نحل · 106/128
ترجمہ تلفظ — نحل
مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ۝١٠٦
man kafara billaahi mim ba`di eemaanihee illaa man ukriha wa qalbuhoo mutmma`innum bil eemaani wa laakim man sharaha bilkufri sadran fa`alaihim ghadabum minal laahi wa lahum `azaabun `azeem
📖 اردو ترجمہ
جو شخص ایمان لانے کے بعد خدا کے ساتھ کفر کرے وہ نہیں جو (کفر پر زبردستی) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو۔ بلکہ وہ جو (دل سے اور) دل کھول کر کفر کرے۔ تو ایسوں پر الله کا غضب ہے۔ اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أُكْرِهَ: جبر کیا گیا، زبردستی پر مجبور کیا گیا۔
  • مُطْمَئِنٌّ: مطمئن، ثابت، جما ہوا۔
  • شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا: کفر کو دل سے قبول کر لیا، سینہ کھول کر کفر کو پسند کر لیا۔

تفسیر آیت:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں کے بارے میں بتا رہے ہیں جو ایمان لانے کے بعد کفر کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب تیار ہے۔ لیکن اس حکم سے ایک صورت مستثنیٰ ہے، اور وہ ہے مجبوری کی صورت۔ اگر کسی شخص کو زبردستی کفر کا کلمہ کہنے پر مجبور کیا جائے، اور وہ صرف زبان سے کہہ دے، جبکہ اس کا دل ایمان پر ثابت اور مطمئن ہو، اس کی عقیدت میں کوئی فرق نہ آیا ہو، تو ایسا شخص گناہ گار نہیں ہوگا، اس پر کوئی مواخذہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے دلوں کے حال کو خوب جانتا ہے، اور وہ ان لوگوں کو معاف کر دیتا ہے جو محض ظاہری مجبوری کی وجہ سے زبان سے کچھ کہہ دیں، لیکن ان کا دل ایمان پر قائم ہو۔

البتہ جو لوگ خود اپنی مرضی سے، خوشی خوشی کفر کو قبول کریں، اسے دل سے پسند کریں اور سینہ کھول کر اسے اپنا لیں، ان پر اللہ کا سخت غضب ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی خاطر آخرت کو بیچ دیا، انہوں نے دنیاوی مفادات اور خواہشات کو ایمان پر ترجیح دی۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جو کفر کو پسند کرتے ہیں اور حق سے منہ موڑ لیتے ہیں۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان کی حفاظت کتنی اہم ہے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمان کو ہر قیمت پر محفوظ رکھے، اور کسی بھی حالت میں کفر کو دل میں جگہ نہ دے۔ اللہ تعالیٰ نے مجبور شخص کو رعایت دی ہے، لیکن یہ رعایت صرف اس صورت میں ہے جب دل ایمان پر ثابت ہو۔ ورنہ جو شخص دل سے کفر کو پسند کرے، اس کا انجام بہت برا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کی قدر کریں، اسے مضبوط کریں اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں ثابت قدم رکھے۔ ایمان سب سے بڑی نعمت ہے، اور اسے کھونا سب سے بڑا نقصان ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



📜 آیت 104-108 — نحل

104إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ لَا يَهْدِيهِمُ اللَّهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
یہ لوگ خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو خدا ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لئے عذاب الیم ہے
105إِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَاذِبُونَ
جھوٹ افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور وہی جھوٹے ہیں
106مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
جو شخص ایمان لانے کے بعد خدا کے ساتھ کفر کرے وہ نہیں جو (کفر پر زبردستی) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو۔ بلکہ وہ جو (دل سے اور) دل کھول کر کفر کرے۔ تو ایسوں پر الله کا غضب ہے۔ اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا
107ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ
یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں عزیز رکھا۔ اور اس لئے خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
108أُولَٰئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ
یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے۔ اور یہی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں
نحلقرآن فہرست
128آیت
مکیRevelation
106آیت

ترجمہ — نحل 106

سورہ نحل آیت 106 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو شخص ایمان لانے کے بعد خدا کے ساتھ کفر…

سورہ آیت 106/128 — نحل النحل (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نحل سنیں, نحل ترجمہ, نحل mp3, نحل pdf. آیت 104–108. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں