مریم · 42/98
ترجمہ تلفظ — مریم
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا ۝٤٢
Iz qaala li abeehi yaaa abati lima ta`budu maa laa yasma`u wa laa yubsiru wa laa yughnee `anka shai`aa
📖 اردو ترجمہ
جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابّا آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • یا أَبَتِ: اے میرے باپ (پیار اور شفقت کے ساتھ پکارنا)
  • تَعْبُدُ: تم عبادت کرتے ہو
  • لا یَسْمَعُ: نہیں سنتا
  • لا یُبْصِرُ: نہیں دیکھتا
  • لا یُغْنِی عَنکَ شَیْئًا: تمہیں کسی چیز سے بے نیاز نہیں کر سکتا، یعنی تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا

تفسیر:

یہ آیت کریمہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس عظیم موقف کا ذکر کر رہی ہے جب انہوں نے اپنے باپ آزر کو شرک کی تاریکی سے نکال کر توحید کی روشنی میں لانے کی کوشش کی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نہایت شفقت اور محبت کے ساتھ اپنے باپ کو مخاطب کیا اور اس انداز میں سوال کیا جو عقل و بصیرت کو جھنجوڑ دینے والا ہے۔

انہوں نے فرمایا: اے میرے باپ! تم ان بتوں کی عبادت کیوں کرتے ہو جو نہ تمہاری دعا سن سکتے ہیں، نہ تمہاری عبادت دیکھ سکتے ہیں، اور نہ ہی تمہیں کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں؟ یہ بت نہ تو تمہارے دکھ درد کو سن سکتے ہیں، نہ تمہاری حاجتوں کو دیکھ سکتے ہیں، اور نہ ہی اللہ کے عذاب سے تمہیں بچا سکتے ہیں۔

یہ سوال دراصل ایک ایسی دلیل ہے جو ہر صاحب عقل انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کو محبت اور حکمت کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کی کہ جو چیز نہ سن سکے، نہ دیکھ سکے، اور نہ کوئی نفع یا نقصان پہنچا سکے، وہ عبادت کے لائق کیسے ہو سکتی ہے؟

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دعوت الی اللہ کا انداز نہایت نرم اور شفیق ہونا چاہیے، چاہے مخاطب کوئی بھی ہو، حتیٰ کہ اپنے والد ہی کیوں نہ ہوں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کو "یا أبت" کہہ کر پکارا جو محبت اور احترام کا انداز ہے، تاکہ ان کے دل میں بات اتر سکے۔

اس آیت سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے عقیدے کی بنیاد تقلید پر نہیں بلکہ دلیل اور بصیرت پر رکھنی چاہیے۔ ہمیں اپنے معبود کو جانچنا چاہیے کہ کیا وہ ہماری سنتا ہے، ہماری پکار کو جانتا ہے، اور ہماری مدد کر سکتا ہے؟ صرف وہی ذات اس لائق ہے جو سننے والی، دیکھنے والی اور ہر چیز پر قادر ہو، اور وہ ہے اللہ رب العزت۔

آج بھی بہت سے لوگ اپنے آباء و اجداد کی تقلید میں ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سن سکتی ہیں نہ دیکھ سکتی ہیں۔ یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے عقیدے کا جائزہ لیں اور صرف اسی کی عبادت کریں جو حقیقی معنوں میں سماعت، بصارت اور قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توحید پر ثابت قدم رکھے اور شرک سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 40-44 — مریم

40إِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْأَرْضَ وَمَنْ عَلَيْهَا وَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ
ہم ہی زمین کے اور جو لوگ اس پر (بستے) ہیں ان کے وارث ہیں۔ اور ہماری ہی طرف ان کو لوٹنا ہوگا
41وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا
اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو۔ بےشک وہ نہایت سچے پیغمبر تھے
42إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا
جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابّا آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں
43يَا أَبَتِ إِنِّي قَدْ جَاءَنِي مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِي أَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِيًّا
ابّا مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپ کو نہیں ملا ہے تو میرے ساتھ ہوجیئے میں آپ کو سیدھی راہ پر چلا دوں گا
44يَا أَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّيْطَانَ ۖ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلرَّحْمَٰنِ عَصِيًّا
ابّا شیطان کی پرستش نہ کیجیئے۔ بےشک شیطان خدا کا نافرمان ہے
مریمقرآن فہرست
98آیت
مکیRevelation
42آیت

ترجمہ — مریم 42

سورہ مریم آیت 42 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابّا آپ…

سورہ آیت 42/98 — مریم مريم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مریم سنیں, مریم ترجمہ, مریم mp3, مریم pdf. آیت 40–44. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں