ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تتلو: پڑھتی، بیان کرتی ہیں۔
- علیٰ ملک سلیمان: سلیمان علیہ السلام کی حکومت کے زمانے میں۔
- فتنہ: آزمائش، امتحان۔
- خلاق: نصیب، حصہ (یہاں جنت میں حصہ مراد ہے)۔
- شروا: بیچا، فروخت کیا۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ بنی اسرائیل کے ایک اور قبیح فعل کا پردہ فاش کرتی ہے کہ جب انہوں نے اللہ کی کتاب کو چھوڑ کر جادو اور شیطانی علوم کو اپنا لیا تھا۔ وہ ان چیزوں کی پیروی کرنے لگے جو شیاطین حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کے زمانے میں جھوٹ بول کر پھیلاتی تھیں۔ شیاطین نے یہ افواہ پھیلائی تھی کہ سلیمان علیہ السلام نے جادو کے ذریعے اپنی حکومت حاصل کی تھی، حالانکہ یہ سراسر بہتان تھا۔ اللہ تعالیٰ نے خود ان کی تردید فرمائی کہ سلیمان علیہ السلام نے کبھی کفر یا جادو کا ارتکاب نہیں کیا، بلکہ کفر تو خود شیاطین کا فعل تھا جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان شیطانی علوم کا ذکر فرمایا جو بابل (عراق) کے مقام پر دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر نازل کیے گئے تھے۔ یہ فرشتے اللہ کی طرف سے لوگوں کے لیے آزمائش تھے۔ وہ کسی کو جادو نہیں سکھاتے تھے جب تک کہ پہلے اسے متنبہ نہ کر دیتے کہ "ہم صرف آزمائش ہیں، تم جادو سیکھ کر کفر نہ کرو۔" اس کے باوجود لوگ ان سے وہ چیزیں سیکھتے تھے جن سے میاں بیوی کے درمیان نفرت پیدا ہوتی اور وہ ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے۔
لیکن اہم بات یہ ہے کہ جادوگر کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر اللہ کے حکم سے۔ یعنی جادو کا اثر بھی اللہ کی مشیت کے تابع ہے، یہ کوئی آزاد طاقت نہیں۔ اور جو لوگ جادو سیکھتے ہیں وہ دراصل ایسی چیز سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچاتی ہے، فائدہ نہیں دیتی۔ یہود جانتے تھے کہ جادو کو ترجیح دینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، پھر بھی انہوں نے اللہ کی کتاب کو چھوڑ کر جادو کو خرید لیا۔ کتنا برا سودا تھا جو انہوں نے اپنے نفسوں کے بدلے کیا، اگر انہیں حقیقی علم ہوتا تو وہ ایسا ہرگز نہ کرتے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ جادو اور عملیات جیسی چیزیں کفر اور گمراہی کا ذریعہ ہیں، اور مسلمان کو ان سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔ دوسرے یہ کہ اللہ پر بھروسہ رکھنے والے کو کسی جادو یا شیطانی اثر کا خوف نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ بغیر اللہ کے حکم کے کوئی کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ تیسرے یہ کہ علم کو صحیح نیت اور صحیح ذرائع سے حاصل کرنا چاہیے، اور جو علم انسان کو اللہ سے دور کر دے وہ حقیقت میں جہالت ہے۔ آئیے ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اللہ کی کتاب و سنت کو اپنی زندگی کا مرکز بنائیں، کیونکہ اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ اللہ ہمیں شیطانی وسوسوں اور گمراہ کن علوم سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 100-104 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 102
سورہ آیت 102/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 100–104. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








