بقرہ · 156/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۝١٥٦
Allazeena izaaa asaabathum museebatun qaalooo innaa lillaahi wa innaaa ilaihi raaji`oon
📖 اردو ترجمہ
ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مُصِيبَةٌ: کوئی بھی دکھ، تکلیف، نقصان یا ناگواری جو انسان کو پہنچے۔
  • إِنَّا لِلَّهِ: ہم اللہ ہی کے ہیں (یعنی ہم اس کی مِلکیت اور بندگی میں ہیں
  • وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ: اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

تفسیر:

یہ آیت کریمہ اہلِ ایمان کے اُس اعلیٰ ترین کردار کی تصویر کشی کرتی ہے جو مصیبتوں اور آزمائشوں کے وقت اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ اور رضا کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے — خواہ وہ مال کا نقصان ہو، اولاد کی کمی ہو، بیماری ہو، یا کوئی اور ناگواری — تو وہ فوراً زبان سے یہ پاکیزہ کلمہ ادا کرتے ہیں: "إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ" یعنی "ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔"

اس کلمے میں دو عظیم حقیقتیں پوشیدہ ہیں: ایک یہ کہ ہم اللہ کی مِلکیت ہیں، وہ ہمارے ساتھ جو چاہے کرے، ہم اس کے بندے اور غلام ہیں، اس لیے جو کچھ وہ کرے وہی بہتر ہے۔ دوسری یہ کہ ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، ہماری منزل اسی کی بارگاہ ہے، اس لیے دنیا کی ہر چیز عارضی ہے اور اصل زندگی آخرت کی ہے۔ یہی وہ ایمانی بصیرت ہے جو مصیبت کو صبر اور رضا میں بدل دیتی ہے۔

یہ کلمہ دراصل بندے کو اللہ سے جوڑتا ہے، اس کے دل کو تسکین دیتا ہے، اور اسے یاد دلاتا ہے کہ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، ہر نقصان اور تکلیف کے پیچھے اللہ کی حکمت ہے۔ جو شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ وہ اللہ کا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جائے گا، اس کے لیے مصیبت صبر کا ذریعہ بن جاتی ہے، نہ کہ بے چینی اور شکوہ کا۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ مصیبت کے وقت جزع فزع کرنے کے بجائے اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ جو شخص اللہ کی رضا پر قناعت کرتا ہے، اللہ اسے صبر کا اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص مصیبت میں یہ کلمہ پڑھے اور پھر یہ دعا کرے کہ "اے اللہ! مجھے اس مصیبت میں اجر دے اور اس سے بہتر عطا فرما" تو اللہ اسے ضرور بہتر چیز عطا کرتا ہے۔ یہ کلمہ ہماری زبان پر جاری رہے تو ہمارے دلوں کو سکون ملتا ہے، ہمارے ایمان میں مضبوطی آتی ہے، اور ہم اللہ کے قریب ہوتے جاتے ہیں۔ یاد رکھیں، یہ دنیا فانی ہے، اصل قرار کی جگہ آخرت ہے، اور اللہ ہی ہمارا مالک اور کارساز ہے۔ اس لیے ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اس کی رضا پر راضی رہیں، یہی کامیابی کی راہ ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 154-158 — بقرہ

154وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ
اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں ان کی نسبت یہ کہنا کہ وہ مرے ہوئے ہیں (وہ مردہ نہیں) بلکہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے
155وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ
اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میوؤں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے توصبر کرنے والوں کو (خدا کی خوشنودی کی) بشارت سنا دو
156الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
157أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ
یہی لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی مہربانی اور رحمت ہے۔ اور یہی سیدھے رستے پر ہیں
158۞ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ
بےشک (کوہ) صفا اور مروہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تو جو شخص خانہٴ کعبہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ دونوں کا طواف کرے۔ (بلکہ طواف ایک قسم کا نیک کام ہے) اور جو کوئی نیک کام کرے تو خدا قدر شناس اور دانا ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
156آیت

ترجمہ — بقرہ 156

سورہ بقرہ آیت 156 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو…

سورہ آیت 156/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 154–158. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں