نحل · 105/128
ترجمہ تلفظ — نحل
إِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَاذِبُونَ ۝١٠٥
Innamaa yaftaril kazibal lazeena laa yu`minoona bi Aayaatil laahi wa ulaaa`ika humul kaaziboon
📖 اردو ترجمہ
جھوٹ افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور وہی جھوٹے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • یفتری: جھوٹ گھڑنا، بہتان باندھنا
  • آیات اللہ: اللہ کی نشانیاں اور اس کی نازل کردہ وحی

تفسیر:

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا پردہ چاک کیا ہے جو نبی کریم ﷺ پر جھوٹ اور افترا کا الزام لگاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جھوٹ گھڑنے اور بہتان باندھنے کی عادت صرف انہی لوگوں کی ہوتی ہے جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں رکھتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں نہ اللہ کا خوف ہوتا ہے اور نہ آخرت کا یقین، اس لیے وہ بلا جھجک جھوٹ بولتے ہیں اور حق کو باطل کے ساتھ ملا دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے صراحت فرمائی کہ حقیقی کاذب یہی لوگ ہیں، نہ کہ محمد رسول اللہ ﷺ۔ آپ ﷺ تو ایمان کے پیکر تھے، آپ کا دل اللہ کے نور سے منور تھا، آپ کی زبان سچائی کے سوا کچھ بولتی ہی نہ تھی۔ جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہو اور اس کی آیات کی تصدیق کرتا ہو، وہ کبھی اللہ پر جھوٹ نہیں باندھ سکتا۔ ایمان اور جھوٹ ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔

قریش کے کافر لوگ رسول اللہ ﷺ پر جھوٹے ہونے کا الزام لگاتے تھے، حالانکہ وہ خود جھوٹ اور بہتان کی انتہا پر تھے۔ وہ اللہ کی آیات کو جادو اور کہانیاں کہہ کر رد کرتے تھے، یہی ان کا سب سے بڑا جھوٹ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ ہی اصل میں کاذب ہیں، کیونکہ انہوں نے سب سے بڑی سچائی (قرآن) کو جھٹلایا اور سب سے بڑے جھوٹ (شرک اور افترا) کو اپنا لیا۔

اس آیت سے ہمیں ایک اہم سبق ملتا ہے کہ سچائی اور ایمان کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے، اس کی زبان سچی ہوتی ہے، اس کا کردار صادق ہوتا ہے۔ اور جو ایمان سے محروم ہوتا ہے، اس کی زندگی جھوٹ اور فریب پر مبنی ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سچائی کو اپنا شعار بنائیں، کیونکہ سچائی ایمان کی علامت ہے اور جھوٹ نفاق کی نشانی۔

رسول اللہ ﷺ کی سچائی تو اتنی مشہور تھی کہ آپ کو "الصادق الامین" (سچا اور امانت دار) کہا جاتا تھا، حتیٰ کہ کافر بھی آپ کی سچائی کے قائل تھے۔ پھر بھی وہ آپ پر جھوٹ کا الزام لگاتے تھے، یہ ان کی اپنی کمینی اور جھوٹی فطرت کا ثبوت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کی حقیقت کھول کر رکھ دی اور ہمیں سکھایا کہ حق ہمیشہ سچوں کے ساتھ ہوتا ہے اور باطل جھوٹوں کا ساتھی ہوتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 103-107 — نحل

103وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ ۗ لِّسَانُ الَّذِي يُلْحِدُونَ إِلَيْهِ أَعْجَمِيٌّ وَهَٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ
اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) کو ایک شخص سکھا جاتا ہے۔ مگر جس کی طرف (تعلیم کی) نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے
104إِنَّ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ لَا يَهْدِيهِمُ اللَّهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
یہ لوگ خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو خدا ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لئے عذاب الیم ہے
105إِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَاذِبُونَ
جھوٹ افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور وہی جھوٹے ہیں
106مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
جو شخص ایمان لانے کے بعد خدا کے ساتھ کفر کرے وہ نہیں جو (کفر پر زبردستی) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو۔ بلکہ وہ جو (دل سے اور) دل کھول کر کفر کرے۔ تو ایسوں پر الله کا غضب ہے۔ اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا
107ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ
یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں عزیز رکھا۔ اور اس لئے خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
نحلقرآن فہرست
128آیت
مکیRevelation
105آیت

ترجمہ — نحل 105

سورہ نحل آیت 105 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جھوٹ افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا…

سورہ آیت 105/128 — نحل النحل (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نحل سنیں, نحل ترجمہ, نحل mp3, نحل pdf. آیت 103–107. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں