بقرہ · 103/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِّنْ عِندِ اللَّهِ خَيْرٌ ۖ لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ۝١٠٣
Wa law annahum aamanoo wattaqaw lamasoobatum min `indillaahi khairun law kaanoo ya`lamoon
📖 اردو ترجمہ
اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو خدا کے ہاں سے بہت اچھا صلہ ملتا۔ اے کاش، وہ اس سے واقف ہوتے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • آمَنُوا: ایمان لائیں، یعنی اللہ پر، اس کے رسول پر اور اس کی کتاب پر سچے دل سے یقین کریں۔
  • وَاتَّقَوْا: پرہیزگاری اختیار کریں، یعنی اللہ کے احکام پر عمل کریں اور اس کے منع کردہ کاموں سے بچیں۔
  • لَمَثُوبَةٌ: ثواب، اجر اور نیکی کا بدلہ۔
  • خَيْرٌ: بہتر اور افضل۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہود کے اس رویے کی نشاندہی کر رہے ہیں جنہوں نے سحر (جادو) اور دنیاوی مفادات کو اپنا ذریعہ بنایا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے انکار کر دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر یہ لوگ سچے دل سے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے، یعنی اللہ کے حکموں پر عمل کرتے اور اس کی نافرمانی سے بچتے، تو اللہ کے پاس جو ثواب اور اجر ہے وہ ان کے لیے ان تمام چیزوں سے بہتر ہوتا جو وہ سحر اور دنیاوی ذرائع سے حاصل کر رہے تھے۔

یہاں اللہ تعالیٰ یہ حقیقت واضح کر رہے ہیں کہ ایمان اور تقویٰ کی برکت سے ملنے والا ثواب نہ صرف دنیا میں سکون اور اطمینان دیتا ہے بلکہ آخرت میں بھی کامیابی کا ضامن ہے۔ سحر اور دنیاوی مفادات عارضی ہیں، جبکہ اللہ کا ثواب دائمی اور لازوال ہے۔ اگر یہ لوگ حقیقی علم رکھتے کہ ایمان اور تقویٰ کا نتیجہ کیا ہے، تو وہ یقیناً ایمان کا راستہ اختیار کرتے اور سحر جیسے باطل ذرائع کو ترک کر دیتے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں ایک عظیم سبق ملتا ہے کہ اللہ کی رضا اور اس کا ثواب دنیا کی ہر چیز سے بہتر ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں ایمان اور تقویٰ کو اولین ترجیح دیں، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی تک پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ ہم بھٹکنے کے بجائے سیدھے راستے پر چلیں اور اس کی رحمت سے بہرہ مند ہوں۔ آئیے ہم اپنے اعمال کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالیں اور اس کے وعدے پر یقین رکھیں کہ اس کا ثواب ہر چیز سے افضل ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 101-105 — بقرہ

101وَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيقٌ مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ كِتَابَ اللَّهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
اور جب ان کے پاس الله کی طرف سے پیغمبر (آخرالزماں) آئے، اور وہ ان کی (آسمانی) کتاب کی بھی تصدیق کرتے ہیں تو جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی، ان میں سے ایک جماعت نے خدا کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا، گویا وہ جانتے ہی نہیں
102وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ۚ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہدِ سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی، بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے، جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہٴ) آزمائش ہیں۔ تم کفر میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے (ایسا) جادو سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا، اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، وہ بری تھی۔ کاش وہ (اس بات کو) جانتے
103وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِّنْ عِندِ اللَّهِ خَيْرٌ ۖ لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو خدا کے ہاں سے بہت اچھا صلہ ملتا۔ اے کاش، وہ اس سے واقف ہوتے
104يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ
اے اہل ایمان! (گفتگو کے وقت پیغمبرِ خدا سے) راعنا نہ کہا کرو۔ انظرنا کہا کرو۔ اور خوب سن رکھو، اور کافروں کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے
105مَّا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلَا الْمُشْرِكِينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْكُم مِّنْ خَيْرٍ مِّن رَّبِّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
جو لوگ کافر ہیں، اہل کتاب یا مشرک وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے خیر (وبرکت) نازل ہو۔ اور خدا تو جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر لیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
103آیت

ترجمہ — بقرہ 103

سورہ بقرہ آیت 103 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو…

سورہ آیت 103/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 101–105. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں