رعد · 14/43
ترجمہ تلفظ — رعد
لَهُ دَعْوَةُ الْحَقِّ ۖ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُم بِشَيْءٍ إِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى الْمَاءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهِ ۚ وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ ۝١٤
Lahoo da`watul haqq; wallazeena yad`oona min doonihee laa yastajeeboona lahum bishai`in illaa kabaasiti kaffaihi ilal maaa`i liyablugha faahu wa maa huwa bibaalighih; wa maa du`aaa`ul aafireena illaa fee dalaal
📖 اردو ترجمہ
سودمند پکارنا تو اسی کا ہے اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دور ہی سے) اس کے منہ تک آ پہنچے حالانکہ وہ (اس تک کبھی بھی) نہیں آسکتا اور (اسی طرح) کافروں کی پکار بیکار ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • دعوة الحق: سچی پکار، یعنی توحید کی دعوت یا «لا إله إلا الله»۔
  • یدعون من دونه: اللہ کے سوا جنہیں پکارتے ہیں (بت، معبودانِ باطل
  • لا یستجیبون: وہ جواب نہیں دیتے، کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے۔
  • کباسط کفیه: اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے ہو۔
  • لیبلغ فاه: تاکہ پانی اس کے منہ تک پہنچ جائے۔
  • فی ضلال: گمراہی اور نقصان میں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں توحید اور شرک کی حقیقت کو بہت خوبصورت انداز میں بیان فرمایا ہے۔ اللہ ہی کے لیے ہے سچی پکار، یعنی دعوتِ توحید، کیونکہ وہی حقیقی معبود ہے، وہی سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔ اس کے سوا جس کو بھی پکارا جائے، وہ محض باطل ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ان معبودانِ باطل کا حال بیان کیا ہے جنہیں وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔ وہ ان کی کسی بھی دعا کا جواب نہیں دے سکتے، نہ کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ کوئی نقصان دور کر سکتے ہیں۔ ان کی مثال اس پیاسے شخص جیسی ہے جو دور سے پانی کی طرف اپنے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہو، پانی اس کے منہ تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ہو، لیکن پانی اس کے منہ تک کبھی نہیں پہنچ سکتا۔ وہ ہاتھ پھیلائے رہتا ہے، مگر پیاس بجھانا اس کے بس میں نہیں۔ بالکل اسی طرح مشرک اپنے بتوں کو پکارتے رہتے ہیں، مگر ان کی پکار کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا، کوئی سننے والا نہیں، کوئی جواب دینے والا نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں کی دعا (بتوں کو پکارنا) محض گمراہی میں ہے، یعنی وہ بالکل بے سود اور بے نتیجہ ہے، بلکہ یہ خود ان کی گمراہی کی دلیل ہے۔ وہ اس ذات کو چھوڑ کر پکارتے ہیں جو حقیقت میں کچھ بھی نہیں کر سکتی، اور اس ذات سے منہ موڑ لیتے ہیں جو ہر چیز پر قادر ہے، سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا غور کریں، ہماری زندگی میں کتنے لوگ ہیں جنہیں ہم پکارتے ہیں، جن سے مدد مانگتے ہیں، مگر وہ حقیقت میں کچھ نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ تو وہ ذات ہے جو قریب ہے، سننے والا ہے، دعا قبول کرنے والا ہے۔ وہ فرماتا ہے: "مجھ سے دعا کرو، میں قبول کروں گا۔" کیا ہم اس عظیم رب کو چھوڑ کر کسی اور کی طرف رجوع کریں؟ ہرگز نہیں! ہمیں چاہیے کہ اپنی ہر حاجت، ہر پریشانی میں صرف اللہ سے دعا کریں، کیونکہ وہی ہے جو سچی پکار سنتا ہے اور اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی بھی ہماری دعا کا جواب نہیں دے سکتا، نہ کوئی ہماری مشکل حل کر سکتا ہے۔ آئیے ہم اپنے دل کو صرف اللہ سے جوڑیں، اور اسی سے مدد مانگیں، کیونکہ یہی کامیابی اور سعادت کا راستہ ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 12-16 — رعد

12هُوَ الَّذِي يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ
اور وہی تو ہے جو تم کو ڈرانے اور امید دلانے کے لیے بجلی دکھاتا اور بھاری بھاری بادل پیدا کرتا ہے
13وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيبُ بِهَا مَن يَشَاءُ وَهُمْ يُجَادِلُونَ فِي اللَّهِ وَهُوَ شَدِيدُ الْمِحَالِ
اور رعد اور فرشتے سب اس کے خوف سے اس کی تسبیح و تحمید کرتے رہتے ہیں اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے گرا بھی دیتا ہے اور وہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اور وہ بڑی قوت والا ہے
14لَهُ دَعْوَةُ الْحَقِّ ۖ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُم بِشَيْءٍ إِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى الْمَاءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهِ ۚ وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ
سودمند پکارنا تو اسی کا ہے اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دور ہی سے) اس کے منہ تک آ پہنچے حالانکہ وہ (اس تک کبھی بھی) نہیں آسکتا اور (اسی طرح) کافروں کی پکار بیکار ہے
15وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَظِلَالُهُم بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ۩
اور جتنی مخلوقات آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے یا زبردستی سے خدا کے آگے سجدہ کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح وشام (سجدے کرتے ہیں)
16قُلْ مَن رَّبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ قُلِ اللَّهُ ۚ قُلْ أَفَاتَّخَذْتُم مِّن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ لَا يَمْلِكُونَ لِأَنفُسِهِمْ نَفْعًا وَلَا ضَرًّا ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ أَمْ هَلْ تَسْتَوِي الظُّلُمَاتُ وَالنُّورُ ۗ أَمْ جَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ خَلَقُوا كَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ ۚ قُلِ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ
ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ (تم ہی ان کی طرف سے) کہہ دو کہ خدا۔ پھر (ان سے) کہو کہ تم نے خدا کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو کیوں کارساز بنایا ہے جو خود اپنے نفع ونقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے (یہ بھی) پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں؟ یا اندھیرا اور اُجالا برابر ہوسکتا ہے؟ بھلا ان لوگوں نے جن کو خدا کا شریک مقرر کیا ہے۔ کیا انہوں نے خدا کی سی مخلوقات پیدا کی ہے جس کے سبب ان کو مخلوقات مشتبہ ہوگئی ہے۔ کہہ دو کہ خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ یکتا (اور) زبردست ہے
رعدقرآن فہرست
43آیت
مدنیRevelation
14آیت

ترجمہ — رعد 14

سورہ رعد آیت 14 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : سودمند پکارنا تو اسی کا ہے اور جن کو یہ…

سورہ آیت 14/43 — رعد الرعد (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: رعد سنیں, رعد ترجمہ, رعد mp3, رعد pdf. آیت 12–16. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں