ابراہیم · 37/52
ترجمہ تلفظ — ابراہیم
رَّبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ ۝٣٧
Rabbanaaa inneee askantu min zurriyyatee biwaadin ghairi zee zar`in `inda Baitikal Muharrami Rabbanaa liyuqeemus Salaata faj`al af`idatam minan naasi tahweee ilaihim warzuqhum minas samaraati la`allahum yashkuroon
📖 اردو ترجمہ
اے پروردگار میں نے اپنی اولاد کو میدان (مکہ) میں جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت (وادب) والے گھر کے پاس لابسائی ہے۔ اے پروردگار تاکہ یہ نماز پڑھیں تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو میوؤں سے روزی دے تاکہ (تیرا) شکر کریں

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

ربنا میں نے اپنی کچھ اولاد کو ایک بے زراعت وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس بسایا ہے۔ اے ہمارے رب! میں نے یہ تیرے حکم سے کیا ہے تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ پس تو کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں پھلوں سے رزق عطا فرما تاکہ وہ تیرا شکر ادا کریں۔

معانی الفاظ:

  • أَسْكَنتُ: میں نے بسایا
  • ذُرِّيَّتِي: میری اولاد
  • وَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ: ایسی وادی جہاں کھیتی باڑی نہ ہو
  • الْمُحَرَّمِ: جس کی حرمت و احترام مقرر ہے
  • أَفْئِدَةً: دلوں کو
  • تَهْوِي: مائل ہوں، راغب ہوں

تفسیر:

یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ دعا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ کو مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑتے وقت کی تھی۔ یہ وادی مکہ ہے، جو اس وقت بالکل بنجر تھی، نہ وہاں پانی تھا نہ کھیتی باڑی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اپنے بیٹے کو بیت اللہ کے قریب بسایا تھا، اور ان کا مقصد یہ تھا کہ وہاں نماز قائم ہو اور اللہ کی عبادت ہو۔

اس دعا میں انہوں نے اللہ سے تین چیزیں مانگیں:

  1. کچھ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہوں، یعنی لوگ اس مقام کی طرف راغب ہوں اور وہاں آئیں۔
  2. انہیں پھلوں سے رزق دیا جائے۔
  3. یہ سب کچھ اس لیے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کریں۔

اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی اور مکہ کو حرم امن بنا دیا، لوگوں کے دل اس کی طرف کھینچے جانے لگے، اور وہاں ہر قسم کے پھل اور رزق پہنچنے لگے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ اول یہ کہ اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑا لیکن ان کا بھروسہ اللہ پر تھا۔ دوم یہ کہ دعا بہت بڑی طاقت ہے، ایک باپ کی دعا نے ایک بنجر وادی کو دنیا کا مرکز بنا دیا۔ سوم یہ کہ نماز کی اہمیت بہت زیادہ ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کو اس لیے وہاں بسایا تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ آج بھی ہمیں چاہیے کہ اپنی اولاد کو نماز کی پابندی کی تلقین کریں اور ان کی تربیت دینی طور پر کریں۔ چہارم یہ کہ شکرگزاری بہت بڑی نعمت ہے، اللہ نے رزق اس لیے دیا تاکہ لوگ شکر کریں۔ ہمیں بھی اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا چاہیے۔

یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ جب ہم اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کی راہ میں قدم اٹھاتے ہیں تو اللہ ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا، وہ ہر مشکل میں ہمارا ساتھ دیتا ہے اور ہمیں کامیابی عطا فرماتا ہے۔



📜 آیت 35-39 — ابراہیم

35وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ
اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ میرے پروردگار اس شہر کو (لوگوں کے لیے) امن کی جگہ بنا دے۔ اور مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے کہ بتوں کی پرستش کرنے لگیں بچائے رکھ
36رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ ۖ فَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ۖ وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
اے پروردگار انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ سو جس شخص نے میرا کہا مانا وہ میرا ہے۔ اور جس نے میری نافرمانی کی تو تُو بخشنے والا مہربان ہے
37رَّبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ
اے پروردگار میں نے اپنی اولاد کو میدان (مکہ) میں جہاں کھیتی نہیں تیرے عزت (وادب) والے گھر کے پاس لابسائی ہے۔ اے پروردگار تاکہ یہ نماز پڑھیں تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو میوؤں سے روزی دے تاکہ (تیرا) شکر کریں
38رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّهِ مِن شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ
اے پروردگار جو بات ہم چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں تو سب جانتا ہے۔ اور خدا سے کوئی چیز مخفی نہیں (نہ) زمین میں نہ آسمان میں
39الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ ۚ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ
خدا کا شکر ہے جس نے مجھ کو بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے۔ بےشک میرا پروردگار سننے والا ہے
ابراہیمقرآن فہرست
52آیت
مکیRevelation
37آیت

ترجمہ — ابراہیم 37

سورہ ابراہیم آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اے پروردگار میں نے اپنی اولاد کو میدان (مکہ) میں…

سورہ آیت 37/52 — ابراہیم إبراهيم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ابراہیم سنیں, ابراہیم ترجمہ, ابراہیم mp3, ابراہیم pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں