مریم · 43/98
ترجمہ تلفظ — مریم
يَا أَبَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي أَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا ۝٤٣
Yaaa abati innee qad jaaa`anee minal `ilmi maa lam yaatika fattabi`neee ahdika siraatan Sawiyyaa
📖 اردو ترجمہ
ابّا مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپ کو نہیں ملا ہے تو میرے ساتھ ہوجیئے میں آپ کو سیدھی راہ پر چلا دوں گا
📜

ترجمہ — Tafsir

اے والدِ محترم! میرے پاس علمِ الٓہی سے وہ کچھ آیا ہے جو آپ تک نہیں پہنچا، اس لیے آپ میری پیروی کریں، میں آپ کو سیدھا اور راست راستہ دکھاؤں گا۔

معانی الفاظ:

  • يَا أَبَتِ: اے میرے والد (پیار اور شفقت کے ساتھ پکارنا)
  • مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ: وہ علم جو آپ کو نہیں دیا گیا (یعنی وحی اور نبوت کا علم)
  • فَاتَّبِعْنِي: پس میری پیروی کریں، میری بات مان لیں
  • أَهْدِكَ: میں آپ کو راستہ دکھاؤں گا
  • صِرَاطًا سَوِيًّا: سیدھا اور ہموار راستہ (جس میں کوئی کجی نہ ہو)

تفسیر:

حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد آزر کو دعوتِ توحید دے رہے ہیں، لیکن والد بت پرستی پر قائم ہیں۔ اس آیت میں ابراہیم علیہ السلام انتہائی ادب اور محبت کے ساتھ اپنے والد کو سمجھاتے ہیں کہ اے والد! اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علم عطا فرمایا ہے جو آپ کو نہیں ملا۔ یہ علم وحی اور نبوت کا علم ہے، جو آسمانی ہدایت پر مبنی ہے۔ آپ میری بات مان لیں، میں آپ کو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کروں گا۔

یہ بات غور طلب ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کو دعوت دیتے ہوئے کس قدر نرمی اور احترام کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ "میرا علم تمہارے علم سے بہتر ہے" بلکہ کہتے ہیں کہ "میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ تک نہیں پہنچا"۔ یہ اندازِ گفتار سکھاتا ہے کہ حق کی دعوت دیتے وقت نرمی، محبت اور ادب کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں چند اہم سبق ملتے ہیں:

  1. علم کی فضیلت: علمِ دین سب سے بڑا سرمایہ ہے، اور جو شخص علمِ حق رکھتا ہے اسے چاہیے کہ دوسروں تک پہنچائے۔
  2. ادب کے ساتھ دعوت: اپنے بڑوں کو حق کی دعوت دیتے وقت انتہائی ادب اور نرمی اختیار کرنی چاہیے۔ ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بت پرست والد سے یہ اندازِ گفتار ہمارے لیے نمونہ ہے۔
  3. سیدھا راستہ: صراطِ مستقیم وہ راستہ ہے جو اللہ تک پہنچاتا ہے، اور یہی کامیابی کا راستہ ہے۔ جو شخص اس راستے پر چلے گا، وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوگا۔
  4. والدین کے ساتھ حسنِ سلوک: اگرچہ والد بت پرست تھے، لیکن ابراہیم علیہ السلام نے انہیں چھوڑا نہیں، بلکہ محبت اور شفقت سے انہیں حق کی طرف بلاتے رہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے، چاہے وہ ہمارے عقائد سے متفق نہ ہوں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے گھر والوں اور رشتہ داروں کو نرمی اور حکمت کے ساتھ حق کی دعوت دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 41-45 — مریم

41وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا
اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو۔ بےشک وہ نہایت سچے پیغمبر تھے
42إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا
جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابّا آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں
43يَا أَبَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي أَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا
ابّا مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپ کو نہیں ملا ہے تو میرے ساتھ ہوجیئے میں آپ کو سیدھی راہ پر چلا دوں گا
44يَا أَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ ۖ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَٰنِ عَصِيًّا
ابّا شیطان کی پرستش نہ کیجیئے۔ بےشک شیطان خدا کا نافرمان ہے
45يَا أَبَتِ إِنِّي أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمَٰنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَانِ وَلِيًّا
ابّا مجھے ڈر لگتا ہے کہ آپ کو خدا کا عذاب آپکڑے تو آپ شیطان کے ساتھی ہوجائیں
مریمقرآن فہرست
98آیت
مکیRevelation
43آیت

ترجمہ — مریم 43

سورہ مریم آیت 43 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ابّا مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپ کو نہیں…

سورہ آیت 43/98 — مریم مريم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مریم سنیں, مریم ترجمہ, مریم mp3, مریم pdf. آیت 41–45. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں