بقرہ · 173/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ ۖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۝١٧٣
Innamaa harrama `alaikumul maitata waddama wa lahmal khinzeeri wa maaa uhilla bihee lighairil laahi famanid turra ghaira baaghinw wa laa `aadin falaaa isma `alaih; innal laaha Ghafoorur Raheem
📖 اردو ترجمہ
اس نے تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کردیا ہے ہاں جو ناچار ہوجائے (بشرطیکہ) خدا کی نافرمانی نہ کرے اور حد (ضرورت) سے باہر نہ نکل جائے اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بےشک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

بسم اللہ الرحمن الرحیم

معانی الفاظ:

  • المیتة: وہ جانور جو بغیر شرعی ذبح کے مر جائے۔
  • الدم: بہتا ہوا خون۔
  • أهل به لغير الله: جس پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔
  • اضطر: مجبور ہو جائے، شدید ضرورت میں مبتلا ہو۔
  • باغ: حد سے بڑھنے والا، ظلم کرنے والا۔
  • عاد: تجاوز کرنے والا، ضرورت کی حد سے آگے بڑھنے والا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنی رحمت اور شفقت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس نے تم پر صرف ان چیزوں کو حرام کیا ہے جو تمہارے لیے نقصان دہ ہیں اور جن سے تمہاری روحانی اور جسمانی پاکیزگی متاثر ہوتی ہے۔ یہ حرام چیزیں چار ہیں:

پہلی: وہ جانور جو بغیر شرعی طریقے سے ذبح کیے بغیر مر جائے، خواہ وہ خود بخود مرا ہو، گلا گھٹنے سے مرا ہو، یا کسی اور حادثے سے ہلاک ہوا ہو۔

دوسری: بہتا ہوا خون، کیونکہ یہ نجاست اور گندگی ہے۔ البتہ اللہ نے اپنے فضل سے جگر اور تلی کو حلال فرمایا ہے۔

تیسری: خنزیر کا گوشت، بلکہ خنزیر کا پورا جسم ہی حرام ہے، کیونکہ یہ جانور نجس اور گندہ ہے۔

چوتھی: وہ جانور جسے ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، جیسے بتوں، مورتیوں یا کسی اور معبود کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ یہ شرک کی علامت ہے اور ایمان کے منافی ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا دروازہ کھولتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر کوئی شخص انتہائی مجبوری کی حالت میں ہو، جیسے بھوک کی شدت سے اس کی جان کو خطرہ ہو، اور اسے ان حرام چیزوں کے علاوہ کوئی اور چیز نہ ملے، تو وہ ان میں سے اتنا کھا سکتا ہے جتنا جان بچانے کے لیے ضروری ہو، بشرطیکہ وہ:

  • باغی نہ ہو، یعنی محض لذت اور مزے کے لیے نہ کھائے۔
  • عاد نہ ہو، یعنی ضرورت کی حد سے تجاوز نہ کرے اور پیٹ بھر کر نہ کھائے۔

ایسی صورت میں اس پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر سختی نہیں کرنا چاہی۔ یہ اللہ کی رحمت کا تقاضا ہے کہ اس نے مشکل حالات میں آسانی فراہم کی۔ اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بے حد رحم فرمانے والا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ کی رحمت اور حکمت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ ایک طرف اللہ نے حرام چیزیں بیان کیں تاکہ بندے پاکیزہ زندگی گزاریں اور ان کے دلوں میں تقویٰ پیدا ہو، تو دوسری طرف ضرورت کے وقت رخصت دے کر یہ ثابت کیا کہ اسلام آسان ہے، مشکل نہیں۔ یہی اسلام کی خوبصورتی ہے کہ وہ ہر حال میں بندے کی رعایت کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کے احکام کو سمجھیں اور ان پر عمل کریں، اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور ان پر آسانی چاہتا ہے۔ آئیے ہم اللہ کے شکر گزار بندے بنیں اور اس کی نعمتوں کو پہچانیں، کیونکہ وہی ہے جو ہمیں حلال اور پاکیزہ روزی عطا کرتا ہے اور حرام سے بچاتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 171-175 — بقرہ

171وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً ۚ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ
جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ سن نہ سکے۔ (یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کچھ) سمجھ ہی نہیں سکتے
172يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ
اے اہل ایمان جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائیں ہیں ان کو کھاؤ اور اگر خدا ہی کے بندے ہو تو اس (کی نعمتوں) کا شکر بھی ادا کرو
173إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ ۖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
اس نے تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کردیا ہے ہاں جو ناچار ہوجائے (بشرطیکہ) خدا کی نافرمانی نہ کرے اور حد (ضرورت) سے باہر نہ نکل جائے اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بےشک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے
174إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۙ أُولَٰئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
جو لوگ (خدا) کی کتاب سے ان (آیتوں اور ہدایتوں) کو جو اس نے نازل فرمائی ہیں چھپاتے اور ان کے بدلے تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیاوی منفعت) حاصل کرتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں محض آگ بھرتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے خدا قیامت کے دن نہ کلام کرے گا اور نہ ان کو (گناہوں سے) پاک کرے گا۔اور ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب ہے
175أُولَٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ ۚ فَمَا أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی اور بخشش چھوڑ کر عذاب خریدا۔ یہ (آتش) جہنم کی کیسی برداشت کرنے والے ہیں!
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
173آیت

ترجمہ — بقرہ 173

سورہ بقرہ آیت 173 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اس نے تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور…

سورہ آیت 173/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 171–175. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں