بقرہ · 213/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ ۚ وَمَا اخْتَلَفَ فِيهِ إِلَّا الَّذِينَ أُوتُوهُ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۖ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ ۗ وَاللَّهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ۝٢١٣
Kaanan naasu ummatanw waahidatan fab`asal laahun Nabiyyeena mubashshireena wa munzireena wa anzala ma`ahumul kitaaba bilhaqqi liyahkuma bainan naasi feemakh talafoo feeh; wa makh talafa feehi `illallazeena ootoohu mim ba`di maa jaaa`athumul baiyinaatu baghyam bainahm fahadal laahul lazeena aamanoo limakh talafoo feehi minal haqqi bi iznih; wallaahu yahdee mai yashaaa`u ilaa Siraatim Mustaqeem
📖 اردو ترجمہ
(پہلے تو سب) لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا (لیکن وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے) تو خدا نے (ان کی طرف) بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے پیغمبر بھیجے اور ان پر سچائی کے ساتھ کتابیں نازل کیں تاکہ جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے ان کا ان میں فیصلہ کردے۔ اور اس میں اختلاف بھی انہیں لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی تھی باوجود یہ کہ ان کے پاس کھلے ہوئے احکام آچکے تھے (اور یہ اختلاف انہوں نے صرف) آپس کی ضد سے (کیا) تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھا دی۔ اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھا رستہ دکھا دیتا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

آیت 213: کَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً

یعنی ابتداء میں تمام انسان ایک ہی دین (توحید) پر تھے، جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت نوح علیہ السلام تک لوگ ایک ہی راستے پر قائم تھے۔ پھر شیطان کے بہکانے سے لوگوں میں اختلاف پیدا ہوا، کچھ مومن رہے اور کچھ کافر ہو گئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے رحمت کے تقاضے سے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، جو لوگوں کو جنت کی خوشخبری دیتے تھے اور عذاب سے ڈراتے تھے۔ انہی انبیاء کے ساتھ اللہ نے کتابیں نازل فرمائیں تاکہ وہ لوگوں کے درمیان ان کے اختلافات کا فیصلہ کریں۔

معانی الفاظ:

  • اُمَّةً وَّاحِدَةً: ایک ہی امت، یعنی سب لوگ ایک دین پر متفق تھے۔
  • مُبَشِّرِینَ: خوشخبری دینے والے (جنت کی بشارت دینے والے
  • مُنذِرِینَ: ڈرانے والے (عذاب سے خبردار کرنے والے
  • بَغْیًا: ظلم، حسد اور سرکشی کی وجہ سے۔
  • بَیِّنَات: واضح دلیلیں اور روشن نشانیاں۔
  • صِرَاطٍ مُّسْتَقِیمٍ: سیدھا راستہ، جو اللہ کی طرف لے جاتا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک ہی فطرت پر پیدا کیا تھا، اور ابتداء میں سب ایک ہی دین پر تھے۔ لیکن جب لوگوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی اور شیطان کے بہکانے میں آگئے تو ان میں اختلاف پیدا ہو گیا۔ اس پر اللہ نے اپنے فضل و کرم سے انبیاء بھیجے، جو لوگوں کو نیکی کی ترغیب دیتے تھے اور برائی سے ڈراتے تھے۔ انہیں کے ساتھ کتابیں نازل کی گئیں تاکہ وہ لوگوں کے درمیان حق کے مطابق فیصلہ کریں۔

پھر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اس کتاب (تورات) میں اختلاف کرنے والے وہی لوگ تھے جنہیں کتاب دی گئی تھی، اور انہوں نے واضح دلائل آنے کے بعد بھی محض حسد اور ظلم کی وجہ سے اختلاف کیا۔ انہوں نے اپنے علم کے باوجود حق کو چھپایا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کو نہ مانا۔

پھر اللہ نے اپنے فضل سے مومنین کو ہدایت دی، اور انہیں وہ حق سمجھنے کی توفیق دی جس میں دوسرے اختلاف کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے، اور یہ ہدایت اس کی مشیت اور رحمت سے ہوتی ہے۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ نے انسانوں کو ایک ہی دین پر پیدا کیا تھا، اور اختلافات بعد میں پیدا ہوئے۔ اللہ نے رحمت کے طور پر انبیاء بھیجے تاکہ لوگوں کو سیدھا راستہ ملے۔ آج بھی ہمیں چاہیے کہ ہم اختلافات کو چھوڑ کر قرآن و سنت کی طرف رجوع کریں، کیونکہ اسی میں ہماری بھلائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن جیسی عظیم کتاب دی ہے، جو ہر اختلاف کا حل فراہم کرتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس پر عمل کریں اور اسے اپنی زندگی کا دستور بنائیں، تاکہ ہم بھی ان مومنین میں شامل ہوں جنہیں اللہ نے سیدھے راستے کی ہدایت دی۔

🎧 سنیں

📜 آیت 211-215 — بقرہ

211سَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَمْ آتَيْنَاهُم مِّنْ آيَةٍ بَيِّنَةٍ ۗ وَمَن يُبَدِّلْ نِعْمَةَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
(اے محمد) بنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے ان کو کتنی کھلی نشانیاں دیں۔ اور جو شخص خدا کی نعمت کو اپنے پاس آنے کے بعد بدل دے تو خدا سخت عذاب کرنے والا ہے
212زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا ۘ وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ
اور جو کافر ہیں ان کے لئے دنیا کی زندگی خوشنما کر دی گئی ہے اور وہ مومنوں سے تمسخر کرتے ہیں لیکن جو پرہیز گار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر غالب ہوں گے اور خدا جس کو چاہتا ہے بےشمار رزق دیتا ہے
213كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ ۚ وَمَا اخْتَلَفَ فِيهِ إِلَّا الَّذِينَ أُوتُوهُ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۖ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ ۗ وَاللَّهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
(پہلے تو سب) لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا (لیکن وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے) تو خدا نے (ان کی طرف) بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے پیغمبر بھیجے اور ان پر سچائی کے ساتھ کتابیں نازل کیں تاکہ جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے ان کا ان میں فیصلہ کردے۔ اور اس میں اختلاف بھی انہیں لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی تھی باوجود یہ کہ ان کے پاس کھلے ہوئے احکام آچکے تھے (اور یہ اختلاف انہوں نے صرف) آپس کی ضد سے (کیا) تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھا دی۔ اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھا رستہ دکھا دیتا ہے
214أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلِكُم ۖ مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّىٰ يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَىٰ نَصْرُ اللَّهِ ۗ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ
کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ (یوں ہی) بہشت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی تم کو پہلے لوگوں کی سی (مشکلیں) تو پیش آئی ہی نہیں۔ ان کو (بڑی بڑی) سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ (صعوبتوں میں) ہلا ہلا دیئے گئے۔ یہاں تک کہ پیغمبر اور مومن لوگ جو ان کے ساتھ تھے سب پکار اٹھے کہ کب خدا کی مدد آئے گی ۔ دیکھو خدا کی مدد (عن) قریب (آيا چاہتی) ہے
215يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ ۖ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ
(اے محمدﷺ) لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کس طرح کا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ (جو چاہو خرچ کرو لیکن) جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ اور قریب کے رشتے داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو (سب کو دو) اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
213آیت

ترجمہ — بقرہ 213

سورہ بقرہ آیت 213 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (پہلے تو سب) لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا (لیکن…

سورہ آیت 213/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 211–215. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں