بقرہ · 214/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
أَمۡ حَسِبۡتُمۡ أَن تَدۡخُلُواْ ٱلۡجَنَّةَ وَلَمَّا يَأۡتِكُم مَّثَلُ ٱلَّذِينَ خَلَوۡاْ مِن قَبۡلِكُمۖ مَّسَّتۡهُمُ ٱلۡبَأۡسَآءُ وَٱلضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُواْ حَتَّىٰ يَقُولَ ٱلرَّسُولُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ مَتَىٰ نَصۡرُ ٱللَّهِۗ أَلَآ إِنَّ نَصۡرَ ٱللَّهِ قَرِيبٌ  ۝٢١٤
Am hasibtum an tadkhulul jannata wa lammaa yaa-tikum masalul lazeena khalaw min qablikum massathumul baasaaa`u waddarraaaa`u wa zulziloo hattaa yaqoolar Rasoolu wallazeena aamanoo ma`ahoo mataa nasrul laah; alaaa inna nasral laahiqareeb
📖 اردو ترجمہ
کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ (یوں ہی) بہشت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی تم کو پہلے لوگوں کی سی (مشکلیں) تو پیش آئی ہی نہیں۔ ان کو (بڑی بڑی) سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ (صعوبتوں میں) ہلا ہلا دیئے گئے۔ یہاں تک کہ پیغمبر اور مومن لوگ جو ان کے ساتھ تھے سب پکار اٹھے کہ کب خدا کی مدد آئے گی ۔ دیکھو خدا کی مدد (عن) قریب (آيا چاہتی) ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَمْ حَسِبْتُمْ: کیا تم نے یہ سمجھ لیا؟
  • وَلَمَّا يَأْتِكُم: حالانکہ ابھی تم پر نہیں آیا
  • مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا: ان لوگوں کا سا حال (جو گزر چکے ہیں)
  • الْبَأْسَاءُ: فقر، تنگ دستی، سختی
  • الضَّرَّاءُ: بیماری، جسمانی تکلیف، نقصان
  • زُلْزِلُوا: انہیں سخت ہلا کر رکھ دیا گیا، بری طرح جھنجھوڑا گیا
  • مَتَىٰ نَصْرُ اللَّهِ: اللہ کی مدد کب آئے گی؟

تفسیر:

اے ایمان والو! کیا تم یہ گمان کر بیٹھے ہو کہ تم جنت میں یوں ہی آرام سے داخل ہو جاؤ گے، بغیر کسی آزمائش کے؟ حالانکہ تم سے پہلے گزرے ہوئے اہل ایمان پر وہ سخت حالات آئے جن کا تمہیں سامنا کرنا چاہیے۔ انہیں فقر و فاقہ کی شدت نے دبایا، بیماریوں اور جسمانی تکالیف نے نڈھال کیا، اور خوف و ہراس کی لہروں نے انہیں اس طرح جھنجھوڑا کہ ان کے دل کانپ اٹھے۔ یہاں تک کہ جب مصائب اپنی انتہا کو پہنچ گئے، اور ان پر صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا، تو خود رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے مخلص افراد بھی بے اختیار پکار اٹھے: "یا اللہ! تیری مدد کب آئے گی؟" یہ سوال شک و شبہ کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ اس شدتِ انتظار اور بے قراری کا اظہار تھا جو اللہ کے وعدۂ نصرت کے حصول کے لیے تھا۔

پھر اللہ تعالیٰ نے خود انہیں تسلی دی اور فرمایا: "سن لو! اللہ کی مدد یقیناً قریب ہے۔" یعنی یہ آزمائشیں تمہارے ایمان کو نکھارنے کے لیے ہیں، اور اللہ کا نصرت کا وعدہ سچا ہے، وہ جب چاہتا ہے اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی دور دکھائی دے، حقیقت میں وہ قریب ہی ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ رب العزت ہمیں ایک اہم حقیقت سے روشناس کراتے ہیں کہ جنت کی راہ آسان بچھے پھولوں کی نہیں، بلکہ آزمائشوں کے کانٹوں سے بھری ہوئی ہے۔ مومن کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، لیکن جو لوگ صبر کریں گے، اللہ ان کے ساتھ ہے۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جب مشکلات کا پہاڑ ٹوٹ پڑے، تو مایوس نہ ہوں، بلکہ اللہ سے مدد مانگیں، کیونکہ اس کی مدد قریب ہے۔ یاد رکھیں، ہر سختی کے بعد آسانی ہے، اور اللہ کا وعدہ ہرگز خلاف نہیں ہوتا۔ تو اے بھائیو! آزمائشوں کو اپنے ایمان کی مضبوطی کا ذریعہ بنائیں، نہ کہ مایوسی کا سبب۔ اللہ کی رحمت اور اس کی مدد کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے، بس صبر اور یقین کے ساتھ اس کا انتظار کریں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 212-216 — بقرہ

212زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَا وَيَسۡخَرُونَ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْۘ وَٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ فَوۡقَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ وَٱللَّهُ يَرۡزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ 
اور جو کافر ہیں ان کے لئے دنیا کی زندگی خوشنما کر دی گئی ہے اور وہ مومنوں سے تمسخر کرتے ہیں لیکن جو پرہیز گار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر غالب ہوں گے اور خدا جس کو چاہتا ہے بےشمار رزق دیتا ہے
213كَانَ ٱلنَّاسُ أُمَّةً وَٰحِدَةً فَبَعَثَ ٱللَّهُ ٱلنَّبِيِّـۧنَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ بِٱلۡحَقِّ لِيَحۡكُمَ بَيۡنَ ٱلنَّاسِ فِيمَا ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِۚ وَمَا ٱخۡتَلَفَ فِيهِ إِلَّا ٱلَّذِينَ أُوتُوهُ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۖ فَهَدَى ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لِمَا ٱخۡتَلَفُواْ فِيهِ مِنَ ٱلۡحَقِّ بِإِذۡنِهِۦۗ وَٱللَّهُ يَهۡدِي مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسۡتَقِيمٍ 
(پہلے تو سب) لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا (لیکن وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے) تو خدا نے (ان کی طرف) بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے پیغمبر بھیجے اور ان پر سچائی کے ساتھ کتابیں نازل کیں تاکہ جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے ان کا ان میں فیصلہ کردے۔ اور اس میں اختلاف بھی انہیں لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی تھی باوجود یہ کہ ان کے پاس کھلے ہوئے احکام آچکے تھے (اور یہ اختلاف انہوں نے صرف) آپس کی ضد سے (کیا) تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھا دی۔ اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھا رستہ دکھا دیتا ہے
214أَمۡ حَسِبۡتُمۡ أَن تَدۡخُلُواْ ٱلۡجَنَّةَ وَلَمَّا يَأۡتِكُم مَّثَلُ ٱلَّذِينَ خَلَوۡاْ مِن قَبۡلِكُمۖ مَّسَّتۡهُمُ ٱلۡبَأۡسَآءُ وَٱلضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُواْ حَتَّىٰ يَقُولَ ٱلرَّسُولُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ مَتَىٰ نَصۡرُ ٱللَّهِۗ أَلَآ إِنَّ نَصۡرَ ٱللَّهِ قَرِيبٌ 
کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ (یوں ہی) بہشت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی تم کو پہلے لوگوں کی سی (مشکلیں) تو پیش آئی ہی نہیں۔ ان کو (بڑی بڑی) سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ (صعوبتوں میں) ہلا ہلا دیئے گئے۔ یہاں تک کہ پیغمبر اور مومن لوگ جو ان کے ساتھ تھے سب پکار اٹھے کہ کب خدا کی مدد آئے گی ۔ دیکھو خدا کی مدد (عن) قریب (آيا چاہتی) ہے
215يَسۡـَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَۖ قُلۡ مَآ أَنفَقۡتُم مِّنۡ خَيۡرٍ فَلِلۡوَٰلِدَيۡنِ وَٱلۡأَقۡرَبِينَ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِۗ وَمَا تَفۡعَلُواْ مِنۡ خَيۡرٍ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌ 
(اے محمدﷺ) لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کس طرح کا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ (جو چاہو خرچ کرو لیکن) جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ اور قریب کے رشتے داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو (سب کو دو) اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے
216كُتِبَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡقِتَالُ وَهُوَ كُرۡهٌ لَّكُمۡۖ وَعَسَىٰٓ أَن تَكۡرَهُواْ شَيۡـًٔا وَهُوَ خَيۡرٌ لَّكُمۡۖ وَعَسَىٰٓ أَن تُحِبُّواْ شَيۡـًٔا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمۡۚ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ 
(مسلمانو) تم پر (خدا کے رستے میں) لڑنا فرض کردیا گیا ہے وہ تمہیں ناگوار تو ہوگا مگر عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بھلی ہو اور عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمہارے لئے مضر ہو۔ اور ان باتوں کو) خدا ہی بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
214آیت

ترجمہ — بقرہ 214

سورہ آیت 214/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 212–216. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں