Yawma yuhmaa `alaihaa fee naari jahannama fatukwaa bihaa jibaahuhum haazaa maa kanaztum li anfusikum fazooqoo maa kuntum taknizoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں (خوب) گرم کیا جائے گا۔ پھر اس سے ان (بخیلوں) کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا) کہ یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
روزى كه در آتش جهنم گداخته شود و پيشانى و پهلو و پشتشان را با آن داغ كنند. اين است آن چيزى كه براى خود اندوخته بوديد. حال طعم اندوخته خويش را بچشيد.
جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں (خوب) گرم کیا جائے گا۔ پھر اس سے ان (بخیلوں) کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا) کہ یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو
📜
ترجمہ — Tafsir
یومِ قیامت کا وہ ہولناک منظر یاد کرو جب سونے اور چاندی کے وہ ڈھیر جو تم نے جمع کر رکھے تھے، جہنم کی آگ میں تپائے جائیں گے۔ جب وہ مال اپنی انتہائی حد تک گرم ہو جائیں گے، تو انہیں ان لوگوں کی پیشانیوں، پہلوؤں اور کمر پر رکھ کر داغا جائے گا۔ یہ وہی مال ہے جسے تم نے دنیا میں جمع کیا اور اس میں اللہ کے حقوق ادا نہیں کیے، زکوٰۃ نہیں دی، غریبوں اور محتاجوں کا حق روکے رکھا۔ اس وقت انہیں ملامت کرتے ہوئے کہا جائے گا: "یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا، اب اس کا عذاب چکھو، جسے تم نے دنیا میں جمع کر کے رکھا تھا۔"
اس آیت میں ان لوگوں کے لیے سخت وعید ہے جو مال جمع کرتے ہیں اور اس میں اللہ کے حقوق ادا نہیں کرتے۔ یاد رکھیں، مال خود برا نہیں ہے، بلکہ برائی اس میں ہے کہ انسان مال کو اپنا سب کچھ سمجھ لے اور اللہ کے حکم کو بھول جائے۔ جو شخص اپنے مال سے زکوٰۃ ادا کرتا ہے، صدقہ و خیرات کرتا ہے، وہ دراصل اپنے مال کو پاک کرتا ہے اور اپنے لیے آخرت کا ذخیرہ بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مال کو رزق کے طور پر عطا کیا ہے تاکہ ہم اس سے اپنی ضروریات پوری کریں اور دوسروں کی مدد کریں، نہ کہ اسے جمع کر کے عبادت کا درجہ دے دیں۔
یہ آیت ہمیں غور کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے اموال کو کیسے استعمال کرتے ہیں۔ کیا ہم اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں؟ کیا ہم غریبوں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھتے ہیں؟ کیا ہم اپنے مال کو پاک رکھتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہر مسلمان کو اپنے آپ سے کرنے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے مال کو اس طرح خرچ کریں جو اسے پسند ہو، اور اس عذاب سے بچیں جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ آمین۔
مومنو! (اہل کتاب کے) بہت سے عالم اور مشائخ لوگوں کا مال ناحق کھاتے اور (ان کو) راہ خدا سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو خدا کے رستے میں خرچ نہیں کرتے۔ ان کو اس دن عذاب الیم کی خبر سنادو
جس دن وہ مال دوزخ کی آگ میں (خوب) گرم کیا جائے گا۔ پھر اس سے ان (بخیلوں) کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور کہا جائے گا) کہ یہ وہی ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا سو جو تم جمع کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو
خدا کے نزدیک مہینے گنتی میں (بارہ ہیں یعنی) اس روز (سے) کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ کتاب خدا میں (برس کے) بارہ مہینے (لکھے ہوئے) ہیں۔ ان میں سے چار مہینے ادب کے ہیں۔ یہی دین (کا) سیدھا راستہ ہے۔ تو ان (مہینوں) میں (قتال ناحق سے) اپنے آپ پر ظلم نہ کرنا۔ اور تم سب کے سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب کے سب تم سے لڑتے ہیں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے
امن کے کس مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کر دینا کفر میں اضافہ کرتا ہے اس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے ہیں۔ ایک سال تو اس کو حلال سمجھ لیتے ہیں اور دوسرے سال حرام۔ تاکہ ادب کے مہینوں کو جو خدا نے مقرر کئے ہیں گنتی پوری کر لیں۔ اور جو خدا نے منع کیا ہے اس کو جائز کر لیں۔ ان کے برے اعمال ان کے بھلے دکھائی دیتے ہیں۔ اور خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔