بقرہ · 158/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
۞ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ ۝١٥٨
Innas Safaa wal-Marwata min sha`aaa`iril laahi faman hajjal Baita awi`tamara falaa junaaha `alaihi ai yattawwafa bihimaa; wa man tatawwa`a khairan fa innal laaha Shaakirun`Aleem
📖 اردو ترجمہ
بےشک (کوہ) صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تو جو شخص خانہٴ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے۔ (بلکہ طواف ایک قسم کا نیک کام ہے) اور جو کوئی نیک کام کرے تو خدا قدر شناس اور دانا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الصفا: سخت اور چکنی چٹان کو کہتے ہیں، یہاں مراد وہ مشہور مقام ہے جو مسعیٰ کے ایک سرے پر واقع ہے۔
  • المروة: نرم پتھر کو کہتے ہیں، یہاں مراد وہ مشہور مقام ہے جو مسعیٰ کے دوسرے سرے پر ہے۔
  • شعائر اللہ: اللہ کے دین کی نشانیاں اور اس کی عبادت کے وہ اعلام و نشانات جو اللہ نے اپنی اطاعت کے لیے مقرر کیے ہیں۔
  • حج: قصد کرنا، یعنی بیت اللہ کی زیارت کے ارادے سے جانا۔
  • اعتمر: عمرہ کرنا، یعنی زیارت کرنا۔
  • جناح: گناہ، حرج، تنگی۔
  • یطوّف: طواف کرنا، یعنی چکر لگانا، یہاں مراد صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا ہے۔
  • تطوع: وہ نیکی جو فرض نہ ہو، رضاکارانہ طور پر کی جائے۔
  • شاکر: قبول فرمانے والا، جزا دینے والا، اللہ کا شکر یہ ہے کہ وہ تھوڑے پر بہت زیادہ عطا فرمائے۔
  • علیم: جاننے والا، جو بندے کی نیت اور عمل سے خوب واقف ہو۔

تفسیر:

صفا اور مروہ دو پہاڑیاں ہیں جو مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے قریب مشرق کی طرف واقع ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں مقامات کو اپنی عبادت کی نمایاں نشانیاں بنایا ہے۔ یہ کوئی جاہلیت کا نشان نہیں، بلکہ اللہ کے دین کے شعار ہیں جن کے ذریعے اللہ اپنے بندوں کو اپنی عبادت کی طرف راغب کرتا ہے۔

جو شخص بھی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ ادا کرے، اس کے لیے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے میں کوئی گناہ یا حرج نہیں، بلکہ یہ ایک لازمی عمل ہے جو اللہ نے مقرر کیا ہے۔ اس آیت میں نفیِ حرج کا مقصد ان مسلمانوں کو تسلی دینا ہے جو جاہلیت کے دور میں ان مقامات پر کی جانے والی رسومات کی وجہ سے سعی کرنے سے کتراتے تھے، حالانکہ اللہ نے اسے حج اور عمرہ کا باقاعدہ رکن بنایا ہے۔

جو شخص اپنی خوشی اور رضامندی سے نیکی کے کام کرے، فرائض کے علاوہ نوافل اور مستحبات ادا کرے، اور اپنے عمل کو خالص اللہ کے لیے کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کا شکر ادا کرنے والا ہے، یعنی وہ تھوڑی نیکی پر بہت زیادہ اجر عطا فرماتا ہے، اور وہ اپنے بندوں کے اعمال سے خوب واقف ہے، کوئی عمل اس سے پوشیدہ نہیں، نہ ہی وہ کسی کا حق کم کرتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت اور آسانی کا درس دیا ہے۔ اسلام میں کوئی تنگی نہیں، بلکہ ہر عمل میں آسانی اور خیر ہے۔ صفا اور مروہ کی سعی ہمیں حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی یاد دلاتی ہے جنہوں نے اپنے شیر خوار بچے اسماعیل کے لیے پانی کی تلاش میں انہیں پہاڑیوں کے درمیان سعی کی تھی۔ یہ عمل ہمیں صبر، توکل اور اللہ پر بھروسہ کا سبق سکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو بھی قبول فرماتا ہے اور اس پر بے حساب اجر عطا کرتا ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم نیکی کے کاموں میں کوتاہی نہ کریں اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ اللہ کا شاکر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے بندوں کی محنت اور عبادت کو کبھی ضائع نہیں کرتا، بلکہ اسے بڑھا چڑھا کر اجر دیتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 156-160 — بقرہ

156الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
157أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ
یہی لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی مہربانی اور رحمت ہے۔ اور یہی سیدھے رستے پر ہیں
158۞ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ
بےشک (کوہ) صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تو جو شخص خانہٴ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے۔ (بلکہ طواف ایک قسم کا نیک کام ہے) اور جو کوئی نیک کام کرے تو خدا قدر شناس اور دانا ہے
159إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ ۙ أُولَٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ
جو لوگ ہمارے حکموں اور ہدایتوں کو جو ہم نے نازل کی ہیں (کسی غرض فاسد سے) چھپاتے ہیں باوجود یہ کہ ہم نے ان لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اپنی کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا ہے۔ ایسوں پر خدا اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں
160إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَٰئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
ہاں جو توبہ کرتے ہیں اور اپنی حالت درست کرلیتے اور (احکام الہیٰ کو) صاف صاف بیان کردیتے ہیں تو میں ان کے قصور معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا معاف کرنے والا (اور) رحم والا ہوں
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
158آیت

ترجمہ — بقرہ 158

سورہ بقرہ آیت 158 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بےشک (کوہ) صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے…

سورہ آیت 158/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 156–160. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں