۔ پھر اس سے ان (بخیلوں) کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا) کہ یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو
36إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ ۚ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ
خدا کے نزدیک مہینے گنتی میں (بارہ ہیں یعنی) اس روز (سے) کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ کتاب خدا میں (برس کے) بارہ مہینے (لکھے ہوئے) ہیں۔ ان میں سے چار مہینے ادب کے ہیں۔ یہی دین (کا) سیدھا راستہ ہے۔ تو ان (مہینوں) میں (قتال ناحق سے) اپنے آپ پر ظلم نہ کرنا۔ اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے
37إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ ۖ يُضَلُّ بِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا يُحِلُّونَهُ عَامًا وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًا لِّيُوَاطِئُوا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فَيُحِلُّوا مَا حَرَّمَ اللَّهُ ۚ زُيِّنَ لَهُمْ سُوءُ أَعْمَالِهِمْ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ
امن کے کس مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کر دینا کفر میں اضافہ کرتا ہے اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں۔ ایک سال تو اس کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام۔ تاکہ ادب کے مہینوں کو جو خدا نے مقرر کئے ہیں گنتی پوری کر لیں۔ اور جو خدا نے منع کیا ہے اس کو جائز کر لیں۔ ان کے برے اعمال ان کے بھلے دکھائی دیتے ہیں۔ اور خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
توبہقرآن فہرست
129آیت
مدنیRevelation
35آیت

ترجمہ — توبہ 35

سورہ توبہ آیت 35 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں (خوب) گرم…

سورہ آیت 35/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 33–37. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں