توبہ · 42/129
ترجمہ تلفظ — توبہ
لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيبًا وَسَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوكَ وَلَٰكِن بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشُّقَّةُ ۚ وَسَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ يُهْلِكُونَ أَنفُسَهُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ۝٤٢
Law kaana `aradan qareebanw wa safaran qaasidal lattaba`ooka wa laakim ba`udat `alaihimush shuqqah; wa sayahlifoona billaahi lawis tata`naa lakharajnaa ma`akum; yuhlikoona anfusahum wal laahu ya`lamu innahum lakaa ziboon
📖 اردو ترجمہ
اگر مالِ غنیمت سہل الحصول اور سفر بھی ہلکا سا ہوتا تو تمہارے ساتھ (شوق سے) چل دیتے۔ لیکن مسافت ان کو دور (دراز) نظر آئی (تو عذر کریں گے) ۔ اور خدا کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو آپ کے ساتھ ضرور نکل کھڑے ہوتے یہ (ایسے عذروں سے) اپنے تئیں ہلاک کر رہے ہیں۔ اور خدا جانتا ہے کہ جھوٹے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • عَرَضًا قَرِيبًا: آسان مال اور قریبی فائدہ (جو بغیر مشقت کے مل سکے)
  • سَفَرًا قَاصِدًا: آسان اور قریب کا سفر (جس میں کوئی تکلیف نہ ہو)
  • الشُّقَّة: دوری اور مشقت (لمبی مسافت اور دشواری)

تفسیر آیت:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے اس رویے کو بے نقاب کیا ہے جو غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہنے کی اجازت مانگ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی! اگر تم انہیں کسی قریبی فائدے اور آسان سفر کی دعوت دیتے، جہاں مال غنیمت ملنے کی امید ہوتی اور کوئی مشقت نہ ہوتی، تو یہ منافقین ضرور تمہارے پیچھے چل پڑتے۔ لیکن جب انہیں شام کی طرف رومیوں سے جنگ کے لیے جانا تھا، جو دور کا سفر تھا اور گرمی کے موسم میں سخت مشقت کا باعث تھا، تو وہ پیچھے رہ گئے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مزید جھوٹ کا پردہ فاش کیا کہ جب تم واپس آؤ گے تو یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم میں طاقت ہوتی تو ضرور تمہارے ساتھ نکلتے۔ اس طرح وہ اپنے جھوٹی قسموں سے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے حال سے خوب واقف ہے اور وہ جانتا ہے کہ یہ اپنے اس دعوے میں بالکل جھوٹے ہیں، کیونکہ وہ حقیقت میں خروج کی طاقت رکھتے تھے، لیکن ان کے دلوں میں ایمان کی کمزوری اور جہاد سے بغض تھا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے، یہ کہ ایمان کی پہچان صرف زبانی دعوے سے نہیں ہوتی، بلکہ حقیقی ایمان وہ ہے جو قربانی اور مشقت برداشت کرنے سے ظاہر ہو۔ دوسرے، اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کے راز جانتا ہے، چاہے ہم کتنے ہی اچھے بہانے کیوں نہ بنا لیں۔ تیسرے، یہ کہ جہاد اور اللہ کے راستے میں قربانی دینا ایمان کا تقاضا ہے، اور جو لوگ اس سے جی چراتے ہیں وہ حقیقت میں اپنا نقصان کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو صرف زبانی نہ بنائیں، بلکہ اپنے اعمال سے ثابت کریں کہ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے سچی محبت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان منافقین کے حال سے عبرت حاصل کرنے اور سچے ایمان پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 40-44 — توبہ

40إِلَّا تَنصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ۖ فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ ۗ وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اگر تم پیغمبر کی مدد نہ کرو گے تو خدا اُن کا مددگار ہے (وہ وقت تم کو یاد ہوگا) جب ان کو کافروں نے گھر سے نکال دیا۔ (اس وقت) دو (ہی ایسے شخص تھے جن) میں (ایک ابوبکرؓ تھے) اور دوسرے (خود رسول الله) جب وہ دونوں غار (ثور) میں تھے اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو خدا ہمارے ساتھ ہے۔ تو خدا نے ان پر تسکین نازل فرمائی اور ان کو ایسے لشکروں سے مدد دی جو تم کو نظر نہیں آتے تھے اور کافروں کی بات کو پست کر دیا۔ اور بات تو خدا ہی کی بلند ہے۔ اور خدا زبردست (اور) حکمت والا ہے
41انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
تم سبکبار ہو یا گراں بار (یعنی مال و اسباب تھوڑا رکھتے ہو یا بہت، گھروں سے) نکل آؤ۔ اور خدا کے رستے میں مال اور جان سے لڑو۔ یہی تمہارے حق میں اچھا ہے بشرطیکہ سمجھو
42لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيبًا وَسَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوكَ وَلَٰكِن بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشُّقَّةُ ۚ وَسَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ يُهْلِكُونَ أَنفُسَهُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ
اگر مالِ غنیمت سہل الحصول اور سفر بھی ہلکا سا ہوتا تو تمہارے ساتھ (شوق سے) چل دیتے۔ لیکن مسافت ان کو دور (دراز) نظر آئی (تو عذر کریں گے) ۔ اور خدا کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو آپ کے ساتھ ضرور نکل کھڑے ہوتے یہ (ایسے عذروں سے) اپنے تئیں ہلاک کر رہے ہیں۔ اور خدا جانتا ہے کہ جھوٹے ہیں
43عَفَا اللَّهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْكَاذِبِينَ
خدا تمہیں معاف کرے۔ تم نے پیشتر اس کے کہ تم پر وہ لوگ بھی ظاہر ہو جاتے ہیں جو سچے ہیں اور وہ بھی تمہیں معلوم ہو جاتے جو جھوٹے ہیں اُن کو اجازت کیوں دی
44لَا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَن يُجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ
جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو تم سے اجازت نہیں مانگتے (کہ پیچھے رہ جائیں بلکہ چاہتے ہیں کہ) اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور خدا ڈرنے والوں سے واقف ہے
توبہقرآن فہرست
129آیت
مدنیRevelation
42آیت

ترجمہ — توبہ 42

سورہ توبہ آیت 42 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اگر مالِ غنیمت سہل الحصول اور سفر بھی ہلکا سا…

سورہ آیت 42/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 40–44. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں