ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- یَحْلِفُونَ بِاللّٰهِ: وہ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں۔
- کَلِمَةَ الْكُفْرِ: کفر کا کلمہ (یعنی رسول اللہ ﷺ کو برا بھلا کہنا)۔
- وَهَمُّوا بِمَا لَمْ يَنَالُوا: انہوں نے ارادہ کیا اس کام کا جو انہیں میسر نہ ہوا (یعنی آپ ﷺ کو شہید کرنے کا منصوبہ)۔
- نَقَمُوا: انہوں نے عیب لگایا، برا بھلا کہا۔
- أَغْنَاهُمُ اللّٰهُ وَرَسُولُهُ: اللہ اور اس کے رسول نے انہیں مالدار بنا دیا۔
- يَتَوَلَّوْا: وہ منہ موڑیں، راہ راست سے ہٹ جائیں۔
تفسیر:
یہ آیت ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف ناپاک ارادے کیے اور پھر جھوٹی قسمیں کھا کر انکار کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ منافقین اللہ کے نام کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے کوئی بری بات نہیں کہی، حالانکہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے کفر کا کلمہ زبان سے نکالا، رسول اللہ ﷺ کو برا بھلا کہا، اور اس طرح اپنے اسلام کے بعد کفر کا اظہار کیا۔ انہوں نے آپ ﷺ کو نقصان پہنچانے کی سازش بھی کی، لیکن اللہ نے انہیں کامیاب نہ ہونے دیا۔
پھر اللہ تعالیٰ ان کی ناشکری کا ذکر کرتا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں پر کوئی عیب نہیں لگایا سوائے اس کے کہ اللہ اور اس کے رسول نے انہیں اپنے فضل سے مالدار بنا دیا۔ یہ تو محض ناشکری تھی کہ جس نعمت پر انہیں خوش ہونا چاہیے تھا، اسی کو وہ عیب سمجھ کر طعنہ دیتے تھے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں توبہ کی دعوت دیتا ہے کہ اگر وہ اپنے کفر اور نفاق سے توبہ کر لیں تو یہ ان کے لیے بہتر ہے۔ لیکن اگر وہ منہ موڑیں اور اپنی روش پر قائم رہیں تو اللہ انہیں دنیا میں ذلت اور رسوائی کا عذاب دے گا اور آخرت میں جہنم کا دردناک عذاب ان کا انتظار کر رہا ہے۔ اس دن ان کا کوئی دوست نہ ہوگا جو انہیں بچائے اور نہ کوئی مددگار جو ان کی حمایت کرے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ منافقت اور جھوٹی قسمیں اللہ کے نزدیک سخت گناہ ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے قول و فعل میں سچے ہوں، کیونکہ اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ناشکری انسان کو کفر تک پہنچا سکتی ہے، اس لیے ہمیں اللہ کی ہر نعمت پر شکر گزار ہونا چاہیے۔ تیسرا یہ کہ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، وہ توبہ کرنے والوں کو قبول کرتا ہے، چاہے ان کا گناہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ ہمیں اپنے گناہوں پر نادم ہو کر اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، کیونکہ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ اور آخر میں یہ کہ دنیا کی کوئی طاقت اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتی، اس لیے ہمیں اپنی زندگی اللہ کی اطاعت میں گزارنی چاہیے تاکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔
📜 آیت 72-76 — توبہ
ترجمہ — توبہ 74
سورہ توبہ آیت 74 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہ خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (تو…سورہ آیت 74/129 — توبہ التوبة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: توبہ سنیں, توبہ ترجمہ, توبہ mp3, توبہ pdf. آیت 72–76. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں







