اور جو کافر ہیں ان کے لئے دنیا کی زندگی خوشنما کر دی گئی ہے اور وہ مومنوں سے تمسخر کرتے ہیں لیکن جو پرہیز گار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر غالب ہوں گے اور خدا جس کو چاہتا ہے بےشمار رزق دیتا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
براى كافران زندگى اينجهانى آراسته شده است و مؤمنان را به ريشخند مىگيرند. آنان كه از خدا مىترسند در روز قيامت بر فراز كافران هستند، و خدا هركس را كه بخواهد بىحساب روزى مىدهد.
اور جو کافر ہیں ان کے لئے دنیا کی زندگی خوشنما کر دی گئی ہے اور وہ مومنوں سے تمسخر کرتے ہیں لیکن جو پرہیز گار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر غالب ہوں گے اور خدا جس کو چاہتا ہے بےشمار رزق دیتا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
زُیِّنَ: خوبصورت بنا کر پیش کیا گیا، کشش دی گئی۔
وَیَسْخَرُونَ: وہ مذاق اڑاتے ہیں، طعنہ دیتے ہیں۔
اتَّقَوْا: جنہوں نے پرہیزگاری اختیار کی، اللہ کے احکام پر عمل کیا اور منع کی ہوئی چیزوں سے بچے۔
بِغَیْرِ حِسَابٍ: بغیر شمار کے، بے حساب، انتہائی وسیع رزق۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں کافروں کی دنیا پرستی اور مؤمنین کے ساتھ ان کے رویے کا ذکر فرماتے ہیں۔ کافروں کے لیے دنیا کی زندگی کو خوبصورت بنا کر پیش کیا گیا ہے، یعنی انہیں دنیا کے مال و متاع، شہوات اور عارضی لذتوں میں اس قدر مشغول کر دیا گیا ہے کہ وہ آخرت کو بھول گئے ہیں۔ یہ محض ان کا حسنِ ظن اور دھوکہ ہے، کیونکہ یہ سب کچھ فانی ہے۔ یہی کافر ایمان لانے والے غریب اور کمزور مسلمانوں کا مذاق اڑاتے ہیں، انہیں حقیر سمجھتے ہیں اور ان کے ایمان پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔
مگر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا، یعنی اللہ کے حکموں پر عمل کیا اور اس کے منع کردہ کاموں سے بچے، وہ قیامت کے دن ان کافروں سے بلند مرتبے پر ہوں گے۔ دنیا میں بھلے کافر امیر اور طاقتور نظر آئیں، لیکن آخرت میں مؤمنین جنت کے اعلیٰ درجات میں ہوں گے اور کافر جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں۔ یہ اللہ کا انصاف اور فضل ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور کرم کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے، یعنی اس کا خزانہ کبھی ختم نہیں ہوتا، وہ جسے چاہے وسیع رزق عطا فرماتا ہے، چاہے وہ مؤمن ہو یا کافر۔ یہ اللہ کی مشیت ہے، لیکن اصل کامیابی آخرت میں ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ دنیا کی ظاہری چمک دمک پر مغرور نہیں ہونا چاہیے۔ کافروں کے پاس بھی مال و دولت ہو سکتی ہے، لیکن یہ ان کے لیے باعثِ عذاب بنے گی۔ مؤمنین کو چاہیے کہ وہ دنیا کی محرومیوں پر غمگین نہ ہوں، کیونکہ ان کا اصل مقام جنت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ تقویٰ اختیار کریں، صبر کریں اور آخرت کو ترجیح دیں۔ جو لوگ ایمان کی راہ پر چلیں گے، اللہ انہیں دنیا میں بھی رزق دے گا اور آخرت میں بھی بلند مقام عطا فرمائے گا۔ یاد رکھیں، اللہ کا فضل و کرم بے حساب ہے، وہ اپنے بندوں کو جس طرح چاہتا ہے نوازتا ہے، لہٰذا ہمیں صرف اسی کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور دنیا کے دھوکے میں نہیں آنا چاہیے۔
کیا یہ لوگ اسی بات کے منتظر ہیں کہ ان پر خدا (کاعذاب) بادل کے سائبانوں میں آنازل ہو اور فرشتے بھی (اتر آئیں) اور کام تمام کردیا جائے اور سب کاموں کا رجوع خدا ہی کی طرف ہے
اور جو کافر ہیں ان کے لئے دنیا کی زندگی خوشنما کر دی گئی ہے اور وہ مومنوں سے تمسخر کرتے ہیں لیکن جو پرہیز گار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر غالب ہوں گے اور خدا جس کو چاہتا ہے بےشمار رزق دیتا ہے
(پہلے تو سب) لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا (لیکن وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے) تو خدا نے (ان کی طرف) بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے پیغمبر بھیجے اور ان پر سچائی کے ساتھ کتابیں نازل کیں تاکہ جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے ان کا ان میں فیصلہ کردے۔ اور اس میں اختلاف بھی انہیں لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی تھی باوجود یہ کہ ان کے پاس کھلے ہوئے احکام آچکے تھے (اور یہ اختلاف انہوں نے صرف) آپس کی ضد سے (کیا) تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھا دی۔ اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھا رستہ دکھا دیتا ہے
کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ (یوں ہی) بہشت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی تم کو پہلے لوگوں کی سی (مشکلیں) تو پیش آئی ہی نہیں۔ ان کو (بڑی بڑی) سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ (صعوبتوں میں) ہلا ہلا دیئے گئے۔ یہاں تک کہ پیغمبر اور مومن لوگ جو ان کے ساتھ تھے سب پکار اٹھے کہ کب خدا کی مدد آئے گی ۔ دیکھو خدا کی مدد (عن) قریب (آيا چاہتی) ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔