Yas`aloonaka maazaa yunfiqoona qul maaa anfaqtum min khairin falil waalidaini wal aqrabeena walyataamaa wal masaakeeni wabnis sabeel; wa maa taf`aloo min khairin fa innal laaha bihee `Aleem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
(اے محمدﷺ) لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کس طرح کا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ (جو چاہو خرچ کرو لیکن) جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ اور قریب کے رشتے داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو (سب کو دو) اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
از تو مىپرسند كه چه انفاق كنند؟ بگو آنچه از مال خود انفاق مىكنيد، براى پدر و مادر و خويشاوندان و يتيمان و مسكينان و رهگذران باشد، و هر كار نيكى كه كنيد خدا به آن آگاه است.
(اے محمدﷺ) لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کس طرح کا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ (جو چاہو خرچ کرو لیکن) جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ اور قریب کے رشتے داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو (سب کو دو) اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یَسْأَلُونَكَ: آپ سے سوال کرتے ہیں
مَاذَا يُنفِقُونَ: کیا خرچ کریں؟
خَيْرٍ: مال، نیکی، بھلائی
الْوَالِدَيْنِ: ماں باپ
الْأَقْرَبِينَ: رشتہ دار
الْيَتَامَى: یتیم (جن کے والد وفات پا چکے ہوں)
الْمَسَاكِينِ: محتاج اور غریب لوگ
ابْنِ السَّبِيلِ: مسافر جو راستے میں رک گیا ہو اور اس کے پاس مال نہ ہو
تفسیر:
اے نبی! آپ کے اصحاب آپ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کون سا مال خرچ کریں اور کن لوگوں پر خرچ کریں؟ تو آپ انہیں جواب دیں کہ جو بھی مال حلال اور پاکیزہ ہو، اس میں سے جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے، وہ نیکی اور بھلائی ہے۔ لیکن اس خرچ کی ترجیح یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے والدین پر خرچ کرو، پھر اپنے قریبی رشتہ داروں پر، پھر یتیموں پر، پھر محتاجوں اور غریبوں پر، اور پھر ان مسافروں پر جو راستے میں رک گئے ہوں اور ان کے پاس سفر جاری رکھنے کے لیے کچھ نہ ہو۔
یاد رکھو! تم جو بھی نیکی کرو گے، خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی، اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔ اس کا کوئی عمل اس سے پوشیدہ نہیں ہے، اور وہ تمہیں اس کا مکمل بدلہ عطا فرمائے گا۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک عظیم سبق سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے خرچ کرنے کا ایک خوبصورت نظام مقرر کیا ہے۔ سب سے پہلے ہمارے والدین کا حق ہے، پھر رشتہ داروں کا، پھر یتیموں اور محتاجوں کا۔ یہ ترتیب ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم اپنے گھر سے شروع کریں اور پھر آگے بڑھیں۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک نیکی کا بدلہ دینے والا ہے، چاہے وہ نیکی کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو۔ کبھی کسی کی مدد کرنے میں ہچکچاہٹ نہ کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور وہ ہمارے اعمال کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہم اپنے والدین کی خدمت کریں، رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کریں، یتیموں کی کفالت کریں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اللہ کی رحمت اور جنت کے قریب لے جاتا ہے۔
(پہلے تو سب) لوگوں کا ایک ہی مذہب تھا (لیکن وہ آپس میں اختلاف کرنے لگے) تو خدا نے (ان کی طرف) بشارت دینے والے اور ڈر سنانے والے پیغمبر بھیجے اور ان پر سچائی کے ساتھ کتابیں نازل کیں تاکہ جن امور میں لوگ اختلاف کرتے تھے ان کا ان میں فیصلہ کردے۔ اور اس میں اختلاف بھی انہیں لوگوں نے کیا جن کو کتاب دی گئی تھی باوجود یہ کہ ان کے پاس کھلے ہوئے احکام آچکے تھے (اور یہ اختلاف انہوں نے صرف) آپس کی ضد سے (کیا) تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھا دی۔ اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھا رستہ دکھا دیتا ہے
کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ (یوں ہی) بہشت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی تم کو پہلے لوگوں کی سی (مشکلیں) تو پیش آئی ہی نہیں۔ ان کو (بڑی بڑی) سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ (صعوبتوں میں) ہلا ہلا دیئے گئے۔ یہاں تک کہ پیغمبر اور مومن لوگ جو ان کے ساتھ تھے سب پکار اٹھے کہ کب خدا کی مدد آئے گی ۔ دیکھو خدا کی مدد (عن) قریب (آيا چاہتی) ہے
(اے محمدﷺ) لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کس طرح کا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ (جو چاہو خرچ کرو لیکن) جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ اور قریب کے رشتے داروں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور مسافروں کو (سب کو دو) اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے
(مسلمانو) تم پر (خدا کے رستے میں) لڑنا فرض کردیا گیا ہے وہ تمہیں ناگوار تو ہوگا مگر عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بھلی ہو اور عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمہارے لئے مضر ہو۔ اور ان باتوں کو) خدا ہی بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے
(اے محمدﷺ) لوگ تم سے عزت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان میں لڑنا بڑا (گناہ) ہےاور خدا کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ میں جانے) سے (بند کرنا) ۔ اور اہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا (جو یہ کفار کرتے ہیں) خدا کے نزدیک اس سے بھی زیادہ (گناہ) ہے۔ اور فتنہ انگیزی خونریزی سے بھی بڑھ کر ہے۔ اور یہ لوگ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر مقدور رکھیں تو تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں۔ اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر کر (کافر ہو) جائے گا اور کافر ہی مرے گا تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہوجائیں گے اور یہی لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں جس میں ہمیشہ رہیں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔