اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو خدا کے ہاں سے بہت اچھا صلہ ملتا۔ اے کاش، وہ اس سے واقف ہوتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
آمَنُوا: ایمان لائیں، یعنی اللہ پر، اس کے رسول پر اور اس کی کتاب پر سچے دل سے یقین کریں۔
وَاتَّقَوْا: پرہیزگاری اختیار کریں، یعنی اللہ کے احکام پر عمل کریں اور اس کے منع کردہ کاموں سے بچیں۔
لَمَثُوبَةٌ: ثواب، اجر اور نیکی کا بدلہ۔
خَيْرٌ: بہتر اور افضل۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہود کے اس رویے کی نشاندہی کر رہے ہیں جنہوں نے سحر (جادو) اور دنیاوی مفادات کو اپنا ذریعہ بنایا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے انکار کر دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر یہ لوگ سچے دل سے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے، یعنی اللہ کے حکموں پر عمل کرتے اور اس کی نافرمانی سے بچتے، تو اللہ کے پاس جو ثواب اور اجر ہے وہ ان کے لیے ان تمام چیزوں سے بہتر ہوتا جو وہ سحر اور دنیاوی ذرائع سے حاصل کر رہے تھے۔
یہاں اللہ تعالیٰ یہ حقیقت واضح کر رہے ہیں کہ ایمان اور تقویٰ کی برکت سے ملنے والا ثواب نہ صرف دنیا میں سکون اور اطمینان دیتا ہے بلکہ آخرت میں بھی کامیابی کا ضامن ہے۔ سحر اور دنیاوی مفادات عارضی ہیں، جبکہ اللہ کا ثواب دائمی اور لازوال ہے۔ اگر یہ لوگ حقیقی علم رکھتے کہ ایمان اور تقویٰ کا نتیجہ کیا ہے، تو وہ یقیناً ایمان کا راستہ اختیار کرتے اور سحر جیسے باطل ذرائع کو ترک کر دیتے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک عظیم سبق ملتا ہے کہ اللہ کی رضا اور اس کا ثواب دنیا کی ہر چیز سے بہتر ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں ایمان اور تقویٰ کو اولین ترجیح دیں، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی تک پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ ہم بھٹکنے کے بجائے سیدھے راستے پر چلیں اور اس کی رحمت سے بہرہ مند ہوں۔ آئیے ہم اپنے اعمال کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالیں اور اس کے وعدے پر یقین رکھیں کہ اس کا ثواب ہر چیز سے افضل ہے۔
اور جب ان کے پاس الله کی طرف سے پیغمبر (آخرالزماں) آئے، اور وہ ان کی (آسمانی) کتاب کی بھی تصدیق کرتے ہیں تو جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی، ان میں سے ایک جماعت نے خدا کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا، گویا وہ جانتے ہی نہیں
اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہدِ سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی، بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے، جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہٴ) آزمائش ہیں۔ تم کفر میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے (ایسا) جادو سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا، اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، وہ بری تھی۔ کاش وہ (اس بات کو) جانتے
جو لوگ کافر ہیں، اہل کتاب یا مشرک وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے خیر (وبرکت) نازل ہو۔ اور خدا تو جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر لیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔