ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- يَحْذَرُ: ڈرتے ہیں، خوف کھاتے ہیں۔
- الْمُنَافِقُونَ: وہ لوگ جو ظاہر میں ایمان لائے لیکن دل میں کفر چھپائے ہوئے ہیں۔
- تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ: ان پر نازل کی جائے (یعنی مسلمانوں پر نازل ہو کر ان کے حالات سے پردہ اٹھائے)۔
- تُنَبِّئُهُمْ: انہیں آگاہ کرے، بتائے۔
- اسْتَهْزِئُوا: مذاق اڑاؤ، طعنہ دو، استہزاء کرو۔
- مُخْرِجٌ: ظاہر کرنے والا، باہر لانے والا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں منافقین کے خوف اور ڈر کا پردہ فاش فرماتے ہیں۔ یہ لوگ بظاہر مسلمانوں کے ساتھ ملے ہوئے تھے، لیکن ان کے دلوں میں کفر، حسد اور بغض بھرا ہوا تھا۔ انہیں ہمیشہ یہ اندیشہ لاحق رہتا تھا کہ کہیں اللہ تعالیٰ کوئی ایسی سورت نہ نازل فرمائے جو ان کے دلوں کے چھپے ہوئے رازوں سے پردہ اٹھا دے اور ان کی اصلیت سب کے سامنے آ جائے۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر دین کا مذاق اڑاتے تھے، لیکن دل میں کانپتے تھے کہ کہیں ان کی پول کھل نہ جائے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ ان سے کہہ دیں: "تم جتنا چاہو مذاق اڑاؤ، استہزاء کرو، طعنے دو، لیکن جان لو کہ اللہ تعالیٰ یقیناً وہ سب کچھ ظاہر کر کے رہے گا جس کا تمہیں ڈر ہے۔" چنانچہ ایسا ہی ہوا — اللہ تعالیٰ نے سورۃ توبہ نازل فرمائی، جس میں منافقین کے احوال اور ان کے اعمال کا پردہ فاش کیا گیا، اور نبی ﷺ کو ان کے رازوں سے آگاہ کیا گیا۔
اس آیت میں منافقین کی دو خصلتیں بیان ہوئیں: ایک یہ کہ وہ ڈرتے ہیں اور خوفزدہ رہتے ہیں، دوسرے یہ کہ وہ پھر بھی استہزاء اور مذاق سے باز نہیں آتے۔ یہ ان کی کمینگی اور بدبختی ہے کہ ڈر کے باوجود وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں:
- پہلا سبق: اللہ تعالیٰ ہر چھپی ہوئی چیز کو جانتا ہے، کوئی راز اس سے پوشیدہ نہیں۔ جس شخص کے دل میں نفاق، ریاکاری یا برے ارادے ہوں، اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور ایک دن سب کچھ ظاہر ہو کر رہے گا۔
- دوسرا سبق: مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کو صاف رکھے، کیونکہ دل کی صفائی ہی نجات کا ذریعہ ہے۔ منافقین کا انجام ذلت اور رسوائی ہے، جبکہ مخلص مومنین کو اللہ کی طرف سے عزت اور کامیابی ملتی ہے۔
- تیسرا سبق: یہ آیت مسلمانوں کے لیے اطمینان کا پیغام ہے کہ اللہ اپنے دین کی حفاظت خود کرتا ہے، اور دشمنوں کی چالیں بے کار رہتی ہیں۔ منافقین چاہے جتنا بھی مذاق اڑائیں، اللہ کا دین غالب رہے گا۔
آئیے ہم سب اپنے دلوں کو نفاق، کینہ اور بغض سے پاک کریں، اور اللہ سے سچے دل سے توبہ کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو بہت پسند فرماتا ہے اور انہیں بخش دیتا ہے۔
📜 آیت 62-66 — توبہ
ترجمہ — توبہ 64
سورہ توبہ آیت 64 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ ان (کے پیغمبر) پر کہیں…سورہ آیت 64/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 62–66. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں







