ترجمہ — Tafsir
بسم اللہ الرحمن الرحیم
معانی الفاظ:
- المیتة: وہ جانور جو بغیر شرعی ذبح کے مر جائے۔
- الدم: بہتا ہوا خون۔
- أهل به لغير الله: جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔
- اضطر: مجبور ہو جائے، شدید ضرورت میں مبتلا ہو۔
- باغ: حد سے بڑھنے والا، ظلم کرنے والا۔
- عاد: تجاوز کرنے والا، ضرورت کی حد سے آگے بڑھنے والا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی رحمت اور شفقت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے تم پر صرف ان چیزوں کو حرام کیا ہے جو تمہارے لیے نقصان دہ ہیں اور جن سے تمہاری روحانی اور جسمانی پاکیزگی متاثر ہوتی ہے۔ یہ حرام چیزیں چار ہیں:
پہلی: وہ جانور جو بغیر شرعی طریقے سے ذبح کیے بغیر مر جائے، خواہ وہ خود بخود مرا ہو، گلا گھٹنے سے مرا ہو، یا کسی اور حادثے سے ہلاک ہوا ہو۔
دوسری: بہتا ہوا خون، کیونکہ یہ نجاست اور گندگی ہے۔ البتہ اللہ نے اپنے فضل سے جگر اور تلی کو حلال فرمایا ہے۔
تیسری: خنزیر کا گوشت، بلکہ خنزیر کا پورا جسم ہی حرام ہے، کیونکہ یہ جانور نجس اور گندہ ہے۔
چوتھی: وہ جانور جسے ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، جیسے بتوں، مورتیوں یا کسی اور معبود کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ یہ شرک کی علامت ہے اور ایمان کے منافی ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا دروازہ کھولتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر کوئی شخص انتہائی مجبوری کی حالت میں ہو، جیسے بھوک کی شدت سے اس کی جان کو خطرہ ہو، اور اسے ان حرام چیزوں کے علاوہ کوئی اور چیز نہ ملے، تو وہ ان میں سے اتنا کھا سکتا ہے جتنا جان بچانے کے لیے ضروری ہو، بشرطیکہ وہ:
- باغی نہ ہو، یعنی محض لذت اور مزے کے لیے نہ کھائے۔
- عاد نہ ہو، یعنی ضرورت کی حد سے تجاوز نہ کرے اور پیٹ بھر کر نہ کھائے۔
ایسی صورت میں اس پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر سختی نہیں کرنا چاہی۔ یہ اللہ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ اس نے مشکل حالات میں آسانی فراہم کی۔ اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بے حد رحم فرمانے والا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ کی رحمت اور حکمت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ ایک طرف اللہ نے حرام چیزیں بیان کیں تاکہ بندے پاکیزہ زندگی گزاریں اور ان کے دلوں میں تقویٰ پیدا ہو، تو دوسری طرف ضرورت کے وقت رخصت دے کر یہ ثابت کیا کہ اسلام آسان ہے، مشکل نہیں۔ یہی اسلام کی خوبصورتی ہے کہ وہ ہر حال میں بندے کی رعایت کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کے احکام کو سمجھیں اور ان پر عمل کریں، اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور ان پر آسانی چاہتا ہے۔ آئیے ہم اللہ کے شکر گزار بندے بنیں اور اس کی نعمتوں کو پہچانیں، کیونکہ وہی ہے جو ہمیں حلال اور پاکیزہ روزی عطا کرتا ہے اور حرام سے بچاتا ہے۔
📜 آیت 171-175 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 173
سورہ بقرہ آیت 173 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اس نے تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور…سورہ آیت 173/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 171–175. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








