Waqtuloohum haisu saqif tumoohum wa akhrijoohum min haisu akhrajookum; walfitnatu ashaddu minal qatl; wa laa tuqaatiloohum `indal Majidil Haraami hattaa yaqaatilookum feehi fa in qaatalookum faqtuloohum; kazaalika jazaaa`ul kaafireen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکے سے) وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو۔ اور (دین سے گمراہ کرنے کا) فساد قتل وخونریزی سے کہیں بڑھ کر ہے اور جب تک وہ تم سے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے پاس نہ لڑیں تم بھی وہاں ان سے نہ لڑنا۔ ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان کو قتل کرڈالو۔ کافروں کی یہی سزا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
هر جا كه آنها را بيابيد بكشيد و از آنجا كه شما را راندهاند، برانيدشان، كه فتنه از قتل بدتر است. و در مسجدالحرام با آنها مجنگيد، مگر آنكه با شما بجنگند. و چون با شما جنگيدند بكشيدشان، كه اين است پاداش كافران.
اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکے سے) وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو۔ اور (دین سے گمراہ کرنے کا) فساد قتل وخونریزی سے کہیں بڑھ کر ہے اور جب تک وہ تم سے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے پاس نہ لڑیں تم بھی وہاں ان سے نہ لڑنا۔ ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان کو قتل کرڈالو۔ کافروں کی یہی سزا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
ثَقِفْتُمُوهُمْ: جہاں کہیں انہیں پاؤ، ان پر قابو پاؤ۔
الْفِتْنَةُ: کفر، شرک اور اللہ کے راستے سے روکنے کا فتنہ۔
أَشَدُ مِنَ الْقَتْلِ: قتل سے بھی زیادہ سخت اور بڑا جرم ہے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت فرماتا ہے کہ جو مشرکین تم سے جنگ کریں، انہیں جہاں کہیں پاؤ قتل کرو، اور انہیں اس سرزمین (مکہ) سے نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا۔ یہ انصاف کا تقاضا ہے کہ جو تمہارے ساتھ ظلم کرے، اسے اسی طرح جواب دو۔ لیکن یاد رکھو کہ ان کا کفر و شرک اور اللہ کے دین سے روکنے کا فتنہ، تمہارے قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے، کیونکہ وہ تمہیں صرف قتل ہی نہیں کرتے بلکہ تمہیں ایمان سے بھی پھیرنا چاہتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ ایک اہم حکم دیتا ہے کہ مسجد حرام کے پاس تم ان سے جنگ شروع نہ کرو، اس کی حرمت اور تقدس کا خیال رکھو، جب تک کہ وہ خود تم سے وہاں جنگ نہ کریں۔ اگر وہ تمہیں مسجد حرام میں قتال پر مجبور کریں اور وہاں تم پر حملہ کریں، تو پھر تمہیں بھی حق ہے کہ انہیں وہاں قتل کرو۔ یہ کافروں کا بدلہ ہے کہ جب وہ حد سے تجاوز کریں تو انہیں انہی کے عمل کے مطابق سزا دی جائے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام دینِ امن و سلامتی ہے، لیکن ظلم اور جارحیت کے سامنے خاموش رہنا بھی ظلم ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے دین، اپنے وطن اور اپنی عزت کے تحفظ کے لیے ہمیشہ تیار رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اعتدال اور انصاف کا راستہ دکھایا ہے — نہ ظلم کرنا، نہ ظلم برداشت کرنا۔ یاد رکھیں، اللہ کے گھر کی حرمت کا احترام ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہیے، لیکن جب دشمن خود حد سے تجاوز کرے تو پھر حق دفاع ہر مسلمان کا فریضہ ہے۔ یہ حکم ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی انصاف کریں، اور کبھی بھی جارحیت کی ابتدا نہ کریں، بلکہ امن کو ترجیح دیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر حال میں تقویٰ اور حکمت کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
(اے محمدﷺ) لوگ تم سے نئے چاند کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ گھٹتا بڑھتا کیوں ہے) کہہ دو کہ وہ لوگوں کے (کاموں کی میعادیں) اور حج کے وقت معلوم ہونے کا ذریعہ ہے اور نیکی اس بات میں نہیں کہ (احرام کی حالت میں) گھروں میں ان کے پچھواڑے کی طرف سے آؤ۔ بلکہ نیکوکار وہ ہے جو پرہیز گار ہو اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ نجات پاؤ
اور ان کو جہاں پاؤ قتل کردو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے (یعنی مکے سے) وہاں سے تم بھی ان کو نکال دو۔ اور (دین سے گمراہ کرنے کا) فساد قتل وخونریزی سے کہیں بڑھ کر ہے اور جب تک وہ تم سے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے پاس نہ لڑیں تم بھی وہاں ان سے نہ لڑنا۔ ہاں اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان کو قتل کرڈالو۔ کافروں کی یہی سزا ہے
اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہنا کہ فساد نابود ہوجائے اور (ملک میں) خدا ہی کا دین ہوجائے اور اگر وہ (فساد سے) باز آجائیں تو ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں (کرنی چاہیئے)
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔