بقرہ · 102/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَٱتَّبَعُواْ مَا تَتۡلُواْ ٱلشَّيَٰطِينُ عَلَىٰ مُلۡكِ سُلَيۡمَٰنَۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيۡمَٰنُ وَلَٰكِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ كَفَرُواْ يُعَلِّمُونَ ٱلنَّاسَ ٱلسِّحۡرَ وَمَآ أُنزِلَ عَلَى ٱلۡمَلَكَيۡنِ بِبَابِلَ هَٰرُوتَ وَمَٰرُوتَۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنۡ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَآ إِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَةٌ فَلَا تَكۡفُرۡۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنۡهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِۦ بَيۡنَ ٱلۡمَرۡءِ وَزَوۡجِهِۦۚ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنۡ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡۚ وَلَقَدۡ عَلِمُواْ لَمَنِ ٱشۡتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنۡ خَلَٰقٍۚ وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡاْ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمۡۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ  ۝١٠٢
Wattaba`oo maa tatlush Shayaateenu `alaa mulki Sulaimaana wa maa kafara Sulaimaanu wa laakinnash Shayattena kafaroo yu`al limoonan naasas sihra wa maaa unzila `alal malakaini bi Baabila Haaroota wa Maaroot; wa maa yu`allimaani min ahadin hattaa yaqoolaaa innamaa nahnu fitnatun falaa takfur fayata`al lamoona minhumaa maa yufarriqoona bihee bainal mar`i wa zawjih; wa maa hum bidaaarreena bihee min ahadin illaa bi-iznillah; wa yata`allamoona maa yadurruhum wa laa yanfa`uhum; wa laqad `alimoo lamanish taraahu maa lahoo fil Aakhirati min khalaaq; wa labi`sa maa sharaw biheee anfusahum; law kaanoo ya`lamoon
📖 اردو ترجمہ
اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہدِ سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی، بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے، جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہٴ) آزمائش ہیں۔ تم کفر میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے (ایسا) جادو سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا، اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، وہ بری تھی۔ کاش وہ (اس بات کو) جانتے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • تتلو: پڑھتی، بیان کرتی ہیں۔
  • علیٰ ملک سلیمان: سلیمان علیہ السلام کی حکومت کے زمانے میں۔
  • فتنہ: آزمائش، امتحان۔
  • خلاق: نصیب، حصہ (یہاں جنت میں حصہ مراد ہے
  • شروا: بیچا، فروخت کیا۔

تفسیر:

یہ آیت کریمہ بنی اسرائیل کے ایک اور قبیح فعل کا پردہ فاش کرتی ہے کہ جب انہوں نے اللہ کی کتاب کو چھوڑ کر جادو اور شیطانی علوم کو اپنا لیا تھا۔ وہ ان چیزوں کی پیروی کرنے لگے جو شیاطین حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کے زمانے میں جھوٹ بول کر پھیلاتی تھیں۔ شیاطین نے یہ افواہ پھیلائی تھی کہ سلیمان علیہ السلام نے جادو کے ذریعے اپنی حکومت حاصل کی تھی، حالانکہ یہ سراسر بہتان تھا۔ اللہ تعالیٰ نے خود ان کی تردید فرمائی کہ سلیمان علیہ السلام نے کبھی کفر یا جادو کا ارتکاب نہیں کیا، بلکہ کفر تو خود شیاطین کا فعل تھا جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ان شیطانی علوم کا ذکر فرمایا جو بابل (عراق) کے مقام پر دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر نازل کیے گئے تھے۔ یہ فرشتے اللہ کی طرف سے لوگوں کے لیے آزمائش تھے۔ وہ کسی کو جادو نہیں سکھاتے تھے جب تک کہ پہلے اسے متنبہ نہ کر دیتے کہ "ہم صرف آزمائش ہیں، تم جادو سیکھ کر کفر نہ کرو۔" اس کے باوجود لوگ ان سے وہ چیزیں سیکھتے تھے جن سے میاں بیوی کے درمیان نفرت پیدا ہوتی اور وہ ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے۔

لیکن اہم بات یہ ہے کہ جادوگر کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر اللہ کے حکم سے۔ یعنی جادو کا اثر بھی اللہ کی مشیت کے تابع ہے، یہ کوئی آزاد طاقت نہیں۔ اور جو لوگ جادو سیکھتے ہیں وہ دراصل ایسی چیز سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچاتی ہے، فائدہ نہیں دیتی۔ یہود جانتے تھے کہ جادو کو ترجیح دینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، پھر بھی انہوں نے اللہ کی کتاب کو چھوڑ کر جادو کو خرید لیا۔ کتنا برا سودا تھا جو انہوں نے اپنے نفسوں کے بدلے کیا، اگر انہیں حقیقی علم ہوتا تو وہ ایسا ہرگز نہ کرتے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ جادو اور عملیات جیسی چیزیں کفر اور گمراہی کا ذریعہ ہیں، اور مسلمان کو ان سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔ دوسرے یہ کہ اللہ پر بھروسہ رکھنے والے کو کسی جادو یا شیطانی اثر کا خوف نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ بغیر اللہ کے حکم کے کوئی کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ تیسرے یہ کہ علم کو صحیح نیت اور صحیح ذرائع سے حاصل کرنا چاہیے، اور جو علم انسان کو اللہ سے دور کر دے وہ حقیقت میں جہالت ہے۔ آئیے ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اللہ کی کتاب و سنت کو اپنی زندگی کا مرکز بنائیں، کیونکہ اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ اللہ ہمیں شیطانی وسوسوں اور گمراہ کن علوم سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 100-104 — بقرہ

100أَوَكُلَّمَا عَٰهَدُواْ عَهۡدًا نَّبَذَهُۥ فَرِيقٌ مِّنۡهُمۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ 
ان لوگوں نے جب (خدا سے) عہد واثق کیا تو ان میں سے ایک فریق نے اس کو (کسی چیز کی طرح) پھینک دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر بے ایمان ہیں
101وَلَمَّا جَآءَهُمۡ رَسُولٌ مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمۡ نَبَذَ فَرِيقٌ مِّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ كِتَٰبَ ٱللَّهِ وَرَآءَ ظُهُورِهِمۡ كَأَنَّهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ 
اور جب ان کے پاس الله کی طرف سے پیغمبر (آخرالزماں) آئے، اور وہ ان کی (آسمانی) کتاب کی بھی تصدیق کرتے ہیں تو جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی، ان میں سے ایک جماعت نے خدا کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا، گویا وہ جانتے ہی نہیں
102وَٱتَّبَعُواْ مَا تَتۡلُواْ ٱلشَّيَٰطِينُ عَلَىٰ مُلۡكِ سُلَيۡمَٰنَۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيۡمَٰنُ وَلَٰكِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ كَفَرُواْ يُعَلِّمُونَ ٱلنَّاسَ ٱلسِّحۡرَ وَمَآ أُنزِلَ عَلَى ٱلۡمَلَكَيۡنِ بِبَابِلَ هَٰرُوتَ وَمَٰرُوتَۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنۡ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَآ إِنَّمَا نَحۡنُ فِتۡنَةٌ فَلَا تَكۡفُرۡۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنۡهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِۦ بَيۡنَ ٱلۡمَرۡءِ وَزَوۡجِهِۦۚ وَمَا هُم بِضَآرِّينَ بِهِۦ مِنۡ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمۡ وَلَا يَنفَعُهُمۡۚ وَلَقَدۡ عَلِمُواْ لَمَنِ ٱشۡتَرَىٰهُ مَا لَهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنۡ خَلَٰقٍۚ وَلَبِئۡسَ مَا شَرَوۡاْ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمۡۚ لَوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ 
اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہدِ سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی، بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے، جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہٴ) آزمائش ہیں۔ تم کفر میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے (ایسا) جادو سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا، اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، وہ بری تھی۔ کاش وہ (اس بات کو) جانتے
103وَلَوۡ أَنَّهُمۡ ءَامَنُواْ وَٱتَّقَوۡاْ لَمَثُوبَةٌ مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِ خَيۡرٌۚ لَّوۡ كَانُواْ يَعۡلَمُونَ 
اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو خدا کے ہاں سے بہت اچھا صلہ ملتا۔ اے کاش، وہ اس سے واقف ہوتے
104يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَقُولُواْ رَٰعِنَا وَقُولُواْ ٱنظُرۡنَا وَٱسۡمَعُواْۗ وَلِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ 
اے اہل ایمان! (گفتگو کے وقت پیغمبرِ خدا سے) راعنا نہ کہا کرو۔ انظرنا کہا کرو۔ اور خوب سن رکھو، اور کافروں کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
102آیت

ترجمہ — بقرہ 102

سورہ آیت 102/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 100–104. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں