طہ · 127/135
ترجمہ تلفظ — طہ
وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي مَنْ أَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِن بِآيَاتِ رَبِّهِ ۚ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَشَدُّ وَأَبْقَىٰ ۝١٢٧
Wa kazaalika najzee man asrafa wa lam yu`mim bi Aayaati Rabbih; wa la`azaabul Aakhirati ashaddu wa abqaa
📖 اردو ترجمہ
اور جو شخص حد سے نکل جائے اور اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان نہ لائے ہم اس کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ اور آخرت کا عذاب بہت سخت اور بہت دیر رہنے والا ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَسْرَفَ: حد سے تجاوز کرنا، گناہوں میں غرق ہو جانا، ظلم و زیادتی کرنا۔
  • آیَاتِ رَبِّهِ: اپنے رب کی نشانیاں، دلائل اور احکام۔
  • أَشَدُّ: زیادہ سخت اور دردناک۔
  • أَبْقَىٰ: زیادہ دیرپا، دائمی اور کبھی ختم نہ ہونے والا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے عدل و انصاف کا ایک اہم اصول بیان فرما رہے ہیں کہ جس طرح ہم نے پہلے لوگوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑا اور انہیں سزا دی، اسی طرح ہم ہر اس شخص کو سزا دیں گے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے حد سے تجاوز کر جائے، اللہ کی نافرمانی میں غرق ہو جائے اور اپنے رب کی واضح نشانیوں اور دلائل پر ایمان لانے سے انکار کر دے۔ ایسے لوگوں کو دنیا میں بھی تنگی، پریشانی اور عذاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن یہ عذاب صرف دنیا تک محدود نہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آخرت کا عذاب اس سے کہیں زیادہ سخت، دردناک اور دائمی ہے۔ دنیا کا عذاب ختم ہو جاتا ہے، مگر آخرت کا عذاب کبھی ختم نہیں ہوگا، نہ اس میں کوئی کمی آئے گی اور نہ ہی اس سے نجات ممکن ہوگی۔ یہ عذاب ہمیشہ رہنے والا ہے، اس لیے عقلمند انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا کی چند روزہ خوشیوں کے لیے اپنی آخرت کو برباد نہ کرے۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں اللہ کے عدل کی یاد دلاتی ہے کہ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا، بلکہ انسان خود اپنے اعمال سے اپنا انجام خود تیار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے، توبہ کرنے والوں کو معاف فرما دیتا ہے، لیکن جو لوگ سرکشی اور انکار پر اصرار کریں، ان کے لیے اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی نشانیوں پر غور کریں، اس کی آیات پر ایمان لائیں اور اپنی زندگی کو اس کے احکام کے مطابق ڈھالیں تاکہ ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت شدید ہے، اس لیے ہمیں اپنے رب کی نافرمانی سے بچنا چاہیے اور اس کی اطاعت میں زندگی گزارنی چاہیے۔



📜 آیت 125-129 — طہ

125قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَىٰ وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا
وہ کہے گا میرے پروردگار تو نے مجھے اندھا کرکے کیوں اٹھایا میں تو دیکھتا بھالتا تھا
126قَالَ كَذَٰلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا ۖ وَكَذَٰلِكَ الْيَوْمَ تُنسَىٰ
خدا فرمائے گا کہ ایسا ہی (چاہیئے تھا) تیرے پاس میری آیتیں آئیں تو تونے ان کو بھلا دیا۔ اسی طرح آج ہم تجھ کو بھلا دیں گے
127وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي مَنْ أَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِن بِآيَاتِ رَبِّهِ ۚ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَشَدُّ وَأَبْقَىٰ
اور جو شخص حد سے نکل جائے اور اپنے پروردگار کی آیتوں پر ایمان نہ لائے ہم اس کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ اور آخرت کا عذاب بہت سخت اور بہت دیر رہنے والا ہے
128أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِي مَسَاكِنِهِمْ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّأُولِي النُّهَىٰ
کیا یہ بات ان لوگوں کے لئے موجب ہدایت نہ ہوئی کہ ہم ان سے پہلے بہت سے لوگوں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کے رہنے کے مقامات میں یہ چلتے پھرتے ہیں۔ عقل والوں کے لئے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں
129وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَأَجَلٌ مُّسَمًّى
اور اگر ایک بات تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے صادر اور (جزائے اعمال کے لئے) ایک میعاد مقرر نہ ہوچکی ہوتی تو (نزول) عذاب لازم ہوجاتا
طہقرآن فہرست
135آیت
مکیRevelation
127آیت

ترجمہ — طہ 127

سورہ طہ آیت 127 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو شخص حد سے نکل جائے اور اپنے پروردگار…

سورہ آیت 127/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 125–129. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں