ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- رأى: دیکھا، مشاہدہ کیا
- المجرمون: مجرم لوگ، گنہگار، کافر اور مشرک
- فظنوا: انہوں نے یقین کر لیا (یہاں "ظن" کا معنی یقین ہے، محض گمان نہیں)
- مواقعوها: اس میں گرنے والے، اس میں داخل ہونے والے
- مصرفًا: بچنے کی جگہ، پناہ گاہ، انصراف کی راہ، کوئی موڑ یا بھاگنے کا راستہ
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کے ایک ہولناک منظر کا نقشہ کھینچا ہے، جب مجرم لوگ — یعنی وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا، اس کے رسولوں کی تکذیب کی اور زمین پر فساد پھیلایا — اپنی آنکھوں سے جہنم کی آگ کو دیکھیں گے۔ اس منظر میں ان کے دلوں پر ایسی دہشت طاری ہوگی کہ وہ پوری طرح یقین کر لیں گے کہ وہ اس آگ میں گرنے والے ہیں، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں رہے گا۔
یہاں "ظن" کا لفظ استعمال ہوا ہے، لیکن اس کا معنی محض گمان نہیں بلکہ یقینِ کامل ہے۔ جب وہ جہنم کو سامنے دیکھیں گے اور اس کی بھڑکتی ہوئی لپٹیں اور شعلوں کی آوازیں سنیں گے، تو ان کے دلوں سے ہر امید ختم ہو جائے گی اور انہیں پورا یقین ہو جائے گا کہ اب ان کا انجام اس آگ کے سوا کچھ نہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ اس آگ سے بچنے کے لیے کوئی راستہ نہیں پائیں گے۔ نہ کوئی پہاڑ کی اوٹ، نہ کوئی سرنگ، نہ کوئی بھاگنے کی جگہ، نہ کوئی مددگار، نہ کوئی سفارشی — ہر طرف سے ان کے راستے بند ہو چکے ہوں گے۔ وہ جہنم سے بھاگنا چاہیں گے لیکن فرشتے انہیں روک لیں گے، جیسا کہ دوسری آیت میں ہے: "اور جب وہ وہاں سے نکلنا چاہیں گے، تو وہیں لوٹا دیے جائیں گے" (السجدہ: 20)۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے۔ یہ منظر ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ آج اگر ہم اپنے گناہوں پر اصرار کریں گے، شرک اور معصیت میں مبتلا رہیں گے، تو کل اس دن ہم بھی انہی مجرموں میں شامل ہوں گے۔ لیکن اللہ نے ہمیں مہلت دی ہے، توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ آج ہم جہنم سے بچنے کا راستہ آسانی سے تلاش کر سکتے ہیں — وہ راستہ ہے تقویٰ، ایمان، توبہ اور نیک اعمال۔ آج ہمارے پاس قرآن اور سنت کی روشنی ہے، ہمارے پاس نبی کریم ﷺ کی شفاعت کا ذریعہ ہے، لیکن اس دن یہ سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے گا۔
پیارے بھائیو اور بہنو! آج ہی وہ وقت ہے کہ ہم اپنے رب کی طرف رجوع کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور اس آگ سے بچنے کا سامان کریں۔ یاد رکھیں، جس دن مجرم جہنم کو دیکھیں گے، وہاں کوئی بھاگنے کی جگہ نہ ہوگی، لیکن آج ہمارے پاس ہر لمحہ بھاگنے کا موقع ہے — اللہ کی رحمت کی طرف، اس کی مغفرت کی طرف، اس کی پناہ کی طرف۔ اللہ ہمیں اس دن کے عذاب سے محفوظ رکھے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو اس آگ سے بچ کر جنت کی نعمتوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ آمین۔
📜 آیت 51-55 — کہف
ترجمہ — کہف 53
سورہ آیت 53/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 51–55. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








