توبہ · 43/129
ترجمہ تلفظ — توبہ
عَفَا ٱللَّهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمۡ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ ٱلَّذِينَ صَدَقُواْ وَتَعۡلَمَ ٱلۡكَٰذِبِينَ  ۝٤٣
Afal laahu `anka lima azinta lahum hattaa yatabai yana lakal lazeena sadaqoo wa ta`lamal kaazibeen
📖 اردو ترجمہ
خدا تمہیں معاف کرے۔ تم نے پیشتر اس کے کہ تم پر وہ لوگ بھی ظاہر ہو جاتے ہیں جو سچے ہیں اور وہ بھی تمہیں معلوم ہو جاتے جو جھوٹے ہیں اُن کو اجازت کیوں دی
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • عَفَا اللَّهُ عَنكَ: اللہ تعالیٰ آپ سے درگزر فرمائے۔
  • لِمَ أَذِنتَ لَهُمْ: آپ نے انہیں (پیچھے رہ جانے کی) اجازت کیوں دی؟
  • حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ: یہاں تک کہ آپ پر واضح ہو جاتا۔
  • الَّذِينَ صَدَقُوا: وہ لوگ جنہوں نے (اپنے عذر میں) سچ کہا۔
  • وَتَعْلَمَ الْكَاذِبِينَ: اور آپ جھوٹوں کو جان لیتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور شفقت کے انداز میں فرماتا ہے کہ اللہ نے آپ کو معاف کر دیا، لیکن آپ نے ان منافقوں کو پیچھے رہ جانے کی اجازت کیوں دے دی؟ حالانکہ بہتر یہ تھا کہ آپ انتظار فرماتے یہاں تک کہ آپ پر واضح ہو جاتا کہ کون اپنے عذر میں سچا ہے اور کون جھوٹا۔ یہ عتاب محبت بھرا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو سب سے زیادہ عزت دیتا ہے، لیکن اس موقع پر آپ کو اس بات پر متنبہ کیا گیا کہ منافقین کے معاملے میں احتیاط برتنی چاہیے تھی۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پہلے عفو کا ذکر کیا، پھر عتاب کا، تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دل مطمئن رہے۔ یہ اللہ کی رحمت کا انداز ہے کہ وہ اپنے محبوب سے نرمی سے گفتگو کرتا ہے۔ اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ معاملات میں جلدی نہ کریں، خاص طور پر جب لوگوں کے عذر اور حقیقت میں فرق ہو سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ معاملات میں صبر اور بصیرت سے کام لیں، تاکہ سچے اور جھوٹے میں تمیز ہو سکے۔

یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ بہت مہربان ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ ہم اپنے فیصلوں میں حکمت اور دانائی سے کام لیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے معاملات میں سچائی اور صبر کو اپنائیں، اور منافقانہ رویوں سے بچیں۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 41-45 — توبہ

41ٱنفِرُواْ خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَٰهِدُواْ بِأَمۡوَٰلِكُمۡ وَأَنفُسِكُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ 
تم سبکبار ہو یا گراں بار (یعنی مال و اسباب تھوڑا رکھتے ہو یا بہت، گھروں سے) نکل آؤ۔ اور خدا کے رستے میں مال اور جان سے لڑو۔ یہی تمہارے حق میں اچھا ہے بشرطیکہ سمجھو
42لَوۡ كَانَ عَرَضًا قَرِيبًا وَسَفَرًا قَاصِدًا لَّٱتَّبَعُوكَ وَلَٰكِنۢ بَعُدَتۡ عَلَيۡهِمُ ٱلشُّقَّةُۚ وَسَيَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ لَوِ ٱسۡتَطَعۡنَا لَخَرَجۡنَا مَعَكُمۡ يُهۡلِكُونَ أَنفُسَهُمۡ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ إِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ 
اگر مالِ غنیمت سہل الحصول اور سفر بھی ہلکا سا ہوتا تو تمہارے ساتھ (شوق سے) چل دیتے۔ لیکن مسافت ان کو دور (دراز) نظر آئی (تو عذر کریں گے) ۔ اور خدا کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو آپ کے ساتھ ضرور نکل کھڑے ہوتے یہ (ایسے عذروں سے) اپنے تئیں ہلاک کر رہے ہیں۔ اور خدا جانتا ہے کہ جھوٹے ہیں
43عَفَا ٱللَّهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمۡ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ ٱلَّذِينَ صَدَقُواْ وَتَعۡلَمَ ٱلۡكَٰذِبِينَ 
خدا تمہیں معاف کرے۔ تم نے پیشتر اس کے کہ تم پر وہ لوگ بھی ظاہر ہو جاتے ہیں جو سچے ہیں اور وہ بھی تمہیں معلوم ہو جاتے جو جھوٹے ہیں اُن کو اجازت کیوں دی
44لَا يَسۡتَـٔۡذِنُكَ ٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ أَن يُجَٰهِدُواْ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡۗ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِٱلۡمُتَّقِينَ 
جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو تم سے اجازت نہیں مانگتے (کہ پیچھے رہ جائیں بلکہ چاہتے ہیں کہ) اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور خدا ڈرنے والوں سے واقف ہے
45إِنَّمَا يَسۡتَـٔۡذِنُكَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَٱرۡتَابَتۡ قُلُوبُهُمۡ فَهُمۡ فِي رَيۡبِهِمۡ يَتَرَدَّدُونَ 
اجازت وہی لوگ مانگتے ہیں جو خدا پر اور پچھلے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ سو وہ اپنے شک میں ڈانواں ڈول ہو رہے ہیں
توبہقرآن فہرست
129آیت
مدنیRevelation
43آیت

ترجمہ — توبہ 43

سورہ آیت 43/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 41–45. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں