Wa lammaa jaaa`ahum Rasoolum min `indil laahi musaddiqul limaa ma`ahum nabaza fareequm minal lazeena ootul Kitaaba Kitaabal laahi waraaa`a zuhoorihim ka annahum laa ya`lamoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب ان کے پاس الله کی طرف سے پیغمبر (آخرالزماں) آئے، اور وہ ان کی (آسمانی) کتاب کی بھی تصدیق کرتے ہیں تو جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی، ان میں سے ایک جماعت نے خدا کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا، گویا وہ جانتے ہی نہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و گروهى از اهل كتاب چون پيامبرى از جانب خدا بر آنان مبعوث شد كه به كتابشان هم گواهى مىداد، كتاب خدا را چنان كه گويى از آن بىخبرند، پس پشت افكندند.
اور جب ان کے پاس الله کی طرف سے پیغمبر (آخرالزماں) آئے، اور وہ ان کی (آسمانی) کتاب کی بھی تصدیق کرتے ہیں تو جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی، ان میں سے ایک جماعت نے خدا کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا، گویا وہ جانتے ہی نہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
نَبَذَ: پھینک دیا، پیچھے ڈال دیا۔
وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ: اپنی پیٹھ کے پیچھے، یعنی بالکل نظر انداز کر دیا۔
كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ: گویا وہ جانتے ہی نہیں۔
تفسیر:
جب اہلِ کتاب (یہود) کے پاس اللہ کی طرف سے رسولِ مقبول حضرت محمد ﷺ تشریف لائے، اور آپ وہ کتاب (قرآن) لے کر آئے جو ان کے پاس موجود تورات کی تصدیق کرتی تھی اور ان کے علم کے مطابق بالکل سچی اور برحق تھی، تو اس کے باوجود ان میں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب (تورات) کو اس طرح پیٹھ پیچھے پھینک دیا جیسے وہ اسے جانتے ہی نہیں۔ انہوں نے اپنے علم پر عمل نہیں کیا، اور نہ ہی اس نبی کی تصدیق کی جس کی بشارت ان کی اپنی کتاب میں موجود تھی۔ وہ اس قدر غافل اور جاہل بن گئے کہ گویا انہیں کبھی کوئی علم ہی نہیں تھا۔ وہ تورات پڑھتے تھے، لیکن اس پر عمل نہیں کرتے تھے، اور جب حق ان کے پاس آیا تو اسے رد کر دیا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں ایک بہت بڑا سبق سکھاتی ہے کہ علم صرف پڑھنے اور سیکھنے کا نام نہیں، بلکہ اس پر عمل کرنا اصل مقصود ہے۔ اہلِ کتاب کے پاس علم تھا، لیکن انہوں نے اسے پیٹھ پیچھے ڈال دیا، اس لیے وہ اللہ کے عذاب کے مستحق ہوئے۔ ہمیں چاہیے کہ جو علم ہمیں حاصل ہے، اس پر عمل کریں۔ قرآن ہمارے پاس ہے، ہمیں اسے پڑھنا بھی چاہیے اور اس پر عمل بھی کرنا چاہیے۔ اگر ہم نے قرآن کو صرف پڑھ کر رکھ دیا اور اس پر عمل نہ کیا، تو ہم بھی انہی لوگوں کی طرح ہو جائیں گے جنہوں نے کتابِ الٰہی کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا۔ اللہ ہمیں علم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اور جب ان کے پاس الله کی طرف سے پیغمبر (آخرالزماں) آئے، اور وہ ان کی (آسمانی) کتاب کی بھی تصدیق کرتے ہیں تو جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی، ان میں سے ایک جماعت نے خدا کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا، گویا وہ جانتے ہی نہیں
اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہدِ سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی، بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے، جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہٴ) آزمائش ہیں۔ تم کفر میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے (ایسا) جادو سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا، اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، وہ بری تھی۔ کاش وہ (اس بات کو) جانتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔