یہی لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی مہربانی اور رحمت ہے۔ اور یہی سیدھے رستے پر ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
صَلَوَاتٌ: یہاں اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے پر ثناء اور تعریف ہے، یعنی اللہ کا اپنے بندے کی تعریف کرنا۔
رَحْمَةٌ: اللہ کی خاص رحمت جو مومنوں کے لیے ہے۔
الْمُهْتَدُونَ: ہدایت یافتہ، سیدھے راستے پر چلنے والے۔
تفسیر:
یہ آیت ان صابر بندوں کے بارے میں ہے جنہوں نے مصیبت کے وقت صبر کیا اور "إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ" کہا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے صلوات (ثناء اور تعریف) نازل ہوتی ہے اور ان پر خاص رحمت ہوتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حقیقی ہدایت پر ہیں، کیونکہ انہوں نے مصیبت کے وقت اللہ کی طرف رجوع کیا اور اس کے فیصلے پر راضی رہے۔
یہ صلوات اللہ کی طرف سے ان کی تعریف ہے فرشتوں کے درمیان، اور یہ رحمت انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں شامل حال رہتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے سیدھا راستہ دکھایا اور انہیں صبر اور رضا کی دولت عطا کی۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ مصیبت اور تکلیف کے وقت صبر کرنا کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ یہ اللہ کی خاص رحمت اور ثناء کا ذریعہ ہے۔ جب ہم مصیبت میں صبر کرتے ہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں تو اللہ ہمیں اپنی محبت اور رحمت سے نوازتا ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا میں سکون اور آخرت میں کامیابی عطا کرتا ہے۔ اللہ کے اس وعدے پر یقین رکھیں کہ صبر کرنے والوں کا اجر بے حساب ہے۔ آئیے ہم بھی اپنی زندگیوں میں صبر اور شکر کو اپنائیں تاکہ ہم اللہ کی رحمت اور ہدایت کے مستحق بن سکیں۔
بےشک (کوہ) صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تو جو شخص خانہٴ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے۔ (بلکہ طواف ایک قسم کا نیک کام ہے) اور جو کوئی نیک کام کرے تو خدا قدر شناس اور دانا ہے
جو لوگ ہمارے حکموں اور ہدایتوں کو جو ہم نے نازل کی ہیں (کسی غرض فاسد سے) چھپاتے ہیں باوجود یہ کہ ہم نے ان لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا ہے۔ ایسوں پر خدا اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔